کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
حدیث نمبر: 11171
عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرِينِي بِخُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} [القلم: 4] قُلْتُ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ قَالَتْ لَا تَفْعَلْ أَمَا تَقْرَأُ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21] فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وُلِدَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعد بن ہشام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سے آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: قرآن ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق تھا، کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ} … بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی اعلیٰ قدروں پر فائز ہیں۔ (سورۂ قلم: ۴) میں نے عرض کیا:میں تبتّل کی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہوں۔انھوں نے کہا: تم ایسا نہ کرو، کیا تم قرآن میں یہ نہیں پڑھتے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … (یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی اسوہ ٔ حسنہ ہے۔ (سورۂ احزاب:۲۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادیاں کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد بھی ہوئی۔
وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق قرآن مجید تھا، اس جملے کامفہوم یہ ہے کہ قرآن کریم نے جن جن باتوں کو مستحسن قرار دیا، ان کی تعریف کی اور ان کی طرف دعوت دی، وہ تمام باتیں اور امور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادات و اخلاق میں شامل تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11171
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25108»
حدیث نمبر: 11172
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ {إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} [القلم: 4] قَالَ قُلْتُ حَدِّثِينِي عَنْ ذَاكَ قَالَتْ صَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا وَصَنَعَتْ لَهُ حَفْصَةُ طَعَامًا فَقُلْتُ لِجَارِيَتِي اذْهَبِي فَإِنْ جَاءَتْ هِيَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَتْهُ قَبْلُ فَاطْرَحِي الطَّعَامَ قَالَتْ فَجَاءَتْ بِالطَّعَامِ قَالَتْ فَأَلْقَتْهُ الْجَارِيَةُ فَوَقَعَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ وَكَانَ نِطْعًا قَالَتْ فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اقْتَصُّوا (أَوْ اقْتَصِّي شَكَّ أَسْوَدُ) ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكِ فَمَا قَالَ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بنو سواء ۃ کے ایک فرد سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا، انہو ںنے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ} … بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی اعلیٰ قدروں پر فائز ہیں۔ (سورۂ قلم: ۴) وہ کہتاہے: میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس کی کچھ تفصیل بیان کریں، انہوں نے کہا:میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک کھانا تیار کیا اور ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا،میں نے اپنی خادمہ سے کہا کہ جاؤ اگر وہ کھانا لے کر آئے اور مجھ سے پہلے کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لا کر رکھے تو کھانا پھینک دینا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ کھانا لے کر آئیں تو خادمہ نے کھانا پھینک دیا،پیالہ گرکر ٹوٹ گیا، ایک چمڑا بطور دستر خوان بچھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکھرا ہوا کھانا دستر خوان سے جمع کیا اور فرمایا: تم اس کے عوض دوسرا برتن ادا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید کچھ نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11172
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لابھام الرجل من بني سواء ة الراوي عن عائشة، وشريك النخعي سييء الحفظ، اخرجه ابن ماجه: 2333 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25311»
حدیث نمبر: 11173
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا (وَفِي لَفْظٍ يُخَالِطُنَا) وَكَانَ لِي أَخٌ صَغِيرٌ (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ) وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ لَهُ مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور ہمارے ساتھ گھل مل جاتے، میرا ایک چھوٹا بھائی تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرلیا کرتے تھے اور اسے ہنسایا کرتے تھے، اس نے ایک بلبل پال رکھا تھا اور وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، وہ مر گیا، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو اسے غمگین دیکھاا ور فرمایا: ابو عمیر کو کیا ہوا، یہ غمگین کیوں ہے؟ گھر والوں نے بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! یہ جس بلبل کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، وہ مر گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو عمیر! بلبل نے کیا کیا؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11173
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 6203، ومسلم: 659 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12161»
حدیث نمبر: 11174
