حدیث نمبر: 11052
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ عَنْ أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ قَالَ بَهْزٌ إِنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ قَالَ ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا قَالَ فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ قَالَ فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُغِيرَةُ قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ قَالُوا فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَّ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَكَانَ يَقُولُ أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عسیبیا ابو عسیم رضی اللہ عنہ ،جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ کے موقع پر حاضر تھے، بیان کرتے ہیں: صحابہ کہنے لگے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز کیسے پڑھیں، انھوں نے کہا: تم گروہوں کی صورت میں اندر جاؤ، سو وہ اس دروازے سے داخل ہوتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ادا کرتے اور پھر دوسرے دروازے سے باہر چلے جاتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لحد میں رکھ دیا گیا، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کی جانب کچھ جگہ قابلِ اصلاح رہ گئی ہے، صحابہ نے ان سے کہا: تم لحد میں داخل ہو کر اسے ٹھیک کر آؤ، وہ اندر گئے، اپنا ہاتھ اندر داخل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کو مس کیا اور ساتھ ہی کہا کہ تم میرے اوپر مٹی ڈال دو، صحابہ نے ان کے اوپر مٹی ڈال دی،یہاں تک کہ ان کی نصف پنڈلیوں تک مٹیآگئی، اس کے بعد وہ باہر آگئے، وہ کہا کرتے تھے تم سب کی نسبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے آخر میں مس کرنے کا اعزاز حاصل کر چکا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے شروع میں جس نماز کا ذکر ہے، اس کو نمازِ جنازہ پر ہی محمول کرنا چاہیے، نہ کہ درود اور دعائے رحمت کرنے پر، کیونکہ میت کے ساتھ جب صَلّٰییُصَلِّی کے الفاظ آتے ہیں تو ان کے شرعی اور متبادر الی الذہن معانی نماز جنازہ کے ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11053
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ اعْتَمَرْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي زَمَانِ عُمَرَ أَوْ زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَزَلَ عَلَى أُخْتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ رَجَعَ فَسُكِبَ لَهُ غُسْلٌ فَاغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالُوا يَا أَبَا حَسَنٍ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ نُحِبُّ أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ قَالَ أَظُنُّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ كَانَ أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا أَجَلْ عَنْ ذَلِكَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ قَالَ أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی معیت میں عمرہ کیا، آپ اپنی ہمشیرہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے ہاں مہمان ٹھہرے، جب آپ عمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ کے غسل کے لیے پانی رکھا گیا، چنانچہ آپ نے غسل کیا، جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو عراق کے کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے، انہوں نے کہا: اے ابو الحسن! ہم آپ سے ایک بات پوچھنے آئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس کے متعلق بتلائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آپ لوگوں سے کہتے ہوں گے کہ ان کو سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: جی ہاں، ہم اسی کے متعلق آپ سے دریافت کرنے آئے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے آخر میں سیدنا قثم بن عباس رضی اللہ عنہ نے چھونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبر میں اتارنے کے لیے قبر میں داخل ہوئے تو سب سے آخر میں سیدنا قثم رضی اللہ عنہ قبر سے باہر آئے تھے، لیکن سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو دوبارہ قبر میں اترنا پڑا، اس لیے سب سے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھونے کا اعزاز ان ہی کے حصے میں آیا۔