کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
حدیث نمبر: 11022
حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ بِهَا وَأَقُولُهَا قَالَتْ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنِّي ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَتْ فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماروں کو ان الفاظ کے ساتھ دم کیا کرتے تھے: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ! اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا (اے لوگوں کے رب !بیماری کو دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جو تمام بیماریوں کو ختم کر دے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں شدید بیمار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھام کر اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد مبارک پر پھیرتی اور ان کلمات کو زبان سے ادا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور فرمایا: اے میرے رب! میری مغفرت فرما اور مجھے رفیق اعلی کے ساتھ ملا دے۔ امام احمد کے شیخ ابو معاویہ نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ آخری الفاظ تھے، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے۔ امام احمد کے دوسرے استاذ ابن جعفر نے یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کی بیمار پرسی کرتے تو اپنا ہاتھ اس کے جسم پر پھیرتے اور یہ دعا فرماتے: أَذْہِبْ … … ۔
وضاحت:
فوائد: … رفیق اعلی سے مراد انبیائ، اصدقائ، شہداء اور صلحاء ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۱۰۲۶) میں آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11022
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5743، 5750، ومسلم: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24686»
حدیث نمبر: 11023
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَيَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ فَسَقَطَ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو لَهُ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَكَانَ هُوَ يَدْعُو بِهِ إِذَا مَرِضَ فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى الرَّفِيقُ الْأَعْلَى يَعْنِي وَفَاضَتْ نَفْسُهُ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال میرے گھر میں اور میری باری کے دن ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سینہ اور گردن کے درمیان تھے، اس وقت میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ آئے، ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسواک کی طرف دیکھا، میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسواک کی ضرورت ہے۔ میں نے ان سے مسواک لے کر اسے چبا یا اور جھاڑ کر صاف کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے خوبصورت انداز سے مسواک کی کہ میں نے کبھی اس طرح خوبصورت انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسواک کرتے نہیں دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مجھے پکڑانے لگے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹ گئی، میں نے اسے اُٹھا یا اور میں اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کرنے لگی جو دعا جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جب کبھی بیمار ہوتے تو وہی دعا پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اس بیماری میں آپ نے وہ دعا نہیں پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا: رفیقِ اعلی، رفیقِ اعلی۔ اور ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر گئی، اللہ کا بڑاشکر ہے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری دن میرے لعاب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب کے ساتھ جمع کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11023
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4451، ومسلم: 2443 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24720»
حدیث نمبر: 11024
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَلِكَ يَعْنِي لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَةُ وَا كَرْبَاهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّةِ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ بِأَبِيكِ مَا لَيْسَ اللَّهُ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا لِمُوَافَاةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موت کے آثار نمودار ہوئے، تو سیدہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا بے اختیار کہنے لگیں: ہائے مصیبت! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی ! تمہارے باپ پر اب وہ وقت آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک کسی کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11024
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1629 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12461»
حدیث نمبر: 11025
أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَحِيحٌ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُحَيَّا فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخْذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرَهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ إِنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کا جنت میں جو مقام ہے، اس کی وفات سے قبل اسے وہ دکھا دیا جاتا ہے۔ پھر اسے دنیا اورآخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوئے اور وفات کا وقت قریب آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی، پھر جب افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمرے کی چھت کی طرف نظر اُٹھائی اور فرمایا: اے اللہ! رفیق اعلی میں منتقل ہونا چاہتا ہوں۔ میں جان گئی کہ یہ اسی بات پر عمل ہوا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے اپنی صحت کے دنوں میں بیان کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11025
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4437، 6348، ومسلم: 2444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25090»
حدیث نمبر: 11026
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَالَتْ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب بھی کوئی نبی بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آئی، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ۔} ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ میں یہ سن کر جان گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیااور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخرت کا انتخاب کیا ہے۔ )
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں رفیق اعلی کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11026
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4435، ومسلم: 2444 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26850»
حدیث نمبر: 11027
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ فَيُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ فَقُلْتُ قَدْ قَضَى قَالَتْ فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ فَنَظَرَ قَالَتْ قُلْتُ إِذَنْ وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا فَقَالَ مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( اپنی حیات طیبہ میں) فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کی روح کچھ دیر کے لیے قبض کر کے اسے اس کا ثواب دکھانے کے بعد اس کی روح کو لوٹا دیا جاتا ہے، اور اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اب دنیا اور آخرت میں سے جس کا چاہیں، انتخاب کر لیں۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئییہ بات یاد تھی۔ مرض الموت کے دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن ڈھلک گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو میں سمجھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمائی ہوئی بات یاد آ گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت سنبھل گئی، میں جان گئی کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا انتخاب نہیں کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ۔} ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ آیت کے آخر تک۔