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ قَالَ أَنَسٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ فَطِيمًا فَقَالَ وَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ قَالَ فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ ثُمَّ يُنْضَحُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُومُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا قَالَ وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) ابو تیاح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑھ کر اچھے اخلاق کے مالک تھے، میرا ایک بھائی تھا، جسے ابوعمیر کہاجاتا تھا، ابو تیاح کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتلایا کہ ابھی اس کا دودھ چھڑایا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لاتے اور اسے دیکھ کر فرماتے: اے ابو عمیر! بلبل کہاں ہے؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ بلبل ایک پرندہ تھا، جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر ہی ہوتے اور نماز کا وقت ہو جاتا تو جو چٹائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کے متعلق حکم فرماتے کہ اسی کو صاف کرکے اس پر پانی کے چھینٹے مار دیئے جائیں، پھر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے، وہ چٹائی کھجور کے پتوں کی ہوتی ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا چھوٹا اور مادری بھائی تھی، اس کی کنیت ابو عمیر اور نام عبد اللہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11174
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13241»
حدیث نمبر: 11175
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ جَبْذَةً حَتَّى رَأَيْتُ صَفْحَ أَوْ صَفْحَةَ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَعْطِنِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موٹے حاشیہ والی ایک نجرانی چادر زیب تن کیے ہوئے تھے، ایک بدو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چادر سے پکڑ کر اتنے زور سے کھینچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن پر چادر کے نشانات نمایاں نظر آنے لگے۔ اس بدو نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہے، مجھے بھی اس میں سے عطا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیئے اور اسے کچھ عطیہ دینے کا حکم صادر فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … امت مسلمہ کے مذہبی اور سیاسی سربراہان کے لیے اس سے بڑا سبق کیا ہو سکتا ہے کہ ایک بدو نہ صرف دونوں جہانوں کے سردار تک رسائی حاصل کر لیتا ہے، بلکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر بدسلوکی اختیار کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً مسکرا بھی دیتے ہیں اور کچھ عطیہ دینے کا حکم بھی دے دیتے ہیں،یہ کمال کا حسن اخلاق، بردباری اور صبر ہے، لیکن اس دور میں مذہبی پیشوا ہو یا سیاسی رہنما، غریبوں کا تو ان تک پہنچنا ہی ناممکن ہو گیا ہے، بلکہ اس قسم کے لوگوں سے ملاقات کرنے کو بڑوں کی توہین سمجھا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3149، 5809، ومسلم: 1057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12576»
حدیث نمبر: 11176
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلًا مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَعْطُونِي رِدَائِي فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا كَذَّابًا وَلَا جَبَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چلے جا رہے تھے، یہ حنین سے واپسی کا واقعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کچھ دوسرے لوگ بھی تھے، اسی دوران دیہاتی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آ چمٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مال مانگنے لگے اور آپ کو زور سے (کیکریا ببول کے) ایک خاردار درخت کی طرف کھینچے لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اتر گئی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور فرمایا: میری چادر تو مجھے دے دو، اگر ان کانٹوں کے برابر بھی جانور ہوتے تو میں ان کو تقسیم کر دیتا پھر تم مجھے بخیل، جھوٹا یا بزدل نہیں پاؤ گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11176
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16756 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16878»
حدیث نمبر: 11177
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِالصِّبْيَانِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ وَإِنَّهُ قَدِمَ مَرَّةً مِنْ سَفَرٍ قَالَ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ قَالَ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ إِمَّا حَسَنٍ وَإِمَّا حُسَيْنٍ فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے بچوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملایا جاتا، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے اور مجھے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سواری پر اپنے آگے بٹھا لیا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ میں سے کسی ایک کو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے پیچھے بیٹھا لیا، پھر ہم اس طرح تین آدمی ایک سواری پر سوار ہو کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن آجکل بچے بڑی عمر کے لوگوں کے پیار کو ترستے ہیں، اپنے بیٹوں سے پیار کر لینے میں کوئی کمال نہیں، کمال اس میں ہے کہ تمام بچوں سے بلا امتیاز محبت کی جائے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11177
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1743»
حدیث نمبر: 11178
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَعَمْ فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیںیاد ہے کہ جب میں، آپ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ، ہم تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا کر ملے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں یا د ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سواری پر اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا اور تمہیں رہنے دیاتھا۔امام احمد کے شیخ اسمعیل بن علیہ نے ایک دفعہ یوں روایت کیا: کیا تمہیںیاد ہے جب میں، آپ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ آگے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے تھے؟ انہوں نے کہاں! جی ہاں یاد ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11178
