کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
حدیث نمبر: 11069
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دینار، درہم، بکری اور اونٹ ترکہ میں کچھ نہیں چھوڑا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی کسی چیز کے بارے میں کوئی وصیت کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11069
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1635 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24679»
حدیث نمبر: 11070
عَنْ سُفْيَانَ وَإِسْحَاقَ يَعْنِي الْأَزْرَقَ قَالَ ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ قَالَ إِسْحَاقُ ابْنُ الْمُصْطَلِقِ يَقُولُ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سِلَاحَهُ وَبَغْلَةً بَيْضَاءَ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن الحارث بن مصطلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اسلحہ، سفید خچر اور کچھ زمین چھوڑی تھی اور ان کی حیثیت بھی صدقہ کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … انبیائے کرام اور رسلِ عظام کی چھوڑی ہوئی میراث پر صدقہ کا حکم لگایا جاتا ہے، جیسا کہ اگلی احادیث میں آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11070
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 912، 2873 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18649»
حدیث نمبر: 11071
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي تُدْعَى الْمُلَبَّدَةَ قَالَ بَهْزٌ تَدْعُونَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا، انہوں نے ہمیںیمن میں تیار ہونے والی ایک موٹی سی چادر اور ایک ایسی چادر نکال کر دکھائی جسے تم لوگ مُلَبَّدَۃ کہتے ہو اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دو چادریں زیب تن کئے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11071
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2080، وابوداود!: 4036 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25511»
حدیث نمبر: 11072
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑکر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11072
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6730، ومسلم: 1758 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26790»
حدیث نمبر: 11073
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْتُ بَعْدَ مَئُونَةِ عَامِلِي وَنَفَقَةِ نِسَائِي صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم جو انبیاء کی جماعت ہیں،ہمارا کوئی وارث نہیں بنتا، میں اپنے عاملوں اور بیویوں کے اخراجات کے بعد جو کچھ چھوڑوں، وہ صدقہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … مزید احادیث اور مسئلہ کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۶۳۴۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11073
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2776، 3096، 6729، ومسلم: 1760 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9973»
حدیث نمبر: 11074
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ دِرْعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرْهُونَةً مَا وَجَدَ مَا يَفْتَكُّهَا حَتَّى مَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زرہ کسی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک اتنی گنجائش نہیں تھی کہ آپ اسے واپس لے سکتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11074
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح أخرجه الترمذي في الشمائل : 326 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12016»
حدیث نمبر: 11075
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ وَقَالَ مَرَّةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ وَمَئُونَةِ عَامِلِي قَالَ يَعْنِي عَامِلَ أَرْضِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ورثاء دینار اور درہم تقسیم نہیں کریں گے، میں اپنی ازواج کے نان و نفقہ اور اپنے زرعی رقبہ پر مقرر کردہ عامل کے اخراجات کے بعد جو کچھ چھوڑ جاؤں، وہ صدقہ ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11075
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2776، 3096، 6729، ومسلم: 1760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7301»
حدیث نمبر: 11076
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكَ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ وَإِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فدک والی زمین اور خیبر والے حصہ میں سے اپنا میراث والا حق طلب کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتاہے۔ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مال میں سے کھاتے رہیں گے، اللہ کی قسم! میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کام جس طرح کرتے دیکھا، میںبھی ویسے ہی کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کی کفالت کی جائے گی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکے کا کوئی حصہ ان کو بطورِ میراث نہیں دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11076
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4035، 6725، ومسلم: 1759 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9»
حدیث نمبر: 11077
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دخترِ رسول سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مالِ فے والے حصے، فدک اور خیبر والے خمس کے بقیہ حصہ سے اپنا حصہ طلب کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دنیوی طور پر کوئی ہمارا وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں سے کھا سکتے ہیں۔ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس صدقہ کی جو حالت اور کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں تھی، میںاس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کروں گا اور میں بھی اس میں اسی طرح عمل کروں گا، جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل کرتے تھے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کر دیا، اس وجہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دل میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میںکچھ ناراضگی اورغصہ آگیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے اپنے رشتہ داروں کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ داروں کی صلہ رحمی زیادہ محبوب ہے، مگر اس مال کے سلسلہ میں میرے اور آپ کے درمیان جو رنجش آگئی ہے تو حقیقتیہی ہے کہ میں نے اس بارے میں راہِ صواب سے ذرہ بھی انحراف نہیں کیا اور میں نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو عمل کرتے دیکھا ہے میں نے اسے نہیں چھوڑا بلکہ میں نے بھی اسی طرح کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11077
