کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نیک مرد نجاشی کی وفات اور بدبخت شخص عبداللہ بن ابی کی ہلاکت کا بیان
حدیث نمبر: 10950
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ أَصْحَابَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس روز نجاشی کا انتقال ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن ہمیں اس کی وفات کی اطلاع دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور پس اپنے صحابہ کرام کی صفیں بنائیںاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار تکبیرات کہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہیں تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں اور دارقطنی نے افراد میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کینماز جنازہ
پڑھائی تو کسی صحابی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو حبشہ کے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھ دی ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَایَشْتَرُوْنَ بِآیَاتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰـــٓئِکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ} (سورۂ آل عمران: ۱۹۹) یعنی: یقینا اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، یقینا اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کے شواہد بھی موجود ہیں اور مؤخر الذکر کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا منافق تھا۔
(فتح الباری: ۳/۲۴۲)
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہیں تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں اور دارقطنی نے افراد میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کینماز جنازہ
پڑھائی تو کسی صحابی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو حبشہ کے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھ دی ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَایَشْتَرُوْنَ بِآیَاتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰـــٓئِکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ} (سورۂ آل عمران: ۱۹۹) یعنی: یقینا اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، یقینا اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کے شواہد بھی موجود ہیں اور مؤخر الذکر کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا منافق تھا۔
(فتح الباری: ۳/۲۴۲)
حدیث نمبر: 10951
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَاتَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشِ هَلُمَّ فَصُفُّوا فَصَفَفْنَا قَالَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج حبشہ کا ایک نیک آدمی فوت ہو گیا ہے، اس لیے آؤ اور صفیں بناؤ۔ پس ہم نے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم نے نماز جنازہ پڑھی۔
حدیث نمبر: 10952
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ آذِنِّي بِهِ فَلَمَّا ذَهَبَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ قَالَ يَعْنِي عُمَرَ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ [التوبة: 80] فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا [التوبة: 84] قَالَ فَتُرِكَتِ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی منافق مرا تو اس کا بیٹا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ،جو مسلمان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قمیص عنایت فرمائیں تا کہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں اور آپ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائیں اوراس کے لئے استغفار کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قمیص عطا کر دی اور فرمایا: مجھے وقت پر اطلاع دینا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے آگے ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دواختیار ملے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ ان کے لیے استغفار کریںیا نہ کریں۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی، اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کر دیا: {وَلَا تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا} … اور آپ ان میں سے کسی کی کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھیں۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد ذو القعدہ ۹ھمیں رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی مرا تھا۔ چونکہ اس کا بیٹا مخلص مسلمان تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قمیص کا اور نمازِ جنازہ پڑھانے کا مطالبہ کیا تاکہ اس سے عذاب ٹل جائے، لیکن اس کا مقصد پورا نہ ہو سکا۔
یہ قمیص دینے کے بارے میں مزید اقوال بھی ہیں، مثلا: (۱) عبد اللہ بن ابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی احسان کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے احسان کا بدلہ چکانا چاہا، (۲) یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت کا اظہار تھا تاکہ اس کے بیٹے کی تالیف قلبی ہو جائے اور اس کی قوم خزرج بھی مطمئن ہو جائے، وغیرہ وغیرہ۔
معلوم ہوا کہ کافر، مشرک اور منافق کی نماز جنازہ پڑھنا اور ان کے حق میں بخشش کی دعا کرنا منع ہے۔
