کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غزوۂ حنین کے وقوع کی تاریخ اور سبب وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 10897
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَانَ الرَّوَاحُ فَقَالَ {أَجَلْ} فَقَالَ {يَا بِلَالُ} فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ فَقَالَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَأَنَا فِدَاؤُكَ فَقَالَ {أَسْرِجْ لِي فَرَسِي} فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيهِمَا أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ قَالَ فَأَسْرَجَ قَالَ فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا فَصَافَفْنَاهُمْ عَشِيَّتَنَا وَلَيْلَتَنَا فَتَشَامَتِ الْخَيْلَانِ فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {يَا عِبَادَ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ} ثُمَّ قَالَ {يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ} قَالَ ثُمَّ اقْتَحَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسِهِ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَأَخْبَرَنِي الَّذِي كَانَ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنِّي ضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ وَقَالَ {شَاهَتِ الْوُجُوهُ} فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ فَحَدَّثَنِي أَبْنَاؤُهُمْ عَنْ آبَائِهِمْ أَنَّهُمْ قَالُوا لَمْ يَبْقَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ وَفَمُهُ تُرَابًا وَسَمِعْنَا صَلْصَلَةً بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَإِمْرَارِ الْحَدِيدِ عَلَى الطَّسْتِ الْحَدِيدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم شدید گرمی والے ایک دن میں چلتے رہے، ہم نے درختوں کے سائے کے نیچے قیام کیا، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنے ہتھیار سجا لیے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خیمہ میں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت ہو، روانگی کا وقت ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو آواز دی، وہ ایک کیکریا ببول کے نیچے سے جلدی سے اُٹھ کر آئے، اس کا سایہ پرندے کے سائے کی طرح تھا، انہوں نے کہا: میں آپ پر قربان جاؤں، میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے گھوڑے پر زین کسو۔ انہوں نے زین نکالی، جس کے دونوں پہلو کھجور کی جالی دار جھلی کے تھے، جن میں فخروغرور کا کوئی عنصر نہ تھا، پس انہوں نے زین کس دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ہم بھی اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو گئے، جب ہم دن کے پچھلے پہر اور ساری رات دشمن کے بالمقابل صف آراء رہے۔ دونوں گروہوں کی انتہائی کوشش تھی کہ وہ اپنے فریق مخالف پر غالب رہے، مسلمان پیٹھ دے کر ہٹ آئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا قرآن کریممیں تذکرہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اے مہاجرین کی جماعت ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھوڑے سے اتر آئے اور جو آدمی میری نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تر تھا، اس نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹھی بھر مٹی لے کر ان کے چہروں کی طرف پھینکی اور فرمایا: یہ چہرے رسوا اور ذلیل ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو ہزیمت دی۔ یحییٰ بن عطاء نے حماد بن سلمہ کو بیان کیا کہ کفار کی اولاد نے اپنے آباء سے روایت کیا کہ انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے ہر ایک کی آنکھیں اور منہ مٹی سے بھر گئے اور ہم نے آسمان اور زمین کے درمیان ایسی آواز سنی، جیسے لوہے کے تھال پر لوہا گھسیٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … غزوہ کی ابتدا میں مسلمانوں کی شکست کی دو وجوہات ہیں
۱۔ لشکر ِ اسلام کو چھپے ہوئے دشمن کا علم نہ تھا، ابھی وہ اتر ہی رہا تھا کہ اچانک دشمن نے ٹڈی دل کی طرح تیروں کی بارش کر دی، پھر وہ فرد واحد کی طرف ٹوٹ پڑا، اس اچانک حملے سے ہراول دستے میں اضطراب پھیل گیا اور اس میں موجود مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔
۲۔ ایک مسلمان نے کہا تھا کہ اس غزوہ میں ہم قلت کی وجہ سے شکست نہیں کھائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَّیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْــــًـا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ۔} … بلاشبہ یقینا اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمھاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی، جب تمھاری کثرت نے تمھیں خود پسند بنا دیا، پھر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ وہ فراخ تھی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹ گئے۔ (سورۂ توبہ: ۲۵)
گویا معاملہ ایسا نہیں ہے، اسلامی لشکر کی بنیاد اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10897
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 529، والدارمي: 2452، والطبراني: 22/ 741 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22834»
حدیث نمبر: 10898
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ الْعَبَّاسُ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا وَهُوَ لَا يَأْلُو مَا أَسْرَعَ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {يَا عَبَّاسُ نَادِ يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ} قَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ وَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ فَاقْتَتَلُوا هُمْ وَالْكُفَّارُ فَنَادَتِ الْأَنْصَارُ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَصَّرَتِ الدَّاعُونَ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَادَوْا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ} قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ {انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ} قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ حنین میں شریک تھا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ صرف میں اور سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہ گئے تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیں ہوئے، آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، یہ خچر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فروہ بن نعامہ جزامی نے بطور ہدیہ بھیجا تھا، جب مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ دے کر بھاگ اُٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر کو ایڑ لگا کر کفار کی طرف بڑھنے لگنے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی باگ کو پکڑے ہوئے تھا، اسے ذرا روکنے کی کوشش کرتا لیکن آپ کو شش کرکے تیزی سے مشرکین کی طرف بڑھتے رہے۔ ابو سفیان بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکاب کو تھامے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عباس! اصحاب سمرہ کو آواز دو۔ ( یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کیکریا ببول کے درخت کے نیچے بیعت کی تھی) ، وہ بلند آواز والے آدمی تھے، انھوں نے کہا: اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟ اللہ کی قسم ان لوگوں نے میری آواز سنی تو فوراً اس طرح واپس آئے، جیسے گائے اپنے بچے کی طرف دوڑ کر آتی ہے اور انہوں نے آتے ہی کہا: جی ہم حاضر ہیں، جی ہم حاضر ہیں، باقی مسلمان بھی لوٹ آئے، ان کے اور کفار کے درمیان لڑائی ہوئی۔ انصار نے ایک دوسرے کو بلایا: اے انصار کی جماعت! پھر بلانے والوں نے اپنے جدااعلیٰ کے نام سے پکارنے پر اکتفا کیا اور کہا: اے حارث بن خزرج کی اولاد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خچر کے اوپر سے نظر لمبی کر کے میدانِ قتال کی طرف دیکھا اور فرمایا: اب میدان گرم ہوا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند کنکریاں لے کر ان کو کفار کے چہروں پر پھینکا اور فرمایا: رب کعبہ کی قسم! رب کعبہ کی قسم! وہ شکست خوردہ ہو کر فرار ہو گئے۔ میں نے دیکھا تو مجھے یوں لگا جیسے لڑائی اسی طرح جا ری ہے، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کنکریاں پھینکنے کی دیر تھی کہ میں نے ان کی دھار کو کند دیکھا،یعنی ان کے حوصلے پست ہو گئے اور ان کی حالت کمزور ہو گئی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست سے دو چار کر دیا، گویایہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پیچھے اپنے خچر کو ایڑ لگا رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1775 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1775»
حدیث نمبر: 10899
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عَبَّاسٌ وَأَبُو سُفْيَانَ مَعَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَطَبَهُمْ وَقَالَ ”الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ“ وَقَالَ ”نَادِ يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔( دوسری سند) کثیر بن عباس سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تنور یعنی میدان گرم ہوا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں آواز دو: اے سورۂ بقرہ والو!
وضاحت:
فوائد: … میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والوں کو بلانے کے لیے سورۂ بقرہ کا ذکر کرنا، اس سے سورۂ بقرہ کی درج ذیل تین آیات میں سے کسی آیت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے: (۱) … {فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَہَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہ مِنِّیْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِیَدِہٖ فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ فَلَمَّا جَاوَزَہ ھُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ قَالُوْا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖقَالَالَّذِیْنَیَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوااللّٰہِ کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ۔} … پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر جدا ہوا تو کہا بے شک اللہ ایک نہر کے ساتھ تمھاری آزمائش کرنے والا ہے، پس جس نے اس میں سے پیا تو وہ مجھ سے نہیں اور جس نے اسے نہ چکھا تو بے شک وہ مجھ سے ہے، مگر جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پانی لے لے۔ تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا سب نے اس سے پی لیا۔ تو جب وہ اور اس کے ساتھ وہ لوگ نہر سے پار ہوگئے جو ایمان لائے تھے، تو انھوں نے کہا آج ہمارے پاس جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ یقینا وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انھوں نے کہا کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۴۹)
(۲) … {یٰبَنِیْٓ اِسْرَاء ِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ۔} … اے بنی اسرائیل!میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور تم میرا عہد پورا کرو، میں تمھارا عہد پورا کروں گا اور صرف مجھی سے پس ڈرو۔ (سورۂ بقرہ: ۴۰)
(۳) … {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاء َ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَء ُوْفٌ بِالْعِبَادِ۔} … اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بے حد نرمی کرنے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10899
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1776»
حدیث نمبر: 10900
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا وَلَمْ نُوَلِّهِمُ الدُّبُرَ وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ فَقُلْتُ لَهُ ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ فَقَالَ "نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ“ فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا ثُمَّ قَالَ "أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ؟“ قُلْتُ هُمْ أُولَاءِ قَالَ "اهْتِفْ بِهِمْ“ فَهَتَفْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ حنین کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، لوگ پیٹھ دے کر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میدان میں چھوڑ کر فرار ہو نے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف اسی مہاجرین اور انصار باقی رہ گئے تھے، ہم اپنے قدموں پر تقریباً اسی قدم پیچھے ہٹے تھے اور ہم نے کفار کو پیٹھ نہیں دکھائی تھی، انہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہو کر آگے بڑھتے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خچر بدکا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی کاٹھی سے ذرا اُچھکے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ سیدھے ہو جائیں، اللہ آپ کو مزید بلند کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک مٹھی بھر مٹی پکڑاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مٹی کفار کے چہروں کی طرف پھینکی، ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین اور انصار کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ لوگ ادھر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو آواز دے کر بلاؤ۔ میں نے ان کو آواز دے کر بلایا، وہ سب آگئے، ان کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آگ کے شعلے ہیں، اس کے بعد مشرکین پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10900
