کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قیامِ تبوک کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابہ کرام کو فارس اورروم کی فتح کی بشارت دینے کا بیان اور ان خصوصیات کا بیان، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبوک میں نوازا اور تبوک سے واپسی پر منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بیان
حدیث نمبر: 10937
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي فَاجْتَمَعَ وَرَاءَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَحْرُسُونَهُ حَتَّى إِذَا صَلَّى وَانْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي أَمَّا أَنَا فَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ عَامَّةً وَكَانَ مَنْ قَبْلِي إِنَّمَا يُرْسَلُ إِلَى قَوْمِهِ وَنُصِرْتُ عَلَى الْعَدُوِّ بِالرُّعْبِ وَلَوْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لَمُلِئَ مِنْهُ رُعْبًا وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ آكُلُهَا وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ أَكْلَهَا كَانُوا يُحْرِقُونَهَا وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُورًا أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ وَالْخَامِسَةُ هِيَ مَا هِيَ قِيلَ لِي سَلْ فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَهِيَ لَكُمْ وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک والے سال اللہ کے رسول قیام اللیل کے لیے کھڑے ہوئے،صحابہ کرام آپ کا پہرہ دینے کے لیے آپ کے پیچھے جمع ہو گئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ان کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: آج رات مجھے پانچ ایسی خصوصیات سے نوازا گیا ہے کہ مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو وہ خصوصیات عطا نہیں کی گئیں، مجھے روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہے، مجھ سے پہلے محض اپنی اپنی قوم کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیے جاتے تھے، دشمن پر رعب اور ہیبت کے ذریعے میریمدد کی گئی ہے، اگر چہ میرے اور اس کے درمیان ایک ماہ کی مسافت کیوں نہیں ہو، وہ اس کے باوجود مرعوب ہو جاتا ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں اور میں اور میری امت اس مال کو کھا سکتے ہیں اور پوری زمین کو میرے لیے مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، مجھے جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے تو تیمم کر کے نماز ادا کر سکتا ہوں، مجھ سے پہلے لوگ اس خصوصیت سے محروم تھے، وہ اپنے گرجا گھروں اور مقررہ عبادت گاہوں میں ہی نماز ادا کر سکتے تھے اور پانچویں خصوصیت کے تو کیا ہی کہنے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے کہا گیا کہ آپ سوال کریں، ہر نبی اللہ تعالیٰ سے درخواست کر چکا ہے، تو میں نے اپنی درخواست کو قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے، میرییہ درخواست تمہارے حق میں اور ہر اس آدمی کے حق میں ہو گی جو صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پانچ خصوصیات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر بڑا احسان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة / حدیث: 10937
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7068»
حدیث نمبر: 10938
عَنْ أَبِي هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ كَنْزَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ وَلَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو ہمام شعبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو خثعم کے ایک شخص نے مجھے بیان کیا کہ ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو قیام کیا، صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب اکٹھے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آج رات مجھے فارس اور روم کے دو خزانے عطا فرما دئیے ہیں اور سرخ رنگ کے شاہانِ حمیر کے ذریعہ میری مدد فرمائی ہے، درحقیقت بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، یہ بادشاہ آتے ہیں اور اللہ کا مال لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ممالک کے بارے میں یہ پیشین گوئی کر گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ان کوفتح کر لے گی اور صحابہ کے دور میں ہییہ پیشین گوئی پوری ہو گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة / حدیث: 10938
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي ھمام الشعباني، أخرجه عبد الرزاق: 19878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22691»
حدیث نمبر: 10939
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُودُهُ حُذَيْفَةُ وَيَسُوقُ بِهِ عَمَّارٌ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وُجُوهَ الرَّوَاحِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحُذَيْفَةَ قَدْ قَدْ حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ فَقَالَ يَا عَمَّارُ هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ فَقَالَ قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَطْرَحُوهُ قَالَ فَسَأَلَ عَمَّارٌ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ كَمْ تَعْلَمُ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ فَقَالَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ فَعَدَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةً قَالُوا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ فَقَالَ عَمَّارٌ أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ قَالَ الْوَلِيدُ وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنْ لَا يَرِدَ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رَهْطًا قَدْ وَرَدُوهُ قَبْلَهُ فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک سے واپس ہوئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا اور اس نے اعلان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑ کے اوپر والا راستہ اختیار کریں گے، لہٰذا کوئی دوسراآدمییہ راستہ اختیار نہ کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ او رپیچھے پیچھے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھے، منہ چھپائے اونٹوں پر سوار کچھ لوگ اچانک آگئے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پر ازدحام کر لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ کو ہانک رہے تھے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان حملہ آوروں کے اونٹوں کے مونہوں پر مارنا شروع کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بس، بس۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اتر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیچے اترے تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ واپس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمار ! کیا آپ نے ان لوگوں کو پہنچانا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں اکثر اونٹوں کو تو پہچان چکا ہوں، البتہ وہ لوگ منہ چھپائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ ان کا کیا ارادہ تھا؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا ارادہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الگ کر کے لے جائیں اور ان کو نیچے گرا دیں، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے چپکے سے ایک صحابی سے بات کی اور پوچھا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ اس نے کہا: چودہ، انہوں نے کہا کہ اگر تم بھی انہی میں سے ہو تو یہ کل تعداد پندرہ ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے تین آدمیوں کا نام لیا، جنہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم نے اللہ کے رسول کی طرف سے اعلان کرنے والے کا اعلان نہیں سنا تھا، اور نہ ہی ہمیں ان لوگوں کے ارادہ کا علم تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے باقی پندرہ آدمی سب ہی دنیا اور آخرت میں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ ولید نے کہا کہ سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ نے اس غزوہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جب پانی کی قلت کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا اور اعلان کرایا کہ اللہ کے رسول سے پہلے کوئی آدمی پانی کے قریب نہ جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پانی کے قریب پہنچے تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔ تو اس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر لعن طعن کیا۔
وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہاڑ کے اوپر والا راستہ اختیار کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان منافقین کو رسوا اور ناکام ظاہر کرنا چاہتے تھے، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبوک سے واپسی پر قتل کر دینے کا مشورہ کیا تھا۔
حدیث کے آخر میں جس پانی کا ذکر ہے، اس کی تفصیل حدیث نمبر (۱۰۹۳۱)والے باب میں گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة / حدیث: 10939
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24202»