وضاحت:
فوائد: … سابقہ دو تین احادیث میں اس حدیث کا مضمون بیان کیاگیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11027
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبد الله لم يدرك عائشة، أخرجه ابن سعد: 2/ 229 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24958»
حدیث نمبر: 11028
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ لَا يَمُوتُ نَبِيٌّ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَأَصَابَتْهُ بُحَّةٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔( دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنتی رہتی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اورآخرت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ مرض الموت کے دوران ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولٰئِکَ رَفِیقًا} … ان انبیائ، اصدقائ،شہداء اور صلحاء کے ساتھ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا،یہ لوگ بلحاظ رفاقت کے کتنے اچھے ہیں۔ پس میں جان گئی کہ آپ کو دنیا وآخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11028
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4437، 6348، ومسلم: 2444 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26220»
حدیث نمبر: 11029
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، پانی کا پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں ڈال کر اسے گیلا کر کے اپنے چہرہ اقدس پر پھیرتے اور یہ دعا کر تے جا رہے تھے: اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ (اے اللہ! موت کی سختیوں میںمیری مدد فرما۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11029
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه ابن ماجه: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24860»
حدیث نمبر: 11030
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سینہ اور گردن کے درمیان تھے، چونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت نزع کی شدت کو دیکھا ہے، لہذا اب میں کسی کے لیے موت کی سختی کو ناپسند نہیں کرتی۔
وضاحت:
فوائد: … حالت نزع میں آدمی کا شدت کا سامنا کرنا، اس میں انبیاء اور صالحین بھی مبتلا ہو جاتے ہیں، لہذا نعوذ باللہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کی وجہ سے میت کے بارے میں سوئے ظن ہونے لگے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11030
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24987»
حدیث نمبر: 11031
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ثَنَا رِبَاحٌ قَالَ قُلْتُ لِمَعْمَرٍ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رباح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے معمر سے دریافت کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال اس حال میں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے بالکل پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ، وَاَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق اعلی میں منتقل کر دے)۔ (صحیح بخاری: ۵۶۷۴) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں ٹیک لگائی ہو گی کہ اس پر بیٹھنے کا اطلاق بھی کیا جا سکتا ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11031
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «خبر صحيح ،انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26883»
حدیث نمبر: 11032
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ قَالَتْ فَهُوَ يَضَعُهَا مَرَّةً عَلَى وَجْهِهِ وَمَرَّةً يَكْشِفُهَا عَنْهُ وَيَقُولُ ”قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ“ يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سیاہ چادر زیب تن کیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اسے اپنے چہرے پر ڈالتے اور کبھی ہٹا لیتے اور فرماتے: اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرما کر اپنی امت کے لیے اس کام کو حرام قرار دے رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11032
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3453، 3454، ومسلم: 531 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26882»
حدیث نمبر: 11033
(وَعَنْهَا أَيْضًا) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دھاری دار چادر میں ڈھانپ دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11033
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5814، ومسلم: 942 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25088»
حدیث نمبر: 11034
(وَعَنْهَا أَيْضًا) قَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي قَالَتْ فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ لَمْ أَجِدْ أَطْيَبَ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال اس حال میں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پروراز کر گئی تو اس سے عمدہ کیفیت میں نے کسی کی نہیں دیکھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11034
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25417»
حدیث نمبر: 11035
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا صُنِعَ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يَدْعُونَ الْمُلَبَّدَةَ قَالَ بَهْزٌ تَدْعُونَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گیا، انہوں نے ہمیں یمن میں تیار ہونے والی ایک موٹی سی چادر اور ایک ایسی چادر نکال کر دکھائی جسے تم لوگ مُلَبَّدَۃ کہتے ہو اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دو چادریں زیب تن کئے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مُلَبَّدَۃ سے مراد وہ کپڑا ہے، جس کو پیوند لگا ہوا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 5818، ومسلم: 2080 وابوداود!: 4036 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25511»
حدیث نمبر: 11036
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّهُ لَيُهَوَّنُ عَلَيَّ أَنِّي رَأَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیےیہ امر اطمینان بخش ہے کہ میں نے عائشہ کی ہتھیلی کی سفیدی جنت میں دیکھی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ درج روایت صحیح ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ((اِنَّہٗلَیُھَوَّنُ عَلَيَّ الْمَوْتُ اَنْ اُرِیْتُکِ زَوْجَتِيْفِيْ الْجَنَّۃِ۔)) … مجھ پر موت کی سختیاں اس بنا پر آسان ہو رہی ہیں کہ تم جنت میں مجھے اپنی بیوی دکھائی دے رہی ہو۔ (مسند احمد: ۶/ ۱۳۸)
اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہ عظیم منقبت بیان کی گئی ہے کہ وہ جنت میں نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہوں گے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز پر اتنے خوش ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موت کے سکرات اور سختیاں ہلکی محسوس ہو رہی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11036
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة مصعب بن اسحاق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25590»