کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
حدیث نمبر: 10891
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ عَلَى رُءُوسِهِمْ وَيَدْعُو لَهُمْ فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَإِنِّي مُطَيَّبٌ بِالْخَلُوقِ وَلَمْ يَمْسَحْ عَلَى رَأْسِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ أُمِّي خَلَّقَتْنِي بِالْخَلُوقِ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ولید بن عقبہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو اہلِ مکہ اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لانے لگے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سروں پر بابرکت ہاتھ پھیر دیں اور ان کے حق میں دعا کر دیں۔ مجھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، چونکہ مجھے خلوق خوشبو لگی ہوئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ نہیں ! بخاری اور مسلم میں اس جگہ یہ الفاظ ہیں وَلَا فَارًّا بِجِزْیَۃٍ اور نہ ہی فساد کرکے بھاگنے والے کو (حرم پناہ دیتا ہے)۔ (عبداللہ رفیق)
پھیرا، میری والدہ نے مجھے یہ خوشبو لگا دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وجہ سے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا تھا۔
پھیرا، میری والدہ نے مجھے یہ خوشبو لگا دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وجہ سے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا تھا۔
حدیث نمبر: 10892
أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قَالَ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے مروی ہے کہ ان کو محمد بن اسود بن خلف نے بیان کیا کہ ان کے والد اور اسود رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے بیعت لیتے دیکھا۔ آپ قرن مسقلہ نامی جگہ پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں سے اسلام اور شہادت کی بیعت لی، عبداللہ بن عثمان کہتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے اللہ پر ایمان لانے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت اور رسالت کی گواہی کی بیعت لی۔ پس میں بھی اسی طرح کہتا تھا جیسے وہ کہتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10893
عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُجَالِدُ بْنُ مَسْعُودٍ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ {لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ مجالد بن مسعود آپ سے ہجرت کی بیعت کرنا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، البتہ میں اس سے اسلام کی بیعت لے لیتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … جب تک کفر ہے، اس وقت تک ہجرت کا حکم بھی برقرار ہے، اس حدیث میں جس ہجرت کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا ہے، کیونکہ اب مکہ مکرمہ دار الاسلام اور دار الامن بن چکا ہے۔
اس قسم کی احادیث کا معنییہ ہے کہ جس شہر کو مسلمان فتح کر چکے ہوں، اس سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس قسم کی احادیث کا معنییہ ہے کہ جس شہر کو مسلمان فتح کر چکے ہوں، اس سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
حدیث نمبر: 10894
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تُبَايِعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ عَلَيْهَا {أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ} [الممتحنة: 12] قَالَتْ فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى مِنْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَقِرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ فَوَاللَّهِ مَا بَايَعَنَا إِلَّا عَلَى هَذَا قَالَتْ فَنَعَمْ إِذًا فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے (سورۂ ممتحنہ والی آیت) {أَنْ لَا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِینَ} کے مطابق بیعت لی، تو انہوں نے شرم وحیاء کی بنا پر اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی یہ کیفیت خوب پسند کی، اُدھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ارے عورت! تم ان باتوں کا کھل کر اقرار کرو، اللہ کی قسم! ہم نے بھی انہی باتوں کی بیعت کی ہے، وہ بولیں اچھا ٹھیک ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی روشنی میں اس سے بیعت کی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ خاتون آیت کے الفاظ {وَلَا یَزْنِینَ} … (وہ زنا نہیں کریں گی) سے شرما گئی۔
سورۂ ممتحنہ والی درج ذیل آیت مراد ہے: { ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیںکریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔
سورۂ ممتحنہ والی درج ذیل آیت مراد ہے: { ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیںکریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔
حدیث نمبر: 10895
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ الْخُزَاعِيَّةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النِّسْوَةَ وَيَقُولُ {أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقْنَ وَلَا تَزْنِينَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: 12] قَالَتْ فَأَطْرَقْنَ فَقَالَ لَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ «قُلْنَ نَعَمْ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ» فَكُنَّ يَقُلْنَ وَأَقُولُ مَعَهُنَّ وَأُمِّي تُلَقِّنُنِي قُولِي أَيْ بُنَيَّةُ فِيمَا اسْتَطَعْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی والدہ سیدہ رائطہ بنت سفیان خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین سے بیعت لے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرما رہے تھے: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، بہتان تراشی نہیں کرو گی اور نیکی میں نافرمانی نہیں کرو گی۔ عورتوں نے یہ باتیں سن کر سر جھکا لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کہہ دو کہ ٹھیک ہے، تمہارییہ بیعت صرف اس حد تک ہے کہ جس کی تم کو استطاعت ہو۔ پس انھوں نے جی ہاں کہنا شروع کر دیا اور میں بھی ان کے ساتھ کہہ رہی تھی، پھر میری والدہ نے مجھے تلقین کی اور کہا: میری پیاری بیٹی! یہ بھی کہو کہ جتنی میری طاقت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ غیر محرم خاتون کو ہاتھ لگانا حرام ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین سے بیعت لیتے وقت خواتین کے ہاتھ پرہاتھ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زبانی کلامی بیعت لیتے تھے۔
جب صحابیات آیت میںمذکورہ امور پر علی الاطلاق پابند رہنے کا دعوی کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو لقمہ دیتے کہ طاقت اور استطاعت کے مطابق اقرار کرنا چاہیے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
جب صحابیات آیت میںمذکورہ امور پر علی الاطلاق پابند رہنے کا دعوی کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو لقمہ دیتے کہ طاقت اور استطاعت کے مطابق اقرار کرنا چاہیے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