کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا
حدیث نمبر: 10980
عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا طَوِيلًا لَيْسَ أَحْفَظُهُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَّا قَلِيلًا دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرِينَا عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اشْتَكَى فَجَعَلَ يَنْفُثُ فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ نَفْثَ آكِلِ الزَّبِيبِ وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فَلَمَّا اشْتَكَى شَكْوَاهُ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ وَيَدُرْنَ عَلَيْهِ فَأَذِنَّ لَهُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مُتَّكِئًا عَلَيْهِمَا أَحَدُهُمَا عَبَّاسٌ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَفَمَا أَخْبَرَتْكَ مَنِ الْآخَرُ قَالَ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبید اللہ کا بیان ہے کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور ہم نے عرص کیا: اے ام المؤمنین آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے بارے میں بتائیں، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے ایک آواز آئی، ہم منقی کھانے والے سے اس آواز کی تشبیہ دے سکتے ہیں، اس سے قبل اور بیماری کے دنوں میں بھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج کے ہاں باری باری جاتے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ نڈھال ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے بیتِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں وقت گزارنے کی اجازت طلب کی کہ وہ سب وہیں آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر گیری کرلیا کریں، سب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اجازت دے دی، پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے تشریف لائے، ان دو میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ سے کہا: کیا ام المؤمنین نے تمہیں دوسرے آدمی کے نام سے آگاہ نہیں کیا کہ عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرا آدمی کون تھا؟ عبیداللہ نے کہا: جی نہیں، تو انھوں نے بتلایا کہ دوسرے آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 10981
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ نِسَاءَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ”مُرِ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا“ فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ؟“ قَالُوا بَلَى قَالَ ”يَأْبَى اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى قَالَ ”وَمَا قُلْتِ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَأَثَّمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ فَرَاجَعَتْهُ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ إِنَّكُمْ صَوَاحِبُ يُوسُفَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔( دوسری سند) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیمار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے اجازت طلب کی کہ تم میری بیمار پرسی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں کر لیا کرو،سب ازواج نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخوشی اس بات کی اجازت دے دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے آسرے سے اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا؟ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ مگر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا چونکہ ان سے ناخوش تھیں، اس لیے ان کا نام نہیں لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن زمعہ سے فرمایا: تم جا کر لوگوں سے کہو کہ وہ نماز ادا کر لیں۔ وہ جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب انہوں نے نماز پڑھانا شروع کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سن لی، کیونکہ وہ بلند آہنگ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ عمر رضی اللہ عنہ کی آواز نہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اہلِ ایمان اسے قبول نہیں کریں گے، تم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تو رقیق القلب ہیں، جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو رو پڑتے ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر کنٹرول نہیں کر سکتے، سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے یہ بات صرف اس لیے کہی تھی کہ مبادا لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی باتیں کر کے گناہ گار نہ ہوں کہ یہی وہ پہلا شخص ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: تم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ میں نے بھی اپنی بات دوبارہ دہرا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے تم تو یوسف علیہ السلام کو بہکانے والی عورتوں جیسی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یوسف علیہ السلام کو بہکانے والیوں سے مراد عزیز مصر کی بیوی زلیخا ہے، اس نے بظاہر تو خواتین کو دعوت دی اور ان کے سامنے اشیائے خورد و نوش پیش کر کے اکرام اور ضیافت کا اظہار کیا، لیکن بباطن وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ یوسف رضی اللہ عنہ کا حسن دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو جانے پر اس کو معذور سمجھیں، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باتوں سے بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ وہ اپنے باپ کے لیے اس منصب کو پسند نہیں کر رہیں، لیکن بباطن وہ یہ چاہتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام لیں، تاکہ ان کی اس فضیلت پر اختلاف کی گنجائش ہی ختم ہو جائے اور سارے لوگ ان کو تسلیم کر لیں۔
یہ ایک رائے ہے جس کی بنیاد صرف ایک عقلی نکتہ پر ہے جبکہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ظاہر کیا تھا کہ ابوبکر رفیق القلب ہیں نماز نہیں پڑھا سکیں گے، کیونکہ وہ قرآن مجید پرھتے ہوئے بہت روتے تھے جبکہ ذہن میں بات یہ تھی کہ ابوبکر کے خلیفہ بننے سے دورِ نبوت والی برکت نہیں رہے گی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بدفالی لیں گے کہ ان کی وجہ سے برکت کم ہوئی ہے۔ (دیکھیں بخاری: ۴۴۴۵، مسلم: ۴۱۸) (عبداللہ رفیق)
