کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان
حدیث نمبر: 10884
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بَرْصَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ ”لَا يُغْزَى هَذَا يَعْنِي بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن فرمایا: (آج کے بعد قیامت تک) اس مکہ پر چڑھائی نہیں کی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا معنییہ ہے کہ کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مکہ پر چڑھائی کرے، کیونکہیہ حرم ہے، یزید کے زمانے میں اور بعد میں حرم کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ظلم تھا۔
حدیث نمبر: 10885
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ {كُفُّوا السِّلَاحَ إِلَّا خُزَاعَةَ عَنْ بَنِي بَكْرٍ} فَأَذِنَ لَهُمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ {كُفُّوا السِّلَاحَ} فَلَقِيَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرٍ مِنْ غَدٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَتَلَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ وَرَأَيْتُهُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ {إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ} فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا ابْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ“ قَالُوا وَمَا الْأَثْلَبُ قَالَ {الْحَجَرُ} قَالَ {وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ} قَالَ {وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ} قَالَ ”وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں مکہ مکرمہ فتح ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ہتھیاروں کو روک لو( یعنی کسی کو قتل نہ کرو)۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف خزاعہ قبیلہ کو قبیلہ بنو بکر پر حملہ سے نہ روکا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کر لی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم بھی ہتھیاروں کو روک لو۔ لیکن ہوا یوں کہ اس کے بعد دوسرے دن بنو خراعہ کے ایک آدمی کا بنو بکر کے ایک آدمی سے مزدلفہ میں سامنا ہو گیا تو اس نے قتل کر دیا، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت اپنی پشت مبارک کعبہ مشرفہ کے ساتھ لگائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ہاں لوگوں میں اللہ کا سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو حرم میں کسی کو قتل کرے یا اپنے قاتل کے سوا کسی دوسرے کو قتل کرے یا قبل از اسلام کی کسی دشمنی کے سبب کسی کو قتل کرے۔ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اُٹھ کر گیا اور اس نے کہا: فلاں لڑکا میرا بیٹا ہے، (کیونکہ میں نے قبل از اسلام اس کی ماں کے ساتھ زنا کیا تھا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں کسی دوسرے باپ یا قبیلہ کی طرف انتساب کی کوئی گنجائش نہیں۔ جاہلیتیعنی قبل از اسلام کی ساری باتیں ختم ہو چکیں، بچہ اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو گا اور زانی کے لیے پتھر یعنی رجم کی سزا ہو گی۔ میں نے کہا: اثلب کے معانی کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پتھر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انگلیوں کی دیت میں ہر انگلی کے عوض دس دس اونٹ ہیں اور ایسا زخم جس سے ہڈی ننگی ہو جائے، اس کے عوض پانچ پانچ اونٹ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور نمازِعصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں پڑھی جا سکتی اور کسی ایسی عورت کے ساتھ نکاح کرنا بھی درست نہیں، جس کی پھوپھییا خالہ پہلے سے نکاح میں موجود ہو۔ (یعنی خالہ اور اس کی بھانجی اور پھوپھی اور اس کی بھتیجی ایک نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں)اور کسی عورت کے لیےیہ بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر کی کوئی چیز کسی کو بطور عطیہ دے۔
حدیث نمبر: 10886
قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَزِيدَ أَحَدِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ ثُمَّ الْكَعْبِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي قِتَالِ بَنِي بَكْرٍ حَتَّى أَصَبْنَا مِنْهُمْ ثَأْرَنَا وَهُوَ بِمَكَّةَ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَفْعِ السَّيْفِ فَلَقِيَ رَهْطٌ مِنَّا الْغَدَ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ فِي الْحَرَمِ يَؤُمُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُسْلِمَ وَكَانَ قَدْ وَتَرَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانُوا يَطْلُبُونَهُ فَقَتَلُوهُ وَبَادَرُوا أَنْ يَخْلُصَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَأْمَنَ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ فَسَعَيْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ نَسْتَشْفِعُهُمْ وَخَشِينَا أَنْ نَكُونَ قَدْ هَلَكْنَا فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ {أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ وَإِنَّمَا أَحَلَّهَا لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ أَمْسِ وَهِيَ الْيَوْمَ حَرَامٌ كَمَا حَرَّمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ قَتَلَ فِيهَا وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ وَرَجُلٌ طَلَبَ بِذَحْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَدِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي قَتَلْتُمْ} فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو شریح خزاعی کعبی رضی اللہ عنہ ،جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ہمیں بنو بکر سے قتال کی(خصوصی) اجازت مرحمت فرمائی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک مکہ مکرمہ ہی میں تھے، چنانچہ ہم نے ان کے لوگوں کو قتل کر کے اپنا انتقام خوب لیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلواروں کو اُٹھا لینے سے منع فرما دیایعنی قتال کو مکمل طور پر روک دینے کا حکم دے دیا، لیکن اگلے دن ہمارے قبیلے کے کچھ لوگوں کو بنو ہذیل کا ایک آدمی حدودِ حرم ہی میں مل گیا، وہ اسلام قبول کرنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آرہا تھا، وہ اس سے قبل جاہلیت کے دورِ میں ان لوگوں کے ساتھ کسی جرم کا مرتکب ہو چکا تھا، یہ اس کی تلاش میں تھے، چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور انہوں نے اس کام میں عجلت کا مظاہرہ کیا مبادا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ جائے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اسے قتل کرنے سے منع فرما دیں، جب اس بات کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غضب ناک ہوئے، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے زیادہ غصہ کی حالت میں کبھی نہیں دیکھا، ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور ان کی سفارش چاہی، ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم اپنی اس کو تاہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کے نتیجہ میں تباہ نہ ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی کما حقہ حمد و ثناء بیان کی اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم والا قرار دیا، اسے لوگوں نے حرم نہیں بنایا، اللہ تعالیٰ نے گزشتہ کل کچھ دیر کے لیے اس حرم میں مجھے قتال کی اجازت دی تھی، اب یہ آج سے اسی طرح حرم ہے اور یہاں قتال کرنا حرام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے حرام ٹھہرایا تھا اور تین قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے سخت سرکش اور باغی ہیں، ایک وہ جو حدودِ حرم میں کسی کو قتل کرے، دوسرا وہ جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل کرے اور تیسرا وہ جو قبل از اسلام کے کسی جرم کا بدلہ لے، تم نے جس آدمی کو قتل کیا ہے، اللہ کی قسم! میں اس کی دیتیعنی خون بہا ضرور ادا کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت ادا کی تھی۔
حدیث نمبر: 10887
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ} (فِي رِوَايَةٍ {وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ}) وَفِي رِوَايَةٍ {وَلَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ} {وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ تُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدِهِمْ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دِيَارِهِمْ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! قبل از اسلام کے ایسے معاہدے جن کی رو سے معاہدہ کرنے والے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیںتو اسلام ایسے معاہدوں کو مزید مضبوط کرتا ہے، البتہ اب اسلام میں کسی ایسے نئے معاہدہ کی ضرورت نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے۔ ایک روایت میںیوں ہے کہ تم اسلام میں ایسا کوئی نیا معاہدہ نہ کرو۔ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ مکہ فتح ہو جانے کے بعد اب یہاں سے ہجرت نہیں کی جا سکتی، اور تمام مسلمان کفار کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی مانند ہیںاور ان سب کے خون( یعنی ان کی حرمت) برابر ہے، مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی کسی دشمن کو پناہ دے تو یہ تمام مسلمانوں کی طرف سے سمجھی جائے گی اور جہاد میں حاصل ہونے والا مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم ہو گا خواہ وہ بہت دور ہی کیوں نہ ہو اور جہاد کے قیدی ان لوگوں میں بھی تقسیم کئے جائیں گے، جو گھروں میں بیٹھے رہے اور میدانِ جہاد میںعملی طور پر شریک نہ ہو سکے اور کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا، کافر کی دیت مسلم کے مقابلے میں نصف ہے، کوئی مسلمان سرکاری اہل کار زکوۃ وصولی کے لیے جائے تو اسے یہ روا نہیں کہ وہ کسی ایک جگہ قیام کر کے لوگوں سے کہے کہ تم اپنے اپنے تمام جانوروں کو میرے پاس لے کر آؤ تاکہ میں ان کا حساب کر کے زکوۃ وصول کر وں، اس طرح ان لوگوں کو مشقت ہو گی اور یہ بھی جائز نہیں کہ سرکاری اہل کار زکوۃ وصول کرنے کے لیے لوگوں کی قیام گاہوں پر جائے تو وہ زکوۃ سے بچنے کے لیے اِدھر اُدھر ہو جائیںاور لوگوں سے ان کی زکوتیں ان کے گھروں یا قیام گاہوں پر ہی وصول کی جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث کئی مسائل پر مشتمل ہے، لیکن تمام مسائل اپنے متعلقہ موضوعات میں گزر چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 10888
