کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غزوۂ حنین میں جو مشرکین اوطاس کی طرف فرار ہو گئے تھے، ان کو گرفتار کرنے کے لیے ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کی مہم کا بیان
حدیث نمبر: 10909
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ الْقَيْسِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ الْأَشْعَرِيُّ أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمَّا هَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ عَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ عَلَى خَيْلِ الطَّلَبِ فَطَلَبَ فَكُنْتُ فِيمَنْ طَلَبَهُمْ فَأَسْرَعَ بِهِ فَرَسُهُ فَأَدْرَكَ ابْنَ دُرَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ فَقَتَلَ أَبَا عَامِرٍ وَأَخَذَ اللِّوَاءَ وَشَدَدْتُ عَلَى ابْنِ دُرَيْدٍ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ اللِّوَاءَ وَانْصَرَفْتُ بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْمِلُ اللِّوَاءَ قَالَ يَا أَبَا مُوسَى قُتِلَ أَبُو عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو يَقُولُ اللَّهُمَّ عُبَيْدَكَ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ اجْعَلْهُ مِنَ الْأَكْثَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حنین میں بنو ھوازن کو ہزیمت سے دو چار کیا، تو رسول اللہ نے بھاگ جانے والے مشرکین کا پیچھا کرنے کے لیے سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کو گھڑ سواروں کے ایک دستہ پر مامور فرمایا،یہ ان کے پیچھے روانہ ہوئے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، سیدنا ابو عامر رضی اللہ عنہ کا گھوڑا تیزی سے ان کو لے کر آگے نکل گیا، انہوں نے ابن درید بن کو جا لیا، ابن درید نے ابو عامر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا اور ان کا جھنڈا قبضے میں لے لیا، میں نے ابن درید کا پیچھا کر کے اسے قتل کر دیا اور جھنڈا دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا، اور میں لوگوں کے ہمراہ واپس ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا اُٹھائے دیکھا تو فرمایا: اے ابو موسیٰ ! کیا ابو عامر قتل ہو گئے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوںہاتھ اٹھائے یہ دعا کر رہے تھے: اے اللہ اپنے پیارےبندے عبید ابو عامر کو قیامت کے روز ان لوگوں میں بنانا جن کے صالح اعمال بہت اور بے شمار بلند درجات ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں درج ذیل سیاق کے ساتھ ہے: سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا فَرَغَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلٰی جَیْشٍ إِلٰی أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللّٰہُ أَصْحَابَہُ قَالَ أَبُو مُوسٰی: وَبَعَثَنِی مَعَ أَبِی عَامِرٍ فَرُمِیَ أَبُو عَامِرٍ فِی رُکْبَتِہِ رَمَاہُ جُشَمِیٌّ بِسَہْمٍ فَأَثْبَتَہُ فِی رُکْبَتِہِ فَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ: یَا عَمِّ! مَنْ رَمَاکَ؟ فَأَشَارَ إِلٰی أَبِی مُوسٰی فَقَالَ: ذَاکَ قَاتِلِی الَّذِی رَمَانِی فَقَصَدْتُ لَہُ فَلَحِقْتُہُ فَلَمَّا رَآنِی وَلّٰی فَاتَّبَعْتُہُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَہُ: أَلَا تَسْتَحْیِی، أَلَا تَثْبُتُ فَکَفَّ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَیْنِ بِالسَّیْفِ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ قُلْتُ لِأَبِی عَامِرٍ: قَتَلَ اللّٰہُ صَاحِبَکَ، قَالَ: فَانْزِعْ ہٰذَا السَّہْمَ فَنَزَعْتُہُ فَنَزَا مِنْہُ الْمَائُ، قَالَ: یَا ابْنَ أَخِی! أَقْرِئِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السَّلَامَ وَقُلْ لَہُ: اِسْتَغْفِرْ لِی وَاسْتَخْلَفَنِی أَبُو عَامِرٍ عَلَی النَّاسِ فَمَکُثَ یَسِیرًا ثُمَّ مَاتَ فَرَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی بَیْتِہِ عَلٰی سَرِیرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَیْہِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِیرِ بِظَہْرِہِ وَجَنْبَیْہِ فَأَخْبَرْتُہُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِی عَامِرٍ وَقَالَ قُلْ لَہُ اسْتَغْفِرْ لِی فَدَعَا بِمَاء ٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِعُبَیْدٍ أَبِی عَامِرٍ وَرَأَیْتُ بَیَاضَ إِبْطَیْہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَوْقَ کَثِیرٍ مِنْ خَلْقِکَ مِنَ النَّاسِ۔)) فَقُلْتُ: وَلِی فَاسْتَغْفِرْ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ذَنْبَہُ وَأَدْخِلْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُدْخَلًا کَرِیمًا۔))
