کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس امر کا بیان کہ غزوۂ طائف ان مشرکین کی وجہ سے پیش آیا جو غزوۂ حنین سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے
حدیث نمبر: 10911
عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِصْنَ الطَّائِفِ أَوْ قَصْرَ الطَّائِفِ فَقَالَ مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ لَهُ عِدْلُ مُحَرَّرٍ وَمَنْ أَصَابَهُ شَيْبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں طائف کے قلعہ یا محل کا محاصرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر چلایا، اسے جنت میں ایک درجہ ملے گا۔ چنانچہ میں نے اس دن سولہ تیر چلائے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اور جس نے اللہ کی راہ میں دشمن کو تیر مارا، اسے ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنے کے برابر ثواب ہو گا اور جو آدمی اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا تو بڑھاپے کییہ سفیدی قیامت کے دن اس کے لیے نور کا سبب ہو گی۔
حدیث نمبر: 10912
عَنْ أَبِي طَرِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا رَمَى لَرَأَى مَوْقِعَ نَبْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو طریف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں عصرکی نماز ایسے وقت پڑھاتے تھے کہ اگر کوئی آدمی اس نماز سے فارغ ہو کر تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھنا چاہتا تو ( باآسانی ) دیکھ سکتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … درست اور راجح بات یہ ہے کہ یہ عصر کی نماز نہیں ہوتی تھی، بلکہ مغرب کی نماز ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 10913
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ طائف کا محاصرہ کیا تو ان میں سے دو غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آملے، ان میں سے ایک کا نام ابو بکرہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ یہی تھی کہ جب دشمن کی طرف سے کوئی غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آ ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آزاد فرما دیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی وجۂ کنیتیہ ہے کہ وہ قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر ایک چرخی کی مدد سے، جس کے ذریعے رہٹ سے پانی کھینچا جاتا ہے، لٹک کر نیچے آ گئے، جبکہ عربی میں چرخی کو بَکْرَۃ کہتے ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کنیت ابو بکرہ رکھ دی۔
حدیث نمبر: 10914
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنَ الْعَبِيدِ فَهُوَ حُرٌّ فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنَ الْعَبِيدِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرَةَ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والے دن فرمایا: جو غلام ہمارے پاس آ جائیں گے، وہ آزاد ہوں گے۔ پھر سیدنا ابو بکرہ سمیت کچھ غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … دیگر احادیث بھی موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کسی کافر کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا، لیکن ذہن نشین رہے کہ اگر مالک اپنے غلام سے پہلے مسلمان ہو جائے اور پھر غلام مسلمان ہو تو غلام کو مالک کی طرف لوٹا دیا جائے گا، کیونکہ مالک نے قبولیت ِ اسلام کے ذریعے اپنا مال محفوظ کر لیا اور اس کا غلام بھی اس کا مال ہے۔ دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۲۰)
حدیث نمبر: 10915
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ وَلَمْ يُقَدِّرْ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ قَالَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكَأَنَّ الْمُسْلِمِينَ كَرِهُوا ذَلِكَ فَقَالَ اغْدُوا فَغَدَوْا عَلَى الْقِتَالِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اہلِ طائف کا محاصرہ کیا اور کامیابی نہیں ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یوں محسوس ہوا کہ گویا مسلمانوں نے اس فیصلہ کو پسند نہیں کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے صبح لڑائی کرنا۔ جب صبح ہوئی تو مسلمانوں نے لڑائی کی، جس کے نتیجہ میں کافی مسلمان زخمی ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یہ سن کر مسلمان خوش ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کییہ کیفیت دیکھ کر ہنس دئیے۔