کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور بعد از وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
حدیث نمبر: 11054
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَقْبُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَنْ يُقْبَرَ نَبِيٌّ إِلَّا حَيْثُ يَمُوتُ“ فَأَخَّرُوا فِرَاشَهُ وَحَفَرُوا لَهُ تَحْتَ فِرَاشِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن جریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بتلایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں دفن کریں،یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ نبی جہاں فوت ہوتا ہے، اسے وہیں دفن کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر کو ہٹا کر اسی کے نیچے والی جگہ کو قبر کے لیے کھودا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ وجہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں ہی بنائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو دیکھ کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفنا دیا گیا، بعد میں مسجد ِ نبوی کی توسیع کی گئی۔
حدیث نمبر: 11055
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ فَقَالُوا نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا فَبَعَثَ إِلَيْهِمَا فَأَيُّهُمَا سُبِقَ تَرَكْنَاهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ فَأَلْحَدُوا لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو مدینہ منورہ میں ایک آدمی لحد والی یعنی بغلی قبر بناتا تھا اور دوسرا صندوقی یعنی شق والی قبر بناتا تھا، صحابۂ کرام نے مشورہ کیا کہ اس بارے میں ہم اللہ تعالیٰ سے استخارہ ( یعنی خیر طلب) کرتے ہیں اور ہم ان دونوں کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلواتے ہیں، جو پیچھے رہ گیا ہم اسے رہنے دیں گے، سو دونوں کی طرف پیغام بھیجا گیا اور لحد والی قبر بنانے والا پہلے آگیا، پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد تیار کی۔
حدیث نمبر: 11056
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُلْحِدَ لَهُ لَحْدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد تیار کی گئی تھی۔
حدیث نمبر: 11057
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کئے جانے کا علم نہ ہو سکا تاآنکہ ہم نے بدھ کے دن رات کے وقت گینتیوں کی آوازیں سنیں۔ صاحب ِ مغازی محمد بن اسحاق نے بیان ہے کہ مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی زوجہ فاطمہ بنت محمد نے بیان کی ۔
حدیث نمبر: 11058
(وَعَنْهَا أَيْضًا) قَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سوموار کے دن ہوئی تھی اور تدفین بدھ کی رات کو۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوشنبہ کے دن، ۱۲ ربیع الاول سنہ ۱۱ ہجری کو وفات پائی، اس حادثۂ دل فگار کی خبر صحابۂ کرام میں فوراً پھیل گئی اور ان پر دنیا تاریک ہو گئی اور قریب تھا کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھتے، اُدھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر مسجد میں یہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک وفات نہیں پائیں گے، جب تک کہ اللہ تعالیٰ منافقین کو فنا نہ کر دے اور اس شخص کو کاٹنے اور قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے جو یہ کہے کہ آپ وفات پا گئے ہیں، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک ہلکی سی تقریر کی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر دلالت کرنے والی آیات تلاوت کیں، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا فیصلہ قبول کر لیا، پھر خلافت اور جانشینی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا، مختلف دھڑوں میں اس موضوع پر بحث و گفتگو ہونے لگی اور سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی۔ اس قسم کے حالات کی وجہ سے سوموار کا باقی دن اور منگل کی رات گزر گئی، منگل کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑے اتارے بغیر غسل دیا گیا، بیچ میں قبر کھودنے کا مسئلہ بھی پیش آیا اور اس کو حل کیا گیا، جیسا کہ پچھلی احادیث میں بیان ہو چکا ہے، تجہیز و تکفین کے بعد صحابۂ کرام مختلف ٹولیوں کی صورت میں نماز جنازہ ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ منگل کا پورا دن اور بدھ کی بیشتر رات گزر گئی اور اسی رات کے اواخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد پاک کو سپردِ خاک کیا گیا۔
حدیث نمبر: 11059
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے اندر ایک سرخ رنگ کی چادر رکھی گئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … کیا قبر میں میت کے نیچے چادر یا چٹائی وغیرہ بچھانا درست ہے؟
