کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 10999
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُغَرْغِرُ بِهَا صَدْرُهُ وَمَا يَكَادُ يُفِيضُ بِهَا بِلِسَانِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وفات سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمومی وصیتیہ تھی کہ نماز کی پابندی کرنا اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، تاآنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ میں کھڑکھڑانے لگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ صاف طور پر ادا نہیں ہو رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 10999
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 6605، والنسائي في الكبري : 7095، وابويعلي: 2933 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12193»
حدیث نمبر: 11000
عَنْ طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں کی۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ ایمان کو وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا ہے، جبکہ خود تو وصیت نہیں کی؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی کتاب کے بارے میں وصیت کی تھی (یعنی اس کو مضبوطی سے تھامے رکھیں)۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ِ مبارکہ کے ختم ہونے تک اپنی امت کی رہنمائی کرتے رہے، اس لیے وفات کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی امور کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11000
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2740، 4460، ومسلم: 1634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19628»
حدیث نمبر: 11001
عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي أَوْ قَالَتْ فِي حِجْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود سے مروی ہے کہ لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں وصیت کی ہے (کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد خلیفہ ہوں گے)، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کس وقت وصیت کی؟ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے ٹیک دئیے ہوئے تھی،یایوں کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی گودمیں لیا ہوا تھا، آپ نے پانی کا برتن طلب فرمایا اور میری گود ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر گئی اور مجھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا بھی پتہ نہیں چلا، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں وصیت کب کر دی؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11001
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2741، ومسلم: 1636، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24540»
حدیث نمبر: 11002
عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ارقم بن شرحبیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی معیت میں مدینہ منورہ سے شام تک کا سفر کیا، میں نے ان سے دریافت کیا کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابھی تک نماز بھی ادا نہیں کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار پڑ گئے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو آدمیوں کے سہارے چلا کر لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے اور ایسی کوئی وصیت نہیں کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11002
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3356»
حدیث نمبر: 11003
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْتَخْلِفْ أَحَدًا وَلَوْ كَانَ مُسْتَخْلِفًا لَاسْتَخْلَفَ أَبَا بَكْرٍ أَوْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو خلیفہ بنانا ہوتا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتےیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت کے ساتھ کسی کا اس طرح تعین نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بالترتیب فلاں فلاں خلیفہ ہوں گے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فعل کی کوئی مخالفت نہیں ہوتی، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے مقدم کیا تھا، اگرچہ اس میں اشارہ ضرور ملتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11003
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24850»
حدیث نمبر: 11004
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يُؤَمَّرُ بَعْدَكَ قَالَ ”إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَا أَرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کس کو امیر بنایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر بنا لو تو اسے امانت دار پاؤ گے، جو دنیا سے بے رغبت اور آخرت میں رغبت رکھنے والا ہو گا اور اگر تم عمر رضی اللہ عنہ کو امیر بناؤ گے تو تم اسے طاقت ور، دیانت دار پاؤ گے، جو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کرے گا، اور اگر تم نے علی رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا جب کہ میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے امیر بناؤ گے، تو تم اسے ایسا راہ دکھانے والا اور ہدایتیافتہ پاؤ گے جو تمہیں صراطِ مستقیم پر لے چلے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11004
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، زيد بن يثيع ، لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي، وتساھل الحافظ ابن حجر في التقريب جدا، فقال: ثقة، وابو اسحاق السبيعي تغير بأخرة، وقد اضطرب في ھذا الخبر أخرجه البزار؛ 783، والحاكم: 3/ 70 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 859»
حدیث نمبر: 11005
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يُتْرَكُ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری بات یہ ارشاد فرمائی تھی: جزیرۂ عرب میں دو دین نہ رہنے دئیے جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل اس حدیث کا شاہد ہے: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَأُخْرِجَنَّ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ حَتّٰی لَا اَدَعَ اِلَّا مُسْلِمًا۔)) … میں جزیرۂ عرب سے ضرور ضرور یہود و نصاری کو نکال دوں گا، یہاں تک کہ میں یہاں صرف مسلمان کو رہنے دوں گا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۶۷)
یعنی جزیرۂ عرب میں صرف دین اسلام قبول ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11005
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره أخرجه الطبراني في الاوسط : 1070 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26884»