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعامر کو ایک لشکر کا سردار بنا کر قوم اوطاس کی جانب بھیجا، ان کا مقابلہ درید سے ہوا، درید مارا گیا اور اس کے ساتھیوں کو اللہ نے شکست دی، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھی ابوعامر کے ساتھ بھیجا تو ابوعامر کے گھٹنا میں ایک تیر آکر لگا جو ایک جشمی آدمی نے پھینکا تھا، وہ تیر ان کے زانو میں اتر گیا، میں ان کے پاس گیا اور پوچھا، چچا جان! آپ کو کس نے تیر مارا ہے؟ انہوں نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بتایا کہ میرا قاتل وہ ہے، جس نے میرے تیر مارا ہے، پس میں اس کی تاک میں چلا، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے کہتا جارہا تھا: اوبے غیرت، اوبے غیرت، اب ٹھہرتا کیوں نہیں؟ وہ ٹھہر گیا میں اور وہ ایک دوسرے پر تلواروں سے حملہ آور ہوئے اور میں نے اسے قتل کردیا، پھر میں نے ابوعامر سے کہا: اللہ نے آپ کے قاتل کو ہلاک کر دیا ہے، انہوں نے کہا: میرایہ پیوست شدہ تیر تو نکالو میں نے وہ تیر نکالا تو اس (زخم) سے پانی نکلا، انہوں نے کہا: برادر زادہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ سے عرض کرنا کہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں، ابوعامر نے مجھے اپنی جگہ امیر لشکر نامزد کیا۔ پھر وہ تھوڑی دیر زندہ رہ کر شہید ہوگئے، میں واپس لوٹا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مکان میں ایک بان والی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس پر (برائے نام ایسا) بستر تھا کہ چارپائی کے بان کے نشانات آپ کی پشت اور پہلو میں پڑے ہوئے تھے، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے اور ابوعامر کے حالات کی اطلاع دی اور (میں نے کہا کہ) انہوں نے آپ سے یہ عرض کرنے کو کہا ہے کہ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کی مغفرت فرما اور (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اتنے اونچے تھے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی میں دیکھ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے قیامت کے دن اپنی بہت ساری مخلوق پر فضیلت عطا فرما۔ میں نے عرض کیا: میرے لئے بھی دعائے مغفرت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! عبداللہ بن قیس کے گناہوں کو بخش دے اور قیامت کے دن اسے معزز جگہ داخل فرما۔ ابوبردہ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک دعا سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لئے تھی اور دوسری سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10909
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نُعيم، ولانقطاعه، الضحاك بن عبد الرحمن روايته عن ابي موسي مرسلة، أخرجه ابويعلي: 7222، وابن حبان: 7191 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19796»
حدیث نمبر: 10910
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَكْثَرِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقُتِلَ عُبَيْدٌ يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَقَتَلَ أَبُو مُوسَى قَاتِلَ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قَاتِلِ عُبَيْدٍ وَبَيْنَ أَبِي مُوسَى فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کو قیامت کے دن اکثر لوگوں پر مرتبہ کے لحاظ سے فوقیت عطا کرنا۔ یہ سیدنا عبید رضی اللہ عنہ او طاس کے دن شہید ہو گئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبید کے قاتل (ابن درید) کو قتل کر دیاتھا،ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل اور میرے والد کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10910
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19929»