کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیماری کے دوران پیش آنے والے بعض امور کا بیان
حدیث نمبر: 11013
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ وَلَدِ الْعَبَّاسِ أُخْتُ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَجَعَلْتُ أَبْكِي فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ”مَا يُبْكِيكِ؟“ قُلْتُ خِفْنَا عَلَيْكَ وَمَا نَدْرِي مَا نَلْقَى مِنَ النَّاسِ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أَنْتُمُ الْمُسْتَضْعَفُونَ بَعْدِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا ، یہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ام ولد اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت دیکھ کر رونے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اُٹھا کر فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا: ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کا اندیشہ ہے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہمیں کن لوگوں سے سابقہ پڑے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم لوگ انتہائی کمزور سمجھے جاؤ گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11013
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 25/ 32 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27413»
حدیث نمبر: 11014
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتِ ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ قَالَتْ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلوا کر ان سے راز داری میں کوئی بات کہی، وہ رونے لگ گئیں، پھر اس کے بعد دوبارہ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ کہا تو وہ ہنس دیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے راز داری سے کیا بات کی تھی کہ آپ رو دی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رازداری سے کچھ فرمایا تو آپ ہنسنے لگ گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چپکے سے اپنی وفات کی اطلاع دی تھی، اس لیے میں رونے لگ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چپکے سے مجھ سے فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ خانہ میں سے میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر ملو ں گی، تو میں یہ سن کر ہنسنے لگی۔
وضاحت:
فوائد: … پھر ایسے ہی ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خالقِ حقیقی کی طرف روانہ ہوگئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11014
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3625، 3626، 3715، ومسلم: 2450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24988»
حدیث نمبر: 11015
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کا ایک طویل سلسلہ شروع کر دیا تھا، تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی، جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی اس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سب سے زیادہ مرتبہ وحی نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11015
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4982، ومسلم: 3016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13513»