یہ ایک رائے ہے جس کی بنیاد صرف ایک عقلی نکتہ پر ہے جبکہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ظاہر کیا تھا کہ ابوبکر رفیق القلب ہیں نماز نہیں پڑھا سکیں گے، کیونکہ وہ قرآن مجید پرھتے ہوئے بہت روتے تھے جبکہ ذہن میں بات یہ تھی کہ ابوبکر کے خلیفہ بننے سے دورِ نبوت والی برکت نہیں رہے گی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بدفالی لیں گے کہ ان کی وجہ سے برکت کم ہوئی ہے۔ (دیکھیں بخاری: ۴۴۴۵، مسلم: ۴۱۸) (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 10982
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ دَعَا بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا فَقَالَ قُمْ يَا عُمَرُ فَصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَامَ فَلَمَّا كَبَّرَ عُمَرُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ قَالَ فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ قَالَ لِي عُمَرُ وَيْحَكَ مَاذَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں چند دیگر مسلمانوں کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی سے کہو کہ وہ نماز پڑھا دے۔ میں باہر نکلا تو سیدناعمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے، میں نے عرض کیا: عمر! آپ اُٹھ کر نماز پڑھا دیں۔ وہ اُٹھے انہوں نے تکبیر تحریمہ کہی، ان کی آواز بہت بلند تھی، اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سنی توفرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟اللہ اور اہل اسلام ابوبکر کی بجائے کسی دوسرے کو قبول نہیں کریں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، لیکن جب وہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ نماز پڑھا چکے تھے۔ پھر انہوں نے آکر لوگوں کو باقی نمازیں پڑھائیں۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابن زمعہ! تمہارا بھلا ہو، تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ اللہ کی قسم! تم نے جب مجھے نماز پڑھانے کو کہا تو میں یہی سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ مجھے کہا جائے، اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو واقعی مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا، لیکن جب مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دیے تو میں نے حاضر لوگوں میں سے آپ کو امامت کا سب سے زیادہ حق دار سمجھا۔
حدیث نمبر: 10983
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي رَجُلٌ رَقِيقٌ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ“ فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار پڑ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی رقیق القلب اور نرم دل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو سیدنایوسف علیہ السلام والی خواتین لگ رہی ہو۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 10984
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ قَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ“ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ ”صَوَاحِبَ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَالْتَفَتَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ فَقَالَتْ لَمْ أَكُنْ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دنوں میں فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ میں نے عرض کیا: ابوبکر تو رونے لگیں گے اور لوگوں تک ان کی آواز نہیں پہنچ پائے گی، کیا ہی بہتر ہو کہ آپ عمر کو حکم فرما دیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! ابوبکر تو انتہائی نرم مزاج ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں تک ان کی آواز ہی پہنچ نہیں سکے گی، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ عمر کو یہ حکم دے دیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو یوسف علیہ السلام والی خواتین کی طرح لگ رہی ہو، میں کہہ رہا ہوں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ یہ سن کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا میری طرف متوجہ ہو کر بولیں: میں تمہاری طرف سے اچھائی نہیں پا سکتی۔
حدیث نمبر: 10985
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ : ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ“ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی نرم دل ہیں، وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز پڑھا ہی نہیں سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو ان عورتوں جیسی ہو جو یوسف علیہ السلام کو ورغلا رہی تھیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ہی میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔
حدیث نمبر: 10986
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ ”إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَالَتْ فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے وقت کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی نرم دل ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ عمر کو حکم فرمائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی رقیق القلب اور نرم دل ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے، اگر آپ عمر کو یہ حکم فرمائیں تو بہتر رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم تو ان عورتوں جیسی ہو جو یوسف علیہ السلام کو ورغلا رہی تھیں۔ چنانچہ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طبیعت میں بہتری محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو آدمیوں کے آسرے سے مسجد کی طرف لے جایا گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹتے جا رہے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو وہ پیچھے کو ہٹنے لگے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارہ سے کہا کہ اپنی جگہ پر کھڑے رہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور باقی لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 10987
