کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان حضرات کا تذکرہ جو عذر کی بنا پر غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے
حدیث نمبر: 10941
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ ”إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: مدینہ منورہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم نے جہاں بھی سفر کیا اور جس وادی کو طے کیا، وہ تمہارے ساتھ نہ جانے کے باوجود اجرو ثواب میں تمہارے ساتھ برابر شریک رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ منورہ ہی میں رہے اور سفر کے لیے نہیں نکلے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ مدینہ میں ہی رہے، دراصل بات یہ ہے کہ عذر نے ان کو روکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نیت اچھی ہو تو عمل کے بغیر ثواب مل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10942
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ وَأَنَا أَهَابُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي عَنْهُ وَلَا تَهَبْنِي قَالَ فَقُلْتُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ خَلَّفَهُ بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ سَعْدٌ خَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُخَلِّفُنِي فِي الْخَالِفَةِ فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَدْبَرَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ قَدَمَيْهِ يَسْطَعُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ فَرَجَعَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن مسبب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں، لیکن آپ سے پوچھتے ہوئے ڈرتا بھی ہوں۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، جب تم جانتے ہو کہ میرے پاس کسی بات کا علم ہے تو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، پوچھو، میں نے کہا: غزوۂ تبوک کے موقع پر جب اللہ کے رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنے پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ میں چھوڑنے کا اظہار فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے یہاں غزوہ سے پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کو تھی؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ یوںتیزی سے واپس ہوئے کہ گویا میں ان کے قدموں سے اُڑنے والے غبار کو اب بھی دیکھ رہا ہوں، دوسری روایت میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ جلدی جلدی واپس لوٹ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پرمدینہ کا انتظام سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو سونپا اور بال بچوں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔
حدیث نمبر: 10943
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِمَّا أَنْ تَقُومَ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخْلُونَا هَؤُلَاءِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلْ أَقُومُ مَعَكُمْ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى قَالَ فَابْتَدَؤُوا فَتَحَدَّثُوا فَلَا نَدْرِي مَا قَالُوا قَالَ فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ أُفٍّ وَتُفٍّ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ لَهُ عَشْرٌ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنِ اسْتَشْرَفَ قَالَ أَيْنَ عَلِيٌّ؟“ قَالُوا هُوَ فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ قَالَ فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ ثُمَّ بَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ“ قَالَ وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟“ قَالَ وَعَلِيٌّ مَعَهُ جَالِسٌ فَأَبَوْا فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ قَالَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟“ فَأَبَوْا قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَالَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ قَالَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ قَالَ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] قَالَ وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ لَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ قَالَ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ فَأَدْرِكْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ قَالَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالُوا إِنَّكَ لَلَئِيمٌ كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ قَالَ وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَخْرُجُ مَعَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ لَا“ فَبَكَى عَلِيٌّ فَقَالَ لَهُ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي“ قَالَ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ”أَنْتَ وَلِيِّي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي“ وَقَالَ ” سُدُّوا أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ“ فَقَالَ فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرُهُ قَالَ وَقَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ“ قَالَ وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَالَ ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ ”أَوَكُنْتَ فَاعِلًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرو بن میمون سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میںبیٹھا تھا کہ نو آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: اے ابو العباس! یا تو آپ اٹھ کر ہمارے ساتھ چلیںیایہ لوگ اٹھ جائیں اور ہمیں خلوت دیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہارے ساتھ اٹھ جاتا ہوں، عمر و بن میمون کہتے ہیں: ان دنوں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحت مند تھے، یہ ان کے نابینا ہونے سے قبل کی بات ہے، عمرو کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے ابتداء کرتے ہوئے بات کی، ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا کہا؟ کچھ دیر بعد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے آگئے، وہ کہہ رہے تھے، ہائے افسوس یہ لوگ اس آدمی پر طعن و تشنیع کرتے ہیں، جسے دس امتیازات حاصل ہوں، یہ اس شخصیت پر معترض ہیں، جس کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میں اب ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا کہ جسے اللہ کبھی ناکام نہیں کرے گا، وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کییہ بات سن کر بہت سے لوگوں نے گردنیں اوپر کو اٹھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ بتانے والے نے بتلایا کہ وہ اپنے خیمے میںآٹا پیس رہے ہیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اب تم میں سے کوئی آدمییہ کام نہیں کرتا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور وہ دیکھ بھی نہیں سکتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھو ںمیں لعاب ڈالا، پھر جھنڈے کو تین بار لہرا کر ان کے حوالے کیا، وہ فتح یاب واپس ہوئے اور قیدیوں میں صفیہ بنت حیی بھی تھیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں آدمی کو سورۂ توبہ دے کر روانہ کیا، اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے روانہ فرمایا، انہوں نے جا کر اس سے سورۂ توبہ لے لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس سورت کو ایسا آدمی لے جائے، جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی برادری سے فرمایا تھا کہ تم میں سے کون ہے جو دنیا و آخرت میں میرا ساتھ دے اور میرے ساتھ رہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی وہیں بیٹھے تھے، لوگوں نے انکار کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دنیا و آخرت میں آپ کے ساتھ رہوں گا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا و آخرت میں تم میرے ساتھ ہی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں چھوڑ کر دوسرے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: تم میں سے کون دنیا و آخرت میں میرا ساتھ دے گا؟ لوگوں نے انکار کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دنیا و آخرت میں میں آپ کے ساتھ رہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے ساتھی ہو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد انہوں نے ہی سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر لے کر سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے اوپر ڈال دی اور فرمایا:{اِنَّمَایُرِیْدُ اللّٰہَ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الِّرجْسَ اَھْلَ الْبَیِتَ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا} … صرف اللہ تعالیٰیہ چاہتا ہے کہ وہ اے اہل بیت تم سے گندگی کو دور کر دے اور تم کو پاک صاف کر دے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنی جان کا نذرانہ یوں پیش کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لباس زیب تن کر کے ان کی جگہ پر سوگئے اور مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مار رہے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے، انہوں نے سمجھا کہ یہ اللہ کے نبی ہیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے نبی تو بئر میمون کی طرف تشریف لے گئے ہیں،یہ ایک کنویں کا نام تھا، آپ ان کے پاس مل جائیں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی پیچھے پہنچ گئے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ساتھ چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم راہ غار میں جا داخل ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اسی طرح پتھر مارے گئے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارے جاتے تھے، اور وہ کپڑے ہی میں کپڑے کے نیچے ہی الٹ پلٹ رہے تھے، انہوں نے اپنا سر کپڑے میں اچھی طرح چھپا لیا، سر کو باہر نہیں نکالتے تھے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی، اس کے بعد انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا، تو مشرکین نے کہا: تم بڑے ذلیل ہو، ہم تمہارے ساتھی کو پتھر مارتے تھے تو وہ اس طرح الٹتے پلٹتے نہیں تھے اور تم تو پتھر لگنے پر الٹے سیدھے ہوتے تھے، اور ہمیں یہ بات کچھ عجیب سی لگتی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو ساتھ لیے تبو ک کی طرف روانہ ہوئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آپ کے ہمراہ جاؤں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا تو وہ رونے لگے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو، جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو، میں جاؤں تو تم میرے خلیفہ اور نائب کی حیثیت سے یہاں رہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مزید فرمایا: میرے بعد تم ہر مومن کے دوست ہو۔ نیز فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کو چھوڑ کر باقی تم سب لوگ اپنے اپنے دروازے بند کر دو۔ اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں بھی مسجد میں داخل ہوجاتے تھے، کیونکہ ان کا ا س کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید میں بتلایا کہ کہ وہ اصحاب شجرہ یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں سے راضی ہے، اور ان لوگوں کے دلوں میںجو کچھ تھا، اللہ اس سے بھی واقف تھا، کیا اللہ نے اس کے بعد کسی موقع پر فرمایا کہ اب وہ ان سے ناراض ہو گیا ہے؟ نیز جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن اڑادوں تو اللہ کے نبی نے فرمایا تھا: کیا تم ایسا کرو گے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر ڈالی اور فرمایا :اب تم جو چاہو کرتے رہو، (میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مقصود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا غزوۂ تبوک کے متعلقہ تذکرہ ہے، جس کے بارے میں امام ابن تیمیہi نے کہا: اس حدیث کے بعض جملے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ ہیں، جیسا کہ یہ جملہ ہے: ((أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی إِلَّا أَنَّکَ لَسْتَ بِنَبِیٍّ، إِنَّہُ لَا یَنْبَغِی أَنْ أَذْہَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِیفَتِی۔)) … (تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو، میں جاؤں تو تم میرے نائب کی حیثیت سے یہاں رہو)۔ کیونکہ کئی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ اور نائب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور صحابی ہوا کرتا تھا، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرۂ حدیبیہ کے موقع پر تشریف لے گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر نائب کوئی اور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ خیبر کے لیے روانہ ہوئے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر خلیفہ کوئی اور صحابی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر تشریف لے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدینہ پر مقرر کردہ خلیفہ کوئی اور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں شرکت کی، ان میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر نائب کوئی اور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر نائب کوئی اور تھا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر کے لیے تشریف لے گئے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مدینہ پر نائب کوئی اور تھا۔ یہ تمام تاریخی امور صحیح اسانید اور اہل علم کے اتفاق سے معروف ہیں، زیادہ تر غزوات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، اگرچہ لڑائی نہ لڑی گئی ہو۔ (منھاج السنۃ: ۵/ ۳۴)
حدیث نمبر: 10944
عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَلَمَّا فَصَلَ سَرَى لَيْلَةً فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ فَأُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي نِصْفِ اللَّيْلِ فَرَكِبَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ وَرِجْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ حَسِّ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ سَلْ فَقَالَ فَطَفِقَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُنِي ”مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الطُّوَالُ الْقِطَاطُ؟“ (أَوْ قَالَ الْقِصَارُ“ عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَشُكُّ) الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَظِيَّةِ شَرْخٍ“ قَالَ فَذَكَرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَمْنَعُ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَادْعُوا هَلْ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ وَأَسْلَمَ وَغِفَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ ، یہ ان صحابہ میں سے ہیں جنہوںنے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں غزوۂ تبوک میں شرکت کی، جب آپ روانہ ہوئے تو آپ رات کو چلتے رہے، میں بھی آپ کے قریب چلتا رہا، مجھے اونگھ آگئی، میں جاگنے کی کوشس کرنے لگا، میری سواری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے قریب تھی، مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ مبادا میں رکاب میں رکھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں سے ٹکرا نہ جاؤں، اس لیے میں اپنی سواری کو ذرا پیچھے رکھتا، یہاں تک کہ جب نصف رات ہوئی تو میری آنکھ مجھ پر غالب آگئی اور میری سواری آپ کی سواری پر جا چڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاؤں رکاب میں تھا، میری سواری آپ کے پاؤں کے ساتھ جا ٹکرائی اور میں تب بیدار ہوا جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حَسِّ کے الفاظ سنے (جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلیف محسوس کرنے پر کہے)، سو میں نے اپنا سر اوپر کو اُٹھایا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت (اس گستاخی کی معافی) کی دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ بھی سوال کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے بنو غفار کے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے متعلق دریافت کرنے لگے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتانے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ ان سرخ رنگ، طویل قامت سخت گھونگھر یالے بالوں والوں نے کیا کیا؟یا آپ نے فرمایا کہ چھوٹے بالوں والوں نے کیا کیا؟ یہ شک عبدالرزاق کو ہوا ہے۔ وہ لوگ جن کی حجاز میں مقامِ شرخ پر پہاڑوں کی چوٹیوں پر بکریاں ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ وہ بنو غفار میں سے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں آیا پھر مجھے بنو اسلم کا خیال آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ خود تو پیچھے رہ گئے، انہیں کیا مانع تھا کہ وہ اپنے اونٹوں میں سے کسی اونٹ پر اپنی بجائے دوسرے کسی چست سے آدمی کو اللہ کی راہ میں روانہ کر دیتے۔ میں پکار کر معلوم کرتا ہوں کہ قریش، انصار، بنو اسلم اور بنو غفار میں سے کون لوگ مہاجرین سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 10945
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ فَطَفِقْتُ أُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي عَنْهُ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَقَالَ مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ“ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ هَؤُلَاءِ مِنَّا حَتَّى قَالَ بَلَى الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ“ قَالَ فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حِلْفًا فِينَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حُلَفَاءَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔( دوسری سند) سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی سواری کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیچھے رکھنے کی کوشش کرنے لگا، تاآنکہ میری آنکھ مجھ پر غالب آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سیاہ فام، پست قد، سخت گھونگریالے بالوں والوں نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کیقسم! میں اپنے لوگوں میں ایسے لوگوں کو نہیں جانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ جن کی مقام شبکہ شرخ میں بکریاں ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ ایسے لوگ تو بنو غفار میں ہیں، پھر مجھے یاد آیا کہ ایسے لوگ بنو اسلم کے ہیں، وہ لوگ ہمارے حلیف تھے، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ بنو اسلم سے ہیں اور وہ ہمارے حلیف تھے۔