امام نووی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا شقران رضی اللہ عنہ نے یہ چادر قبر میں بچھائی اور اس کے بارے میں کہا: کَرِھْتُ اَنْ یَّلْبَسَھَا اَحَدٌ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ … میںنےیہ بات ناپسند کی کہ کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ چادر پہنے (اس لیے میں نے اس کو قبر میں بچھا دیا)۔ (بیہقی: ۳/ ۴۰۸) امام شافعی اور ہمارے تمام اصحاب اور دوسرے اہل علم نے یہی وضاحت کی ہے کہ قبر میں میت کے نیچے کوئی چادر، گدا اور تکیہ وغیرہ رکھنا مکروہ ہے، البتہ ہمارے اصحاب میں سے امام بغوی نے اپنی کتاب التھذیب میں ایک شاذ رائے دیتے ہوئے کہا: اس حدیث کی روشنی میں ایسا عمل کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ ایسی چادر بچھانا مکروہ ہے، جیسا کہ جمہور اہل علم کا خیال ہے، اِن اہل علم نے اس حدیث کا جواب دیتے ہوئے کہا: یہ سیدنا شقران رضی اللہ عنہ کا فعل ہے اور انھوں نے ناپسند کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو چادر بچھایا اور پہنا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی آدمی وہ چادر زیب ِ تن کرے، اس صحابی کا ضمیر اس بات پر راضی نہیں ہو سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس چادر کو پہنا جائے، جبکہ دوسرے صحابہ نے اُن کی مخالفت بھی کی ہے، جیسا امام بیہقی (۳/ ۴۰۸) نے روایت کیا کہ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مکروہ اور ناپسندیدہ ہے کہ قبر میں میت کے نیچے کوئی کپڑا رکھا جائے۔ واللہ اعلم۔ (شرح مسلم: ۷/ ۳۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں قبر میں کوئی کپڑا اور چٹائی وغیرہ بچھانے کا اہتمام نہیں کیا، لہذا اسی فعلی سنت کا پابند رہنا چاہیے۔
امام نووی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا شقران رضی اللہ عنہ نے یہ چادر قبر میں بچھائی اور اس کے بارے میں کہا: کَرِھْتُ اَنْ یَّلْبَسَھَا اَحَدٌ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ … میںنےیہ بات ناپسند کی کہ کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ چادر پہنے (اس لیے میں نے اس کو قبر میں بچھا دیا)۔ (بیہقی: ۳/ ۴۰۸) امام شافعی اور ہمارے تمام اصحاب اور دوسرے اہل علم نے یہی وضاحت کی ہے کہ قبر میں میت کے نیچے کوئی چادر، گدا اور تکیہ وغیرہ رکھنا مکروہ ہے، البتہ ہمارے اصحاب میں سے امام بغوی نے اپنی کتاب التھذیب میں ایک شاذ رائے دیتے ہوئے کہا: اس حدیث کی روشنی میں ایسا عمل کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ ایسی چادر بچھانا مکروہ ہے، جیسا کہ جمہور اہل علم کا خیال ہے، اِن اہل علم نے اس حدیث کا جواب دیتے ہوئے کہا: یہ سیدنا شقران رضی اللہ عنہ کا فعل ہے اور انھوں نے ناپسند کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو چادر بچھایا اور پہنا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی آدمی وہ چادر زیب ِ تن کرے، اس صحابی کا ضمیر اس بات پر راضی نہیں ہو سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس چادر کو پہنا جائے، جبکہ دوسرے صحابہ نے اُن کی مخالفت بھی کی ہے، جیسا امام بیہقی (۳/ ۴۰۸) نے روایت کیا کہ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مکروہ اور ناپسندیدہ ہے کہ قبر میں میت کے نیچے کوئی کپڑا رکھا جائے۔ واللہ اعلم۔ (شرح مسلم: ۷/ ۳۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عہد ِ مبارک میں قبر میں کوئی کپڑا اور چٹائی وغیرہ بچھانے کا اہتمام نہیں کیا، لہذا اسی فعلی سنت کا پابند رہنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 11060
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ میری قبر کو عید بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کی نیت سے خصوصی سفر نہ کیا جائے، مزید دیکھیں حدیث نمبر(۱۲۶۹۹)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} … بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔ (سورۂ احزاب: ۵۶)
امام اسماعیل بن اسحاق جہضمی قاضی مالکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درود و سلام سے متعلقہ (۱۰۷) احادیث ذکر کی ہیں، شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کتاب کی تخریج کی اور صحت و ضعف کا حکم لگایا۔
اس کتاب میں درود و سلام کے جو صیغے بیان کیے گئے ہیں، ان میں مختصر الفاظ والے درج ذیل ہیں: اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ اللّٰہُمَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ۔ اللَّہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إبْرَاہِیْمَ وَآلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ اللّٰہُمَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
صحیح مسلم میں شفاعت عظمی سے متعلقہ طویل حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درج ذیل الفاظ پر غور کریں: اِذْہَبُوا إِلٰی إِبْرَاہِیمَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَأْتُونَ إِبْرَاہِیمَ … … فَیَأْتُونَ مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَقُولُونَ … فَیَقُولُ لَہُمْ مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم … اذْہَبُوا إِلٰی عِیسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَأْتُونَ عِیسٰی … فَیَقُولُ لَہُمْ عِیسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِنَّ رَبِّی … اذْہَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
اہل علم کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ اس حدیث میں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے الفاظ مرفوع ہیں۔
مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کی دعاؤں درود و سلام کے مندرجہ ذیل الفاظ مذکورہ ہیں: ((الصَّلَوۃُ وَالسَّّلاَ مُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ۔)) … اللہ کے رسول پر درود و سلام ہو۔ (ابن ماجہ، ابن سنی)
درج ذیل ایک حدیث بھی مذکورہ بالا کتاب فَضْلُ الصَّلاَ ۃِ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لی گئی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَّی فَقَدْ خَطِیئَ طَرِیْقَ الْجَنَّۃِ۔)) … جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا تو وہ جنت کا راستہ بھٹک گیا۔
ظاہر ہے جو جنت کی طرف رہنمائی کرنے والے محسن اور ہادی کو درود و سلام کے ذریعےیاد نہیں رکھتا، اس نے پھر جنت …۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} … بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔ (سورۂ احزاب: ۵۶)
امام اسماعیل بن اسحاق جہضمی قاضی مالکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درود و سلام سے متعلقہ (۱۰۷) احادیث ذکر کی ہیں، شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کتاب کی تخریج کی اور صحت و ضعف کا حکم لگایا۔
اس کتاب میں درود و سلام کے جو صیغے بیان کیے گئے ہیں، ان میں مختصر الفاظ والے درج ذیل ہیں: اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ اللّٰہُمَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ۔ اللَّہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إبْرَاہِیْمَ وَآلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ اللّٰہُمَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
صحیح مسلم میں شفاعت عظمی سے متعلقہ طویل حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درج ذیل الفاظ پر غور کریں: اِذْہَبُوا إِلٰی إِبْرَاہِیمَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَأْتُونَ إِبْرَاہِیمَ … … فَیَأْتُونَ مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَقُولُونَ … فَیَقُولُ لَہُمْ مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم … اذْہَبُوا إِلٰی عِیسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَیَأْتُونَ عِیسٰی … فَیَقُولُ لَہُمْ عِیسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِنَّ رَبِّی … اذْہَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
اہل علم کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ اس حدیث میں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے الفاظ مرفوع ہیں۔
مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کی دعاؤں درود و سلام کے مندرجہ ذیل الفاظ مذکورہ ہیں: ((الصَّلَوۃُ وَالسَّّلاَ مُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ۔)) … اللہ کے رسول پر درود و سلام ہو۔ (ابن ماجہ، ابن سنی)
درج ذیل ایک حدیث بھی مذکورہ بالا کتاب فَضْلُ الصَّلاَ ۃِ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لی گئی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَّی فَقَدْ خَطِیئَ طَرِیْقَ الْجَنَّۃِ۔)) … جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا تو وہ جنت کا راستہ بھٹک گیا۔
ظاہر ہے جو جنت کی طرف رہنمائی کرنے والے محسن اور ہادی کو درود و سلام کے ذریعےیاد نہیں رکھتا، اس نے پھر جنت …۔
حدیث نمبر: 11061
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَظْلَمَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تھے، مدینہ منورہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، لیکن جس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو،ا اس دن مدینہ منورہ کی ہر چیز پر اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں میں تبدیلی محسوس کی۔
وضاحت:
فوائد: … عہد ِ نبوی اس جہاں کا سنہری دور تھا، وہ زمانہ للہیت، خیر و بھلائی، پاس و لحاظ، الفت و محبت، صفائے قلب اور اعمال صالحہ کی کثرت جیسی صفات سے متصف تھا، ہمارے لیے تو صحابۂ کرام کا زمانہ بھی انتہائی بابرکت ہے، لیکن عہد ِ نبوی کی بہ نسبت اس میں تغیر پیدا ہو گیا تھا، جس کو صحابۂ کرام نے محسوس بھی کیا، کہتے ہیں کہ بڑوں پہ بڑے بھاری، زمانے کو جو برکت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود سے ملی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہوں گے تو وہ کیسے برقرار رہے گی۔
حدیث نمبر: 11062
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَلَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْنَا قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي التُّرَابِ وَرَجَعْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کر کے واپس آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ارے انس! تمہارے دلوں نے اس بات کو کیسے گوارا کر لیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مٹی میں دفن کر کے واپس چلے آئے۔ (۱۱۰۶۲)۔ اس جسد اطہر کو دفن کرنے کے لیے مٹی تو ڈالنی ہی تھی، بس سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور اپنے غم کا اظہار کر رہی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بظاہر تو خاموش ہو گئے، لیکن وہ زبانِ حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ مٹی ڈالنا ہمیں بھی گوارا نہ تھا، لیکن کیا کرتے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم جو یہی تھا۔