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَصَلَّى النَّاسُ؟“ قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ“ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ”أَصَلَّى النَّاسُ؟“ قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ“ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَغُشِيَ عَلَيْهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَاتِ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ هَلْ سَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا کر عرض کیا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بیان فرمائیں گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، کیوں نہیں، تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے برتن میں پانی رکھو۔ ہم نے پانی رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا،لیکن جب اٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ تو آپ کے منتظر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے برتن میں پانی رکھ دو۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا) بعدازاں جب اُٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی، جبکہ لوگ مسجد میں نماز عشاء کے لیے جمع تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ انتہائی رقیق القلب تھے، انہوں نے کہا: عمر ! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، لیکن انھوں نے کہا: آپ اس امر کے زیادہ حق دار ہیں۔ تو ان دنوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نمازیں پڑھاتے رہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہتری محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے ظہر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف چلے، ان دو میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے،جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا احساس ہوا تو وہ پیچھے کو ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا کہ پیچھے نہ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے فرمایا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ سیدنا ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر پڑھتے رہے۔ میں ( عبیداللہ بن عبداللہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے عرض کیا: آیا میں آپ سے وہ واقعہ بیان نہ کروں ،جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی بیان کرو، پھر انہوں نے اس میں سے کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ کیا انہوں نے اس دوسرے آدمی کا نام بھی بیان کیا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انہوں نے کہا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 10988
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ ”ادْعُوا لِي عَلِيًّا“ قَالَتْ عَائِشَةُ ”نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ“ قَالَ ”ادْعُوهُ“ قَالَتْ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ قَالَ ”ادْعُوهُ“ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ قَالَ ”ادْعُوهُ“ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَأْسَهُ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا فَسَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ حَصِرٌ وَمَتَى مَا لَا يَرَاكَ النَّاسُ يَبْكُونَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا أَبَا بَكْرٍ فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيْ مَكَانَكَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَاكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں بیمار ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو میرے پاس بلواؤ۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلا لو۔ اُدھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی بلا لو۔ سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی بلا لو۔ جب یہ لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اُٹھایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دکھائی نہ دئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اُٹھ جاؤ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے وقت کی اطلاع دینے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا :ابوبکر رضی اللہ عنہ تو انتہائی رقیق القلب اور رونے والے آدمی ہیں، لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، (اور ان کو دیکھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رو پڑیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے)، بہتر ہو گا کہ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمادیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ بہرحال پھر ہوا یوں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جا کر نماز پڑھا نا شروع کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو آدمیوں کے درمیان سہارے کے ساتھ چلا کر لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹتے جا رہے تھے۔ لوگوں نے آپ کو تشریف لاتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو متوجہ کرنے کے لیے سبحان اللہ، سبحان اللہ کہنے لگے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے کو ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وہیں ٹھہرنے کا اشارہ فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داہنی جانب کھڑے رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی اقتداء کرتے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے قراءت شروع کی جہاں تک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی بیماری میں انتقال ہو گیا۔ وکیع راوی نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … قراء ت کے مسئلہ کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۲۵۸۱)
حدیث نمبر: 10989
عَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا آسرا لے کر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سوتی کپڑا زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دونوں پلوں کو آگے پیچھے ڈالا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر نماز پڑھائی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ثَوْبُ قُطْن کے الفاظ ہیں، جبکہ مسند طیالسی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَصَلَّی بِالنَّاِس فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثَوْبٍ قِطْرِیٍّ (بحرین کے علاقے قِطْرٌ کی طرف نسبت ہے)۔ اوریہی الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں۔