کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کے سفید ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 11143
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَفِي الْعَنْفَقَةِ وَفِي الرَّأْسِ وَفِي الصُّدْغَيْنِ شَيْئًا لَا يُكَادُ يُرَى وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۱۰)، اس حدیث والے باب اور اس سے اگلے باب میں مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 11144
عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ كُنَّا غِلْمَانًا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ نَكُنْ نُحْسِنُ نَسْأَلُهُ فَقُلْتُ أَشَيْخًا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حریز بن عثمان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بچے تھے اور صحابی ٔ رسول سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے تھے اور ہم ان سے اچھے انداز میں سوال و جواب نہیں کرسکتے تھے۔ میں نے عرض کیا: آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا: بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داڑھی بچہ میں چند سفید بال تھے۔
حدیث نمبر: 11145
عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ تَتَبَيَّنْ وَإِذَا لَمْ يَدْهَنْهُ تَتَبَيَّنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سماک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر میں چند سفید بال تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیل لگاتے تو وہ نمایاں نہ ہوتے تھے اور جب تیل نہ لگایا ہوتا تو وہ نظر آتے تھے۔
حدیث نمبر: 11146
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ شَعْرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیس کے قریب بال سفید تھے۔
حدیث نمبر: 11147
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ ابْنٌ لِي فَقَالَ ”ابْنُكَ هَذَا؟“ قُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ ”لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ“ قَالَ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، میرا بیٹا بھی میرے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیایہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں (کہ یہ واقعی میرا بیٹا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے جرم کا وبال دوسرے پر نہیں آتا۔ ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفید بالوں کو سرخ دیکھا۔
وضاحت:
فوائد: … باپ اور بیٹا، ان میں ہر ایک اپنے جرم کا ذمہ دار خود ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے گناہ کی وجہ سے دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔
حدیث نمبر: 11148
(وَعَنْهُ) قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ بِرَأْسِهِ رِدْعَ حِنَّاءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اپنے والدکے ہمراہ روانہ ہوا، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بالوں میں مہندی کا رنگ دیکھا۔
حدیث نمبر: 11149
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم بوٹی سے رنگے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 11150
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّوَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْأَبْطَحِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَارَّةِ الطَّرِيقِ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ بِعَنْفَقَتِهِ أَسْفَلَ مِنْ شَفَتِهِ السُّفْلَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو جحیفہ وہب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابطح کے مقام پر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں عصر کی نماز دو رکعتیں ادا کیں اور اپنے سامنے اور گزرنے والوں کے درمیان ایک نیزہ گاڑھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے داڑھی بچہ میں کچھ سفید بال بھی دیکھے۔