کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جعرانہ کے مقام پر حنین کی غنیمتوں کی تقسیم، بنو ہوازن کے وفد کی مسلمان ہو کر آمد اور ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے قیدیوں اور اموال کی واپسی کی درخواست کا بیان
حدیث نمبر: 10916
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ قَالَ فَازْدَحَمُوا عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى قَوْمِهِ فَكَذَّبُوهُ وَشَجُّوهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبْهَتَهُ يَحْكِي الرَّجُلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے اموالِ غنیمت جعرانہ کے مقام پر تقسیم کیے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگر جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہجوم کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا، جب قوم نے اس کی تکذیب کی اور اس کا سر زخمی، خون آلود کیا، تو وہ اپنی پیشانی سے خون صاف کرتا اور کہتا تھا، اے میرے رب! میری قوم کو معاف کر دے، وہ حقیقت سے واقف نہیں۔ ابو وائل کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس بندے کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پیشانی کو صاف کرنے کا اشارہ بھی کر رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بردباری، شفقت،صبر اور معافی جیسی صفات سے متصف تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10916
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3477، 6929 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4057»
حدیث نمبر: 10917
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى صَارَ وَإِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ بغض تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن مجھے مالِ غنیمت میں سے حصہ دیا اور مجھے برابر عنایت فرماتے رہے تاآنکہ وہ میری نظروں میں سب لوگوں سے زیادہ محبوب ٹھہرے۔
وضاحت:
فوائد: … صفون بن امیہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین میں شریک ہوئے تھے، جبکہ وہ کافر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تالیف قلبی کے لیے ان کو بہت سارا مال و دولت عطا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد پورا ہو گیا اور یہ مسلمان ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10917
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2313 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15378»
حدیث نمبر: 10918
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ فِضَّةً فِي ثَوْبِ بِلَالٍ لِلنَّاسِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ لَقَدْ خِبْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ أَوْ تَرَاقِيهِمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جعرانہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چاندی ڈال کر لوگوں میں تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! انصاف کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر بڑا افسوس ہے، اگر میں نے انصاف نہیں کیا تو اور کون کرے گا؟ اگر میں انصاف نہیں کیا تو پھر میں یقینا سر ا سر خسارے میں ہوں۔ اس آدمی کی بات سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کا کام تمام کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات سے اللہ کی پناہ، لوگ باتیں بنائیں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ بے شک یہ اور اس کے دوسرے ساتھی (بظاہر) قرآن تو پڑھتے ہیں۔ لیکن وہ ان کے حلق سے یا سینے سے نیچے نہیں اترتا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جیسے تیر شکار میں سے پار گزر جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1063 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14864»
حدیث نمبر: 10919
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَجَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ فَقَالَ اخْتَارُوا بَيْنَ نِسَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ قَالُوا خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا نَخْتَارُ أَبْنَاءَنَا فَقَالَ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَقُولُوا إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَبِالْمُؤْمِنِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا قَالَ فَفَعَلُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي فَزَارَةَ فَلَا وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا فَقَالَتِ الْحَيَّانِ كَذَبْتَ بَلْ هُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ بِشَيْءٍ مِنَ الْفَيْءِ فَلَهُ عَلَيْنَا سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَتَعَلَّقَ بِهِ النَّاسُ يَقُولُونَ اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا بَيْنَنَا حَتَّى أَلْجَأُوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ لَكُمْ بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمٌ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا ثُمَّ دَنَا مِنْ بَعِيرِهِ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ فَجَعَلَهَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَفَعَهَا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ وَلَا هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَرُدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا فَقَامَ رَجُلٌ مَعَهُ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَذْتُ هَذِهِ أُصْلِحُ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبِرَ قَالَ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي بِهَا وَنَبَذَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ حنین کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، کہ بنو ہوازن کے وفود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے عرض کیا: اے محمد! ہم آپ ہی کا خون اور قبیلہ ہیں، آپ ہم پر احسان کریں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ بے شک ہم پر ایک ایسی آزمائش آن پڑی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخفی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی عورتوں، اموال اور بیٹوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو۔ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنے حسب ونسب اور اموال کے بارے میں اختیار دیا ہے تو ہم اپنے بیٹوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں جوکچھ آتا ہے، وہ تمہیں واپس کرتا ہوں، جب میں ظہر کی نماز ادا کر لوں تو تم کہنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مومنین کے سامنے اور مومنین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنی عورتوں اور اولادوں کے بارے میں درخواست گزار ہیں۔ انھوں نے ایسے ہی کیا اور جب انھوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں آتا ہے، میں وہ تمہیں واپس کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن کر مہاجرین نے کہا: جو کچھ ہمارے حصہ میں آتا ہے، ہم وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیتے ہیں۔ انصار رضی اللہ عنہ نے بھی ایسے ہی کہا، عیینہ بن بدر بولا کہ جو میرا اور بنو فزارہ کا حصہ ہے ہم تو وہ نہیں دیں گے۔ اقرع بن حابس نے بھی کہا کہ میں اور بنو تمیم بھی اپنے حصے واپس نہیں کریں گے۔ عباس بن مرداس نے کہا کہ میں اور بنو سلیم بھی اپنے حصے واپس نہیں کرتے۔ اس پر دونوں قبائل نے کہا تم نے غلط کہا: بلکہ ہمارے حصے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو!تم ان کی عورتیں اور بیٹے انہیں لوٹا دو، جو آدمی مالِ فے میں سے کچھ رکھنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں سب سے پہلے جو مالِ فے دے گا، ہم اسے اس میں سے چھ چھ حصے دیں گے، اس کے بعد آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو گئے اور لوگ آپ کو چمٹ گئے، وہ کہہ رہے تھے کہ آپ مال فے ہمارے درمیان تقسیم کریں۔ انہوں نے آپ کو کیکریا ببول کی طرف جانے پر مجبور کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اچک لی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میری چادر تو واپس کرو۔ اللہ کی قسم! اگر تہامہ کے درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوں تو میں ان کو تمہارے درمیان بانٹ دوں گا اور تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہیں پاؤ گے۔ پھر آپ نے اپنے اونٹ کے قریب ہو کر اس کے کوہاں کے چند بال پکڑ کر اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان پکڑ کر انگلی کو اوپر کی طرف اُٹھا کر فرمایا: لوگو! اس مال فے میں سے اتنی سی چیز بھی میری نہیں، سوائے خمس کے، اور وہ بھی تم میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، تم دھاگہ اور سوئی تک یعنی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی واپس کرو۔ بے شک مال غنیمتیا مالِ فے کی تقسیم سے پہلے کوئی چیز لینا اس آدمی کے لیے قیامت کے دن عار، نار اور عیب کا سبب ہو گا، ایک آدمی جس کے پاس بالوں کا ایک گچھا تھا، وہ اٹھا اور اس نے کہا: میں نے اپنے اونٹ کی پشت پر آئے ہوئے زخم کے اوپر رکھے جانے والے کپڑے کی مرمت کے لیےیہ گچھا لے لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس گچھے میں جو میرا اور بنو عبدالمطلب کا حصہ ہے، میں تمہیں وہ معاف کرتا ہوں۔ وہ کہنے لگا: یارسول اللہ! جب بات اس حد تک جا پہنچی ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، یہ کہہ کر اس نے وہ گچھا پھینک دیا۔
وضاحت:
فوائد: … انہوں نے عرض کیا: اے محمد! ہم آپ ہی کا خون اور قبیلہ ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سعد بن بکر بن ہوازن میں دودھ پیا تھا، دودھ پلانے والی حلیمہ سعدیہ تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10919
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه النسائي: 6/ 262 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6729»
حدیث نمبر: 10920
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوا أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيُ وَإِمَّا الْمَالُ وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيئُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَجَمَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدنا مروان اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے اسے خبردی کہ جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اموال اور قیدی واپس لوٹا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ساتھ کتنے لوگ ہیں، سچی بات کرنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے، لہٰذا تم قیدیوںیا مال میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرو، میں اس سے پہلے تمہیں کچھ مہلت دے چکا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف سے واپسی پر انہیں دس سے زائد راتوں کی مہلت دی تھی،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا عرصہ ان کا انتظار کرتے رہے، جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دو میں سے کوئی ایک چیز ہی واپس کریں گے، تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ ہمیں واپس کر دئیے جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ان الفاظ کے ساتھ حمد وثناء بیان کی جس کا حقدار ہے اور پھر فرمایا: تمہارےیہ بھائی تائب ہو کر آئے ہیں، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ان کے قیدیوں کو ان کے حوالے کر دوں، تم میں سے جو کوئی خوشی سے ایسا کرنا چاہیے تو کرلے اور تم میں سے جو اپنا حصہ لینا چاہتا ہو تو ہمارے پاس سب سے پہلے جو مالِ فے آئے گا، ہم اس سے ان کو حصہ ادا کر دیں گے، جو کوئی ایسا کرنا چاہتا ہو وہ ایسے کر لے۔ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم بھی بخوشی ایسا ہی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ تم میں سے کس نے اس بات کی اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی، تم لوگ واپس جاؤ اور تمہاری طرف سے تمہارے نمائندے ہمارے پاس آکر تمہاری بات پہنچائیں گے۔ ان نمائندوں نے لوگوں کو جمع کر کے ان سے گفتگو کی، انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ انہوں نے بخوشی اس کی اجازت دے دی ہے۔ عروہ نے کہا کہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق مجھے یہ حدیث پہنچی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10920
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2307، 2308، 2539، 2583، 2608، 3131، 4318 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19121»