کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
حدیث نمبر: 10994
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ وَقَالَ مَرَّةً دُمُوعُهُ الْحَصَى قُلْنَا يَا أَبَا الْعَبَّاسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ”ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا“ فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي هَذَى اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يُعِيدُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ ”دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ“ وَأَمَرَ بِثَلَاثٍ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَوْصَى بِثَلَاثٍ قَالَ ”أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ“ وَسَكَتَ سَعِيدٌ عَنِ الثَّالِثَةِ فَلَا أَدْرِي أَسَكَتَ عَنْهَا عَمْدًا وَقَالَ مَرَّةً أَوْ نَسِيَهَا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ تَرَكَهَا أَوْ نَسِيَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جمعرات کا دن، کیسا جمعرات کا دن؟ یہ کہہ کر وہ رونے لگے اور اس قدر روئے کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں بھیگ گئیں، ہم نے عرض کیا: اے ابو العباس ! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا؟ انھوں نے کہا: اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم( کاغذ، قلم) میرے پاس لے آؤ۔ میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، حاضرین کا آپس میں تنازعہ ہو گیا، حالانکہ نبی کے پاس آپس میں تنازعہ کرنا مناسب نہیں تھا، لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا ہوا؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماری کی شدت یا غشی میں کچھ کہہ رہے ہیں؟ امام سفیان نے ایک مرتبہ یوں کہاکہ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہذیان ہوا ہے؟ ذرا آپ سے دوبارہ پوچھو، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور بار باردریافت کرنے لگے۔ ( کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میرے حال پر رہنے دو، تم مجھے جس طرف بلانا چاہتے ہو، اس کی نسبت میں جس حال میں ہوں، وہ بہتر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین باتوں کا حکم دیا، سفیان راوی نے کہا کہ تین باتوں کی وصیت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور باہر سے آنے والے وفود کا اسی طرح خیال رکھنا جس طرح میں ان کا خیال رکھتا تھا۔ اور تیسری بات کے ذکر کرنے سے سعید بن جبیر نے سکوت اختیار کیا، ان کے شاگرد کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آیا وہ عمداً خاموش رہے تھے یا تیسری بات کو بھول گئے تھے۔ سفیان نے ایک مرتبہ کہا کہ یا تو انہوں نے عمداً تیسری بات کو چھوڑ دیا تھا یا بھول گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ہذیان کا معنی بیماری کی وجہ سے غیر معقول باتیں کرنا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے، کہیں بخار کی شدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑبڑا تو نہیں رہے (جیسے بیمار کا حال ہوتا ہے)، اچھی طرح سمجھ لو(کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا مطلب ہے، دریافت کر لو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ انھوں نے پیغمبر کی طرف ہذیان کی نسبت کی ہو، ان کا مقصد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام مختلط تو نہیں ہو گیا کہ کبھی فرمائیں اور کبھی کچھ، جیسے بیماری کی حالت میں ہو جاتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِئْتُوْنِیْ بِکِتَابٍ اَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَاتَضِلُّوْا بَعْدَہٗ۔)) قَالَعُمَرُ: اِنَّالنَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غَلَبَہُ الْوَجْعُ وَعِنْدَنَا کِتَابُ اللّٰہِ حَسْبُنَا، فَاخْتَلَفُوْا وَکَثُرَ اللَّفَظُ، قَالَ: ((قُوْمُوْا عَنِّیْ۔)) … میرے پاس لکھنے کے لیے کچھ لاؤ تاکہ میں تمہاری لیے کوئی تحریر لکھ دوں، تاکہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تکلیف غالب ہے، جبکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے اور وہی ہمیںکافی ہے، پس صحابۂ کرام میں اختلاف ہو گیا اور بہت غلط سلط باتیں ہونے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ (صحیح بخاری: ۱۱۴)
اس مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محبت اور جذبے کو سمجھنا بھی ضروری ہے، یہ وہی عمر ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور بڑی مصیبت کی وجہ سے وہ اس قدر شدت ِ دہشت میں مبتلا ہو گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر دلالت کرنے والی آیات بھی ان کے ذہن میں نہیں رہی تھیں۔
اہم بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس واقعہ کے تین دن بعد تک زندہ رہے، اگر یہ بات قابل گرفت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصلاح فرما دیتے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ کو سمجھنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کے تعلق اور ان حالات کو سمجھنا ضروری ہے، جن کا صحابۂ کرام کو سامنا تھا۔
اگر آدمی اس واقعہ پر غور کرے تو اس سے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کشید کی جا سکتی ہے اور وہ اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت کی اور تحریر کا ارادہ ترک کر دیا،درج ذیل روایت پر غور کریں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی الْیَوْمِ الَّذِی بُدِئَ فِیہِ فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاہْ، فَقَالَ: ((وَدِدْتُ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ وَأَنَا حَیٌّ، فَہَیَّأْتُکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ غَیْرٰی کَأَنِّی بِکَ فِی ذٰلِکَ الْیَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِکَ، قَالَ: ((وَأَنَا وَا رَأْسَاہْ ادْعُوا إِلَیَّ أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتّٰی أَکْتُبَ لِأَبِی بَکْرٍ کِتَابًا فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَقُولَ قَائِلٌ وَیَتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ أَنَا أَوْلٰی، وَیَأْبَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اس دن تشریف لائے، جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شروع ہوئی تھی، میں نے کہا: ہائے میرا سر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش تیرے فوت ہونے کی صورت میری زندگی میں ہوتی، پھر میں تجھے تیار کرتا، (تیرے لیے دعائے مغفرت کرتا) اور تجھ کو دفن کرتا۔ میں نے غیرت میں آ کر کہا: گویا کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کے ساتھ خلوت اختیار کی ہوئی ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں خود سر کی تکلیف کی وجہ سے کہتا ہوں: ہائے میرا سر! اپنے باپ اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ میں ابو بکر کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہنے والا کہے گا اور اس خلافت کی تمنا رکھنے والا یہ تمنا کرے گا کہ میں اس کا زیادہ مستحق ہوں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور مؤمن انکار کرتے ہیں، ما سوائے ابو بکر کے۔
