حدیث نمبر: 11131
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قِيلَ لِلْبَرَاءِ أَكَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيدًا هَكَذَا مِثْلَ السَّيْفِ قَالَ لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الْقَمَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو اسحاق کا بیان ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ انور تلوار کی مانند لمبا اور چمک دار تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی طرح تابناک اور گول تھا۔
حدیث نمبر: 11132
عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَإِذَا ادَّهَنَ وَمَشَطَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعْرِ وَاللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ قَالَ لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ مُسْتَدِيرًا قَالَ وَرَأَيْتُ خَاتَمَهُ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سماک سے روایت ہے کہ انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی اور سر کے اگلے حصہ کے بال سفید ہونے لگے تھے، جب آپ تیل لگا کر کنگھی کر لیتے تو ان کی رنگت نمایاں نہ ہوتی تھی، لیکن جب نہ تیل لگایا ہوتا اور نہ کنگھی کی ہوتی تو وہ سفیدبال نمایاں ہو جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سراور داڑھی کے بال گھنے تھے۔ ایک آدمی نے کہا کہ آپ کا چہرہ تلوار کی مانند لمبا اور چمک دار تھا؟ لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، تلوار کی طرح نہیں تھا، بلکہ سورج اور چاند کی طرح روشن اور گول تھا۔ سیدناجابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر نبوت کو آپ کے کندھے کے قریب دیکھا، وہ کبوتری کے انڈے کے برابر باقی جسم کے مشابہ تھی۔
حدیث نمبر: 11133
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں کے نصف تک لمبے تھے۔
حدیث نمبر: 11134
قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَعْرٌ يُصِيبُ وَفِي رِوَايَةٍ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال آپ کے کاندھوں تک لمبے تھے۔
حدیث نمبر: 11135
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ شَعْرُهُ رَجِلًا لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی بابت دریافت کیاتو انھوں نے کہا: آپ کے بال نہ سخت گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے، بلکہ قدرے خمیدہ تھے، آپ کے بال کندھوں اور کانوں کے درمیان ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 11136
عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ شَعْرًا أَشْبَهَ بِشَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَعَرِ قَتَادَةَ فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا:میں نے قتادہ کے بالوں سے بڑھ کر کسی کے بالوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کے مشابہ نہیں دیکھا۔اس دن قتادہ بہت زیادہ خوش تھے۔
حدیث نمبر: 11137
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ أُذُنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال طوالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں سے نہیں بڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: یہ حدیث، اس حدیث کے الٹ ہے، جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں تک ہوتے تھے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کانوں کی لو تک رہتے تھے، اگر ان کوسیدھا کیا جاتا تو وہ کندھے تک پہنچ جاتے، یا پھر ان دو احادیث کو دو حالتوں پر محمول کیا جائے گا۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۷۲)
حدیث نمبر: 11138
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ کسی ایسے آدمی کو جس کے بال کندھوں تک طویل ہوں اور وہ سرخ لباس زیب تن کیے ہوئے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیسو کندھوں تک ہوتے، کندھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ تھا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ کشادہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد نہ بہت پست تھا، نہ بہت زیادہ طویل ۔
حدیث نمبر: 11139
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْجُمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے تک ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … عربی میں سر کے لمبے بالوں کے لیے تین لفظ استعمال کیے جاتے ہیں: جُمّہ: وہ بال جو کندھوں تک ہوں یا کندھوں کو چھو رہے ہوں۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔
حدیث نمبر: 11140
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَهُ عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیانیعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔
حدیث نمبر: 11141
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … کتم: یمن میں پائی جانے والی ایک بوٹی ہے، یہ سرخی مائل سیاہ رنگ نکالتی ہے، جبکہ مہندی کا رنگ سرخ ہوتا ہے، اگر کتم اور مہندی کو ملایا جائے تو سیاہی اور سرخی کا درمیانہ رنگ نکلتا ہے، جس کو ہم (رضی اللہ عنہما صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم r رحمتہ اللہ علیہ رضی اللہ عنہ rown)کہتے ہیں۔
خلاصہیہ ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں کو وہ رنگ نہیں لگایا جا سکتا جو واضح طور پر کالا نظر آتا ہو، مزید وضاحت کے لیے اگلا باب ملاحظہ ہو۔
خلاصہیہ ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں کو وہ رنگ نہیں لگایا جا سکتا جو واضح طور پر کالا نظر آتا ہو، مزید وضاحت کے لیے اگلا باب ملاحظہ ہو۔
حدیث نمبر: 11142
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مَرَّةً وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار مینڈھیاں تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … بچوں کے بال قابو میں رکھنے کے لیے تو ان کی مینڈھیاں بنا دینا عام تھا، اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ بڑے مرد بھی مینڈھیاں بنا سکتے ہیں۔