درج ذیل روایت میں تفصیل ہے: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی منافق مرا تو اس کی نماز جنازہ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ کا ارادہ کیا تو میں پلٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ گیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے دشمن پر؟ کیا آپ عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ اس نے فلاں فلاں دن یہیہ کہا تھا، ساتھ ہی میں اس کے ہر دن کو شمار کرنے لگا، جس میں اس نے اسلام کے خلاف سازش کی تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے، جب میں نے زیادہ اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اے عمر! پیچھے ہٹ جائو، مجھے نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے پڑھنے کو اختیار کیا ہے، مجھ سے تو یہ کہا گیا ہے کہ {اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِینَ مَرَّۃً فَلَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ} … (آپ ان کے لئے بخشش طلب کریںیا نہ کریں، بلکہ اگر آپ ان کے لئے ستر (۷۰) بار بخشش طلب کریں تو تب بھی اللہ تعالیٰ ہر گز ان کو معاف نہیں کرے گا۔) اور اگر مجھے علم ہو جائے کہ اگر میں ستر بار سے زیادہ استغفار کروں تو اسے بخش دیا جائے گا تو میں اتنی مرتبہ بھی اس کے لئے استغفار کر دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور اس کی قبر تک بھی چل کر تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کی گئی جرأت پر بڑا تعجب ہوا، بہرحال اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم! تھوڑ ا ہی وقت گزرا تھا کہ یہ دو آیتیں نازل ہو گئیں: {وَلَا تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُوْا وَہُمْ فَاسِقُونَ} … اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہیں پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔ (صحیح بخاری: ۱۳۶۶، ۴۶۷۱، واللفظ لاحمد)
یہ قمیص دینے کے بارے میں مزید اقوال بھی ہیں، مثلا: (۱) عبد اللہ بن ابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی احسان کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے احسان کا بدلہ چکانا چاہا، (۲) یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت کا اظہار تھا تاکہ اس کے بیٹے کی تالیف قلبی ہو جائے اور اس کی قوم خزرج بھی مطمئن ہو جائے، وغیرہ وغیرہ۔
معلوم ہوا کہ کافر، مشرک اور منافق کی نماز جنازہ پڑھنا اور ان کے حق میں بخشش کی دعا کرنا منع ہے۔
درج ذیل روایت میں تفصیل ہے: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی منافق مرا تو اس کی نماز جنازہ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ کا ارادہ کیا تو میں پلٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ گیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے دشمن پر؟ کیا آپ عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ اس نے فلاں فلاں دن یہیہ کہا تھا، ساتھ ہی میں اس کے ہر دن کو شمار کرنے لگا، جس میں اس نے اسلام کے خلاف سازش کی تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے، جب میں نے زیادہ اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اے عمر! پیچھے ہٹ جائو، مجھے نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے پڑھنے کو اختیار کیا ہے، مجھ سے تو یہ کہا گیا ہے کہ {اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِینَ مَرَّۃً فَلَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ} … (آپ ان کے لئے بخشش طلب کریںیا نہ کریں، بلکہ اگر آپ ان کے لئے ستر (۷۰) بار بخشش طلب کریں تو تب بھی اللہ تعالیٰ ہر گز ان کو معاف نہیں کرے گا۔) اور اگر مجھے علم ہو جائے کہ اگر میں ستر بار سے زیادہ استغفار کروں تو اسے بخش دیا جائے گا تو میں اتنی مرتبہ بھی اس کے لئے استغفار کر دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور اس کی قبر تک بھی چل کر تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کی گئی جرأت پر بڑا تعجب ہوا، بہرحال اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم! تھوڑ ا ہی وقت گزرا تھا کہ یہ دو آیتیں نازل ہو گئیں: {وَلَا تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُوْا وَہُمْ فَاسِقُونَ} … اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہیں پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔ (صحیح بخاری: ۱۳۶۶، ۴۶۷۱، واللفظ لاحمد)
حدیث نمبر: 10953
عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ فَقَالَ أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عبداللہ بن ابی کی وفات ہوئی تو اس کے بیٹے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے والد کی نماز جنازہ کے لیے تشریف نہ لائے تو ہمیں ہمیشہ کے لیے اس کی عار دلائی جاتیرہے گی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور دیکھا کہ اسے قبر کے اندر رکھا جا چکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے قبر میں رکھنے سے پہلے مجھے کیوں نہیں بلا لیا۔ پھر اسے اس کی قبر سے نکالا گیا، آپ نے اس کے سر سے قدم تک اپنا لعاب مبارک لگایا، اور اسے اپنی قمیض پہنائی۔
حدیث نمبر: 10954
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ نَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں عبداللہ بن ابی کے مرض الموت کے دنوں میں اس کی بیمار پرسی کو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں تجھے یہود کی محبت سے منع کیا کرتا تھا۔ اس نے آگے سے کہا: اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بھی تو ان یہودیوںسے بغض رکھتے تھے، لیکن وہ بھی بالآخر مر ہی گئے۔