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الرحمن والد القاسم يترجح عدم سماعه ھذا الخبر من ابيه، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 10351، والحاكم: 2/ 117، والبزار: 1829، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4336»
حدیث نمبر: 10901
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَتَحْنَا مَكَّةَ ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ أَوْ رَأَيْتَ فَصُفَّتِ الْخَيْلُ ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتَلَةُ ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ قَالَ وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ فَجَعَلَتْ خُيُولُنَا تَلُوذُ خَلْفَ ظُهُورِنَا قَالَ فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خُيُولُنَا وَفَرَّتِ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ قَالَ فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ثُمَّ قَالَ يَا لَلْأَنْصَارِ يَا لَلْأَنْصَارِ قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ قَالَ قُلْنَا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَيْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَنَزَلْنَا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ وَيُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ قَالَ فَتَحَدَّثَ الْأَنْصَارُ بَيْنَهَا أَمَّا مَنْ قَاتَلَهُ فَيُعْطِيهِ وَأَمَّا مَنْ لَمْ يُقَاتِلْهُ فَلَا يُعْطِيهِ قَالَ فَرُفِعَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَرَ بِسَرَاةِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ أَوِ الْأَنْصَارُ قَالَ فَدَخَلْنَا الْقُبَّةَ حَتَّى مَلَأْنَا الْقُبَّةَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَوْ كَمَا قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي قَالُوا مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي قَالُوا مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَدْخُلُوا بُيُوتَكُمْ قَالُوا رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَخَذَ النَّاسُ شِعْبًا وَأَخَذَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا قَالَ فَارْضَوْا أَوْ كَمَا قَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مکہ مکرمہ کو فتح کر لیا، پھر ہم نے حنین پر چڑھائی کی، اس موقع پر مشرکین اس قدر عمدہ صف بندی کر کے آئے کہ میں نے اور تم نے اس سے بہتر صف بندی نہیں دیکھی ہو گی۔ سب سے پہلے گھوڑوں کی قطار بنائی گئی، پھر پیدل جنگ جو لوگوں کی قطار تھی، ان کے پیچھے عورتوں کی قطار تھی، ان کے پیچھے بکریوں کی اور ان سے پیچھے اونٹوں کی، ہماری بھی بہت تعداد تھی، ہم چھ ہزار کی تعداد کو پہنچ رہے تھے اور ہمارے گھڑ سواروں کے جو دستے لشکر کے دونوں پہلوؤں میں تھے، ان کے سربراہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، ہمارے گھوڑے ہماری سواریوں اونٹوں کی پناہ ڈھونڈنے لگے، تھوڑی دیر گزری تھی کہ ہمارے گھوڑے بھاگ اُٹھے اور دیہاتی لوگ اور جن لوگوں کو ہم پہنچانتے تھے، وہ سب فرار ہونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آوازیں دیں: او مہاجرو! او مہاجرو! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو آواز دی اور فرمایا: او انصاریو! او انصاریو! سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو مجھے میرے چچا نے بیان کی ہیں، (اور قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو مجھے بہت سے لوگوں نے بیان کی ہے۔) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پکار پر ہم سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!ہم حاضر ہیں، تب اللہ کے رسول آگے بڑھے، اللہ کی قسم! ہمارے ان کے پاس پہنچتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان دشمنوں کو شکست سے دو چار کر دیا۔ ہم نے وہ سارا مال اپنے قبضے میں لے لیا، پھر ہم طائف کی طرف چل دئیے، ہم نے چالیس دن تک ان کا محاصرہ کئے رکھا، اس کے بعد ہم مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹ آئے، ہم یہاں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک آدمی کو سو سو (اونٹ) دینا شروع کیے، انصار آپس میں کچھ ایسی باتیں کرنے لگے کہ جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑائیاں کیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ہی کو دے رہے ہیں اور جن لوگوں نے آپ سے کبھی لڑائی نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو نہیں دے ! حَدِیثُ عِمِّیَّۃٍ کے حوالے سے مختلف وجوہات کے لیے شرح النووی ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)
رہے۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جا پہنچی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے سرکردہ لوگوں کو اپنے پاس بلوا کر فرمایا: انصار کے سوا کوئی دوسرا آدمی میرے پاس نہ آئے۔ ہم خیمہ کے اندر چلے گئے، خیمہ بھر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! یہ مجھ تک کیا بات پہنچی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تک کون سی بات پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ اموال لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھروں میں ساتھ لے کر جاؤ؟ وہ سب کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ! ہم راضی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اسی پر راضی رہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10901
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12635»