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ} وَقَالَ مَرَّةً {الْمُغَلَّظَةُ فِيهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةٌ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ وَدَعْوَى} وَقَالَ مَرَّةً {وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ فَإِنِّي أُمْضِيهِمَا لِأَهْلِهِمَا عَلَى مَا كَانَتْ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز کعبہ کی سیڑھی پر موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کے تمام لشکروں کو شکست سے دو چار کیا، خبر دار قتل خطا یعنی جو کوڑے یا لاٹھی سے ہو،ا اس کی دیت ایک سو اونٹ ہیں،ایک دفعہ یوں فرمایا کہ اس کا خوں بہا سخت ہے، اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، جاہلیت کے تمام غرور، خون کے مطالبے اور دعوے اور اموال یہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں، البتہ حجاج کرام کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی نگرانی کی ذمہ داری حسب ِ سابق بحال رہیں گی۔
حدیث نمبر: 10889
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ {لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ نَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ} قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً أُخْرَى {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثَرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُعَدُّ وَتُدَّعَى وَكُلَّ دَمٍ أَوْ دَعْوَى مَوْضُوعَةٌ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا سِدَانَةَ الْبَيْتِ وَسِقَايَةَ الْحَاجِّ أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَإِ الْعَمْدِ} قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً {بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا} وَقَالَ مَرَّةً {أَرْبَعُونَ مِنْ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عقبہ بن اوس ،ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کی جماعتوں کو شکست سے دو چار کیا، حدیث کے راوی ہیثم نے ایک دفعہ یوں بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہیں، جس نے اپنا وعدہ پورا کیااور اپنے بندے کی مدد کی۔ خبردار دورِ جاہلیت کی غرور اور فخر والی تمام باتیں، جو ظلم وتعدی پر مشتمل تھیں اور اُس دور کا ہر خون اور ہر قسم کا دعوی میرے قدموں کے نیچے ہے، یعنی اب ان کی کچھ حیثیت نہیں وہ کا لعدم ہیں۔ البتہ بیت اللہ کی نگرانی اور حجاج کرام کو پانی پلانے کی خدمات وہ حسب سابق بحال ہیں۔ خبردار! قتلِ خطا یعنی کوڑے، عصا اور پتھر وغیرہ لگنے سے جو مر جائے اس میں شدید قسم کا خون بہا ہے، یعنی کل سو اونٹ ہیں، ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہو ں گی۔ اور ہیثم نے ایک دفعہ یوں روایت کیا: چالیس اونٹنیاں ثنیہ سے بازل کے درمیان درمیان ہوں گی اور سب کی سب حاملہ ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … بیت اللہ کی خدمت، دورِ جاہلیت میں بیت اللہ کی نگرانی بنو عبد الدار اور پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ذمہ داروں کو ایسے ہی برقرار رکھا۔ دیکھیں حدیث نمبر (۶۵۸۵)
حدیث نمبر: 10890
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ يَقُولُ قَوْلًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ {إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ فِيهَا فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ} فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِجِزْيَةٍ وَكَذَلِكَ قَالَ حَجَّاجٌ بِجِزْيَةٍ وَقَالَ يَعْقُوبُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَلَا مَانِعَ جِزْيَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (انھوں نے یزید کی طرف سے مقرر کردہ والی ٔ مدینہ عمرو بن سعید بن عاص سے کہا، جبکہ عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے مکہ کہ طرف لشکر بھیج رہا تھا،) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ایک بات ارشاد فرمائی، میرے کانوں نے اسے سنا، میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بیشک مکہ کو لوگوں نے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے حرمت والا قرار دیا، اب کسی ایسے شخص کے لیے حلال نہیں، جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، کہ وہ یہاں خون بہائے یا درخت کاٹے۔ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتال (کو دلیل بنا کر اپنے لیے) رخصت نکالنا چاہے تو اسے کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ میں (قتال کی) اجازت دی اور تمھیں نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے (لڑائی کرنے کی) اجازت ملی ہے ، اس کے بعد اس کی حرمت اسی طرح ہو گئی جس طرح کل تھی۔ موجودہ لوگ (یہ احکام) غائب لوگوں تک پہنچا دیں۔ ابو شریح سے دریافت کیا گیا کہ پھر عمرو بن سعید نے آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے بتلایا کہ اس نے کہا ابو شریح! میں ان باتوں کو تم سے بہتر جانتا ہوں، بے شک حرم کسی نافرمان کو اور قتل کر کے فرار ہونے والے کو اور جزیہ کی ادائیگی سے بچنے کی خاطر فرار ہونے والوں کو اور جزیہ ادا نہ کرنے والوں کو پناہ نہیں دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخر میں عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ نافرمان ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن عمرو بن سعید کا یہ نظریہ درست نہیں ہے۔