(صحیح بخاری: ۵۶۶۶، ۷۲۱۷، صحیح مسلم: ۲۳۸۷، واللفظ لاحمد)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں کچھ تحریر کروانا چاہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے کو پسند کیا اور کوئی تحریر نہیں لکھوائی اور خلیفہ کے تعین کے مسئلے کو اشاروں کنایوں اور صحابہ کے مشوروں پر چھوڑ دیا، پھر ان نفوس قدسیہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے عین مطابق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہی انتخاب کیا اور اس انتخاب میں وہی عمر پیش پیش تھے، جنھوں نے تحریر تیار نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 10994
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3053، 3168، 4431، ومسلم: 1637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1935»
حدیث نمبر: 10995
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ قَالَ فَخَشِيتُ أَنْ تَفُوتَنِي نَفْسُهُ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَحْفَظُ وَأَعِي قَالَ ”أُوصِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے پاس ایک چوڑی ہڈی لے آؤں، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اہم بات لکھوا دیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت گمراہ نہ ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ میں ہڈی لینے جاؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر جائے۔ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بتلا دیں، میںیاد کر کے محفوظ کر لوں گا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نماز، زکوۃ اور اس چیز کے بارے وصیت کرتا ہوں کہ تمہارے دائیں ہاتھ جس کے مالک ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 10995
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، نعيم بن يزيد مجھول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 693»
حدیث نمبر: 10996
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ”ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ“ فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ قَالَ ”أَبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم شانے کی کوئی چوڑی ہڈییا کوئی تختی میرے پاس لاؤ تاکہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں وصیت لکھ دوں تاکہ ان پر اختلاف نہ ہو۔ جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اُٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! اللہ اور مومنوں نے تجھ پر اختلاف کرنے کا انکار کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حق میں اس قسم کی احادیث موجود ہیں کہ وہی ہیں جن پر مومنوں کا اتفاق ہو سکتا ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۱۵۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 10996
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن1 بن ابي بكر، أخرجه ابن ماجه: 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24703»
حدیث نمبر: 10997
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَانَ وَجْعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ ”ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ فَلْيَكْتُبْ لِكَيْ لَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ“ ثُمَّ قَالَ ”يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي فَكَانَ أَبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مرض الموت طاری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر اور ان کے صاحبزادے کو میرے پاس بلا لاؤ، اور لکھنے والا لکھے تاکہ کوئی لالچییا خواہش مند ابوبکر کی خلافت کے بارے میں لالچ یا تمنا نہ کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود دو مرتبہ فرمایا کہ اللہ اور اہل اسلام ( ابوبکر کے سوا کسی دوسرے کو) قبول نہیں کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (اسی طرح ہوا اور) اللہ اور مسلمانوں اور مومنوں نے انکار کر دیا، الا یہ کہ میرے ابو (خلیفہ بنیں)، پس پھر میرے ابو ہی بنے۔ ! یہ سند کے درمیان میں ایک راوی ہیں جن کے باپ کا نام بھی ابوبکر ہے اس جگہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالرحمن مراد نہیں ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 10997
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مؤمل، وقد خالفه من ھو اوثق منه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25258»
حدیث نمبر: 10998
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهَا قَالَ فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات سے قبل ایک صحیفہ منگوایا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا س پر ایک ایسی بات لکھوا دیں تاکہ لوگ آپ کے بعد گمراہ نہ ہوں، لیکن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے اختلاف کیا، تاآنکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس ارادہ کو موقوف کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی تحریر تیار نہیں کروائی، بلکہ یہ ارادہ ہی ترک کر دیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقوعہ کے تین دن بعد تک زندہ رہے، اگر یہ تحریر ضروری ہوتی تو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا اہتمام کروا دیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 10998
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 1869 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14783»