کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10859
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحُوهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار تھے، آپ اسی طرح مکہ میں داخل ہوئے اور آکر کعبہ کے قریب اونٹنی کو بٹھا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو بلوایا کہ کعبہ کی چابی لے کر آؤ، وہ چابی لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کا دروازہ کھولا اور کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کعبہ میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے کافی دیر تک کعبہ کا دروازہ بند کئے رکھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قوی نوجوان تھا، میں نے کوشش کی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر کھڑے پا کر ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس مقام پر نماز ادا فرمائی ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آگے والے دو ستونوں کے درمیان، مجھے یہ پوچھنا یاد نہ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10859
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 468، ومسلم: 1329 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24419»
حدیث نمبر: 10860
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اقْتَسَمَا بِهَا قَطُّ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتوں کی موجودگی کی وجہ سے بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو باہر نکال دینے کا حکم دیا، چنانچہ ان کو باہر نکال دیا گیا، ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی مورتیوں کے ہاتھوں میں قسمت آزمائی والے تیر پکڑائے گئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان لوگوں کو تباہ کرے، اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ ان دونوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں نکالی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے، اس کے سارے کونوں میں تکبیرات کہیںاور پھر باہر تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی تھییا نہیں؟ اگلے دو ابواب ملاحظہ ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10860
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4288 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3093»
حدیث نمبر: 10861
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ سِتُّونَ وَثَلَاثُمِائَةِ نُصُبٍ فَجَعَلَ يَطْعَنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ [السَّبَأ: 49] جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا [الإِسْرَاء: 81]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان بتوں کو وہ لکڑی مارتے جاتے اور یہ آیات تلاوت کرتے جاتے: {جَائَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِیئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ} … کہہ دیجئے کہ حق آچکا اورباطل نہ پہلے کچھ کر سکا ہے اور نہ کرسکے گا۔ (سورۂ سبا: ۴۹) {جَائَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا} … حق آگیا اور باطل دم دبا کر بھاگ گیا، بے شک باطل ہے ہی بھاگ جانے والا۔ (سورۂ بنی اسرائیل:۸۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10861
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2478، ومسلم: 1781 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3584»