کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عبدالعزی بن خطل کے قتل کا حکم دینا، خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو اور دیگر چند اشخاص کو قتل کرنے کا حکم دینا
حدیث نمبر: 10880
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10880
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1846، 3044، ومسلم: 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12962»
حدیث نمبر: 10881
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ «النَّاسُ آمِنُونَ غَيْرَ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ خَطَلٍ»
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن اعلان فرمایا کہ عبدالعزی بن خطل کے علاوہ باقی سب لوگوں کو امن دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10881
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20041»
حدیث نمبر: 10882
عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَخِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ مُطِيعٍ وَكَانَ اسْمُهُ الْعَاصَ فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ بِمَكَّةَ يَقُولُ «لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا وَلَا يُقْتَلُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بَعْدَ الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا» زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عامر شعبی سے مروی ہے کہ وہ بنو عدی بن کعب کے ایک فرد عبداللہ بن مطیع بن اسود سے اور وہ اپنے والد سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ کا سابقہ نام عاص تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں جب ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد کبھی بھی مکہ پر چڑھائی نہیں کی جائے گی اور اس سال کے بعد کبھی کوئی قریشی اس طرح ( یعنی کفر اور ارتداد کی وجہ سے ) قتل نہ ہو گا۔ ایک روایت میں ہے: اور اسلام نے قریش کے عاص نامی لوگوں میں سے کسی کو نہیں پایا، ما سوائے سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ کے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج ذیل افراد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عبدا للہ بن سعد، عبد اللہ بن خطل اور اس کی دو مغنّیہ خواتین قُریبہ اور فرتنی، حویرث بن نقیذ بن وہب،مقیس بن صبابہ، سارہ، عکرمہ بن ابی جہل
عبد اللہ بن خطل کا تعلق بنو تیم بن غالب سے تھا، اس کا نام عبد العزی تھا، ممکن ہے کہ جب یہ مسلمان ہوا ہو تو اس کا نام عبد اللہ رکھ دیا گیا ہو، جب یہ مسلمان ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوزکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور اس کے ساتھ ایک انصاری کو بھی بھیجا، لیکن اس کو انصاری پر غصہ آ گیا اور پھر اس کو قتل کر کے مرتد ہو گیا، اس کی دو مغنّیہ تھیں، فرتنی اور قریبہ،یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن خطل اور اس کی دونوں کنیزوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، جب صحابہ اس تک پہنچے تو یہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی اور سیدنا سعید بن حریث مخزومی نے اس کو قتل کیا اور اس کی کنیزاؤں میں سے صرف قُریبہ قتل ہو سکی۔
ان میں سے عبد اللہ بن سعد، فرتنی اور عکرمہ بن ابی جہل مسلمان ہو گئے تھے اور سارہ کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امان لے لی گئی تھی، باقی افراد کو قتل کر دیا گیا۔
کوئی قریشی اس طرح قتل نہیں ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام قریشی مسلمان ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہو گا، اس کا یہ معنی نہیں کہ کسی قریشی کو ظلماً قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ایسا تو قریش کے ساتھ ہوتا رہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10882
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 20/ 691، والطحاوي في شرح مشكل الآثار : 1508 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15484»
حدیث نمبر: 10883
عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا قَالَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ «يَا أُمَّ هَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ»
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۳۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10883
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 280، 357، 3171، 6158، ومسلم: 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27445»