کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ وفات کی تعیین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدتِ عمر کا بیان
حدیث نمبر: 11063
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَتُوُفِّيَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے، سوموار کے دن نبوت ملی اور سوموار کو ہی وفات پائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سوموار کو نکلے اور سوموار کو ہی مدینہ منورہ پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوموار کے دن ہیحجرِ اسود کو اٹھایا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت سوموار کو ہوئی،یہ متفق علیہ حقیقت ہے، البتہ قمری مہینے کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے، کئی اقوال مذکور ہیں، ان میں دو اقوال درج ذیل ہیں: (۱) … ربیع الاول کی (۹) تاریخ
ابن عبد البر نے نقل کیا کہ مؤرخین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا، محمد بن موسی خوارزمی کے نزدیکیہی قطعی اور یقینی قول ہے، ابن حزم نے اسی کو ترجیح دی اور ابو خطاب بن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر فی مولد البشیر النذیر میں اسی رائے کو اختیار کیا۔
(۲) … ربیع الاول کی (۱۲) تاریخ
یہ ابن اسحاق کی رائے ہے۔
پہلا قول یہی راجح ہے اور یہ وہی سال تھا، جس میں ابرہہ نے مکے پر حملہ کیا تھا، جس کو عام الفیل کہتے ہیں، اس روز اپریل (571ئ) کی (22) تاریخ تھی۔
ابن عبد البر نے نقل کیا کہ مؤرخین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا، محمد بن موسی خوارزمی کے نزدیکیہی قطعی اور یقینی قول ہے، ابن حزم نے اسی کو ترجیح دی اور ابو خطاب بن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر فی مولد البشیر النذیر میں اسی رائے کو اختیار کیا۔
(۲) … ربیع الاول کی (۱۲) تاریخ
یہ ابن اسحاق کی رائے ہے۔
پہلا قول یہی راجح ہے اور یہ وہی سال تھا، جس میں ابرہہ نے مکے پر حملہ کیا تھا، جس کو عام الفیل کہتے ہیں، اس روز اپریل (571ئ) کی (22) تاریخ تھی۔
حدیث نمبر: 11064
عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي حَبْرٌ بِالْيَمَنِ إِنْ كَانَ صَاحِبُكُمْ نَبِيًّا فَقَدْ مَاتَ الْيَوْمَ قَالَ جَرِيرٌ فَمَاتَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یمن میں ایک یہودی عالم نے مجھ سے کہا کہ اگر تمہارا ساتھی سچا نبی تھا تو آج ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے دن فوت ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی ادب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کئی پیشین گوئیاں موجود تھیں اور وہ ان کے سامنے برحق ثابت ہوئیں، کتنی حیران کن بات ہے کہ پھر بھی ان لوگوں نے ہدایت کو قبول نہیں کیا۔ اس ضمن میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا ایمان لانے کا واقعہ انتہائی سبق آموز ہے۔
حدیث نمبر: 11065
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال پینسٹھ برس کی عمر میں ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … امام بیہقی نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے کثیر اور ثقہ شاگردوں کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر تریسٹھ برس تھی اور ان ہی کی روایت اس باب کی صحیح روایت کے موافق ہے، جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی دو روایتوں میں سے ایک کے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کیروایت کے موافق ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر تریسٹھ برس تھی)۔ (دلائل النبوۃ: ۷/ ۲۴۱) سیدنا معاویہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کی روایات کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 11066
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ فَمَكَثَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَقُبِضَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی کا آغاز ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک تینتالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے مکہ مکرمہ میں دس سال اور مدینہ منورہ دس سال قیام کیا اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری سند کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے الفاظ درج ذیل ہے: بُعِثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَوْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ وَہُوَ ابْنُ أَرْبَعِینَ سَنَۃً، فَمَکَثَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرَ سِنِینَ، قَالََ: فَمَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّینَ۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
ایک حدیث میں چالیس سال کی عمر میں نزولِ وحی کا ذکر ہے اور دوسری میں تینتالیس برس کا؟ جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ دوسری حدیث میں فترہ وحی کا زمانہ شمار نہیں کیا گیا، وگرنہ وحی کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چالیس برس کی عمر میں ہی ہوا تھا۔
ایک حدیث میں چالیس سال کی عمر میں نزولِ وحی کا ذکر ہے اور دوسری میں تینتالیس برس کا؟ جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ دوسری حدیث میں فترہ وحی کا زمانہ شمار نہیں کیا گیا، وگرنہ وحی کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چالیس برس کی عمر میں ہی ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 11067
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تریسٹھ برس کی عمر میں انتقال ہوا۔
حدیث نمبر: 11068
جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ قَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا الْيَوْمَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو خطبہ میںیوں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تریسٹھ سال کی عمر میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات بھی تریسٹھ سال کی عمر میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال بھی تریسٹھ سال کیعمر میں ہوا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مزید کہا کہ اب میری عمر بھی تریسٹھ سال ہو چکی ہے۔