کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
حدیث نمبر: 10870
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحُوهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور آگے بڑھ کر کعبہ کے صحن میں اسے بٹھا دیا، پھر عثمان بن طلحہ کو بلایا کہ وہ بیت اللہ کی چابی لے کر آئے، پس وہ چابی لے کر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ ( اور ایک روایت کے مطابق سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ )آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ کے اندر چلے گئے، انہوں نے کافی دیر دروازہ بند رکھا، اس کے بعد جب کھولا تو میں (عبداللہ بن عمر)تیزی کے ساتھ لوگوں سے آگے نکل گیا اور میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے قریب کھڑے پایا۔ میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس جگہ نماز ادا کی ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سامنے والے دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی ہے، لیکن میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعتیں ادا کی تھیں۔
حدیث نمبر: 10871
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُ بِلَالًا مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ قَالَ إِسْحَاقُ وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کیا کچھ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سامنے والے تین ستونوں میں سے دو ستون اپنی داہنی جانب، ایک ستون بائیں جانب اور پچھلے تینوں ستون پیچھے چھوڑ کر اس طرح کھڑے ہو کر نماز ادا کی آپ کے اور قبلہ کی دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ جتنا فاصلہ تھا۔ اسحاق راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں بیت اللہ کی عمارت چھ ستونوں پر قائم تھی، اس راوی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیانی فاصلہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 10872
عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ مَضَيْتُ حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ قَالَ وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا قَالَ فَلَمَّا صَلَّى قُلْتُ لَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ قَالَ فَقَالَ هَاهُنَا أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ صَلَّى قَالَ قُلْتُ فَكَمْ صَلَّى قَالَ عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي أَنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمُرًا ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالَ خَرَجْتُ حَاجًّا قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ قَالَ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو شعثاء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حج کے ارادہ سے گیا اور بیت اللہ کے اندر بھی داخل ہوا، میں جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو آگے آگے ہوتا گیا حتی کہ دیوار کے ساتھ جا لگا، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ آگئے، وہ آکر میرے پہلو میں کھڑے ہو گئے اور انہوں نے چار رکعات ادا کیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس جگہ نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اس جگہ یعنی جہاں خود انہوں نے نماز ادا کی ہے۔ مزید انھوں نے کہا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیتاللہ کے اندر نماز ادا کی تھی۔ ابو شعثاء کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی تھیں۔ انھوں نے کہا: اس بات پر تو میں خود کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزارا، مگر میں ان سے یہ نہ پوچھ سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعت نماز ادا کی تھی؟ جب اگلا سال آیا اور میں پھر حج کے لیے گیا اور میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ والی جگہ پرنماز ادا کر رہا تھا تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ آکر میرے پہلو میں کھڑے ہو گئے، وہ مجھے دھکیلتے رہے،یہاں تک کہ انہوں نے مجھے وہاں سے نکال ہی دیا، پھر انہوں نے چار رکعات ادا کیں۔
حدیث نمبر: 10873
حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ حَجَّ فَأَرْسَلَ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ أَنِ افْتَحْ بَابَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ عَلَيَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ هَلْ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ فَقَالَ نَعَمْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ فَتَأَخَّرَ خُرُوجُهُ فَوَجَدْتُ شَيْئًا فَذَهَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ سَرِيعًا فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا فَسَأَلْتُ بِلَالَ بْنَ رَبَاحٍ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ قَالَ نَعَمْ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَصَلَّى بَيْنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لائے اور انہوں نے شیبہ بن عثمان کو پیغام بھیجا کہ وہ کعبہ کا دروازہ کھولے۔ پھر انھوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیایہبات آپ کے علم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے اندر داخل ہوئے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر آنے میں کافی دیر کر دی تو میں نے کوئی چیز محسوس کی، پس میں گیا پھر میں جلدی واپس آیا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لا چکے تھے، میں نے سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں ادا کی ہیں۔پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اُٹھے اور دونوں ستونوں کے درمیان نماز ادا کی۔
حدیث نمبر: 10874
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَدِمَ مَكَّةَ فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ فَبَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ بِحَيَالِ الْبَابِ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَرَجَّ الْبَابَ رَجًّا شَدِيدًا فَفُتِحَ لَهُ فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ أَمَا أَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي كُنْتُ أَعْلَمُ مِثْلَ الَّذِي يَعْلَمُ وَلَكِنَّكَ حَسَدْتَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے اور کعبہ کے اندر داخل ہونے لگے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس مقام پر نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دروازے کے سامنے دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔ اتنے میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے بیت اللہ کے دروازے کو زور زور سے پیٹا، سو ان کے لیے دروازہ کھول دیا گیا،انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ تو جانتے ہیں کہ میں بھی اس بات کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرح جانتا ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے حسد کیا ہے (اور مجھے نہیں بلایا)۔
حدیث نمبر: 10875
عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْبَيْتِ وَسَتَأْتُونَ مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ فَتَسْمَعُونَ مِنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ حَجَّاجٌ فَتَسْمَعُونَ مِنْ قَوْلِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ قَرِيبًا مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سماک حنفی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی، عنقریب کچھ لوگ آئیں گے جو تمہیں بیت اللہ کے اندر نماز ادا کرنے سے روکیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کے قریب ہی بیٹھے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا: ان سے بھی تم ایسی ہی بات سنو گے۔
حدیث نمبر: 10876
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز ادا کی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیت اللہ میں نماز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اس سلسلے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض راوی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے اثبات روایت کرتے ہیں اور بعض ان سے اس کی نفی روایت کرتے ہیں۔
ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز بھی پڑھی اور ذکر اذکار بھی کیا۔
امام نووی نے کہا: محدثین کرام کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو معتبر اور قابل عمل سمجھا جائے گا، کیونکہ وہ مثبت ہے اور مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ مثبت کی بنیاد زائد علم پر ہوتی ہے۔ مزید دیکھیں: حدیث نمبر (۴۵۹۳)
ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز بھی پڑھی اور ذکر اذکار بھی کیا۔
امام نووی نے کہا: محدثین کرام کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو معتبر اور قابل عمل سمجھا جائے گا، کیونکہ وہ مثبت ہے اور مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ مثبت کی بنیاد زائد علم پر ہوتی ہے۔ مزید دیکھیں: حدیث نمبر (۴۵۹۳)