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4240، 4241، ومسلم: 1759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 55 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 55»
حدیث نمبر: 11078
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ قَالَ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكَ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ وَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ الْيَوْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث سابق روایت کی مانند مروی ہے، البتہ اس میں تفصیل اس طرح ہے:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہو گئیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قطع تعلق کر لیا اور یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہی تھیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیبر والے اور فدک والے اور مدینہ میں موجود حصے سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتی تھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو حصہ دینے سے انکار کیا اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح کیا کرتے تھے، میں بھی اسی طرح کروں گا اور اس میں سے کسی بھی عمل کو ترک نہیں کروں گا، مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرز عمل میں سے کچھ بھی چھوڑ دیا تو میں راہ راست سے بھٹک جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو صدقہ یعنی مال مدینہ منورہ میں تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا اور اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غالب آگئے تھے۔ البتہ خیبر اور فدک والے حصوں کو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کنٹرول میں ہی رکھا اور کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے صدقہ ہیں،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش آنے والی ضروریات اور حقوق کے لیے تھے، ان کا انتظام اور کنٹرول حاکمِ وقت کے پاس رہے گا، وہ اب تک اسی طرح چلے آرہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11078
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25»
حدیث نمبر: 11079
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَا بَلْ أَهْلُهُ قَالَتْ فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طَعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَتْ فَأَنْتَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث آپ ہیںیا ان کے اہل خانہ ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ ہی ہیں ،سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مال فے میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا حصہ کہاں ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کچھ عطا فرماتا ہے پھر نبی کی وفات ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کا نائب ہی اس چیز کا حق دار ہوتا ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس حصہ کو مسلمانوں کی طرف لوٹا دوں تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر کہا آپ ہی بہتر جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا ہے یا نہیں؟
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل روایت اس حدیث کا شاہد ہے: سیدنا سعد بن تمیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ِللْخَلِیْفَۃِ مِنْ بَعْدِکَ؟ قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْ لِیْ مَا عَدَلَ فِیْ الْحُکْمِ وَاَقْسَطَ فِیْ الْقِسْطِ وَرَحِمَ ذَا الرَّحِمِ۔)) … کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے بعد خلیفہ کا کیا حق ہو گا؟ جب تک وہ فیصلہکرنے میں انصاف کرے اور رشتہ دار پر رحم کرے تو اس کے لیے وہی حق ہو گا، جو میرے لیے ہے۔ (التاریخ الکبیر للبخاری: ۴/ ۴۶)
حافظ ابن کثیر نے مسند احمد سے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد کہا: اس کے متن میں غرابت اور نکارت پائی جاتی ہے، ممکن ہے کہ یہ روایت بالمعنی ہو اور بعض راویوں کو سمجھ نہ آئی ہو، جبکہ اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں، جن میں شیعیت پائی جاتی ہے، اس نقطے کا علم ہونا چاہیے، اس معاملے میں سب سے بہتر یہ الفاظ ہیں: انت وما سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یہی الفاظ زیادہ درست اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حکم، سیادت، علم اور دین کے لائق ہیں۔ (البدایۃ: ۵/ ۲۸۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11079
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2973 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14»
حدیث نمبر: 11080
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ الْوَحْيُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالعزیز بن رُفیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور شداد بن معقل ہم دونوں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف یہ چیز چھوڑ کر گئے ہیں جو ان دو گتوں کے درمیان ہے۔ ( یعنی قرآن کریم) اور ہم محمد بن علی کی خدمت میں گئے تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا، عبدالعزیز نے کہا کہ مختار بن ثقفی کہا کرتا تھا کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ قَالَ: لَمْ یَتْرُکِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلَا بَیْنَ الدَّفَّتَیْنِ (اس آدمی کا بیان کہ جس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں چھوڑا، مگر وہ چیز جو دو گتوں کے درمیان ہے)
حافظ ابن حجر نے کہا: دراصل یہ باب ان لوگوں پر ردّ ہے، جن کا نظریہیہ ہے کہ حاملین قرآن کی شہادت اور موت کی وجہ سے قرآن مجید کا بہت زیادہ حصہ ضائع ہو گیا، جبکہ یہ ایسا نظریہ ہے، جو رافضیوں نے گھڑا، تاکہ وہ اپنے اس دعوی کو سچا ثابت کر سکیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت یہ بات مسلم تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو امامت و خلافت ملے گی اور یہ حقیقت قرآن مجید میں بھی موجود تھی، لیکن صحابہ نے اس کو چھپا لیا،یہ ایک باطل دعوی ہے، کیونکہ صحابہ نے کچھ نہیں چھپایا۔ (فتح الباری)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11080
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5019 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1909»