کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عمرۂ جعرانہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان
حدیث نمبر: 10922
عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنَ الْجِعْرَانَةِ حِينَ أَمْسَى مُعْتَمِرًا فَدَخَلَ مَكَّةَ لَيْلًا فَقَضَى عُمْرَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى جَامَعَ الطَّرِيقُ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ بِسَرِفَ قَالَ مُحَرِّشٌ فَلِذَلِكَ خَفِيَتْ عُمْرَتُهُ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ كَبَائِتٍ) فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا محرش کعبی خزاعی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمرہ کے لیے روانہ ہوئے تو جعرانہ سے رات کے وقت چلے، آپ نے مکہ مکرمہ جا کر عمرہ ادا کیا اور راتوں رات واپس جعرانہ پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جعرانہ میں اس طرح صبح کی، جیسے وہاں ہی رات بسر کی ہو، حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ سے روانہ ہو کر سرف کے درمیان میں آئے تاآنکہ آپ مدینہ کے راستہ پر پہنچ گئے، محرش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی لیے بہت سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمرہ کی اطلاع نہیں ہو سکی، میں نے آپ کی پشت مبارک کو دیکھا، وہ یوں نظر آرہی تھی، جیسے چاندی کی پلیٹ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ میں ہی تھے کہ ذو القعدہ کا مہینہ شروع ہو گیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرے کا احرام باندھا اور راتوں رات عمرہ کر کے واپس تشریف لائے، اس کو عمرۂ جعرانہ کہا جاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کو روانہ ہو گئے اور ذو القعدہ میں سے تینیا چھ دن باقی تھے کہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10922
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 5/ 200 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15604»