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3082،ومسلم: 2427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1742»
حدیث نمبر: 11179
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَكَانَ يَقُولُ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عادۃًیا تکلفاً فحش گو نہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے، جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11179
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6029،ومسلم: 2321 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6504»
حدیث نمبر: 11180
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ أَوْ ضَيَّعْتُهُ فَلَامَنِي فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ دَعُوهُ فَلَوْ قُدِّرَ أَوْ قَالَ لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی۔ (ایک روایت میں نو سال کا ذکر ہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو حکم بھی دیا اور پھر مجھ سے اس بارے میں کوتاہی ہو گئییا نقصان ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ملامت نہیں کی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں سے کسی نے بھی مجھے برابھلا کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اسے چھوڑ دو،اگر ایسا ہونا مقدر میں ہے تو وہ ہو کر رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہو جانے والے نقصان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقدیر کی طرف منسوب کر کے بچے کو تسلی دے دیتے۔
دس سال کے طویل عرصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت کرنے والے ایک بچے کو ملامت تک نہیں کیا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا در گزر کرنے کا پہلو تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی جان کے پیاسوں اور اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دینے والے تھے، اب ہمارا اپنے خادموں اور نوکروں کے ساتھ کیساسلوک ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11180
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13451»
حدیث نمبر: 11181
عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا فَحَّاشًا كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت کرنے والے اور فحش گو نہیں تھے، جب کسی کو ڈانٹنا ہوتا تو صرف اتنا کہتے کہ اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ اس کلمہ سے مراد بد دعا نہیں ہے، بلکہ اگلے بندے کو متنبہ کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11181
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6031، 6046 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12636»
حدیث نمبر: 11182
قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: او دو کانوں والے۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے کان چھوٹے یا بڑے ہوں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاص صفت کی بنا پر ان کو اس صف سے پکارا ہو، اس اعتبار سے یہ ہلکا سا مذاق ہو گا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات زیادہ توجہ سے سنتے ہوں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں تعریفی کلمات کہے ہوں اور اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اس بات پر متنبہ کرنا چاہتے ہوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سننے کے لیے تیار رہا کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11182
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، اخرجه ابوداود: 5002، والترمذي: 1992، 3828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13578»
حدیث نمبر: 11183
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَا حَجَبَنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جب سے مسلمان ہوا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس آنے سے مجھے کبھی نہیں روکا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی مجھے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11183
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3035، 6089،ومسلم: 2475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19387»
حدیث نمبر: 11184
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا يُؤْتَى إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا سُئِلَ شَيْئًا قَطُّ فَمَنَعَهُ إِلَّا أَنْ يُسْأَلَ مَأْثَمًا فَإِنَّهُ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کسی مسلمان کا نام لے کر اس پر لعنت نہیں کی، نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ کی گئی بدسلوکی کا انتقام لیا، الایہ کی اللہ تعالیٰ کی حدود پامال ہوتی ہوں،نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو اپنے ہاتھ سے مارا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ کا مسئلہ ہو، آپ سے جب بھی کوئی چیز طلب کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی اس کا انکار نہیں کیا، الایہ کی وہ بات گناہ والی ہوتی، اگر گناہ والی بات ہوتی تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے اور جب بھی آپ کو دوباتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے اس صورت کا انتخاب کرتے، جو ان میں سے آسان تر ہوتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کرکے فارغ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑی ہوئی ہو اسے بھی زیادہ سخی ہوتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11184
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث ضعيف بھذه السياقة، حماد بن زيد شك في ھذا الاسناد، والنعمان بن راشد ضعيف سييء الحفظ، أخرجه النسائي: 4/125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25499»