کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
حدیث نمبر: 10852
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَا فِيهِمْ وَأَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَمَضَانَ فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ مَا يَدْعُونَا قَالَ هَاشِمٌ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ قَالَ فَقُلْتُ أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوهُمْ إِلَى رَحْلِي قَالَ فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ وَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعِشَاءِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ قَالَ أَسَبَقْتَنِي قَالَ هَاشِمٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَدَعَوْتُهُمْ فَهُمْ عِنْدِي قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ قَالَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ قَالَ وَقَدْ وَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشَهَا قَالَ فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ وَلَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ فَهَتَفْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا فَأَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ مِنْهُمْ مَا شَاءَ وَمَا أَحَدٌ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ قَالَ فَغَلَّقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ قَالَ وَفِي يَدِهِ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَةِ الْقَوْسِ قَالَ فَأَتَى فِي طَوَافِهِ عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبٍ يَعْبُدُونَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ} [الإسراء: 81] قَالَ ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يُنْظَرُ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ قَالَ وَالْأَنْصَارُ تَحْتَهُ قَالَ يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُقْضَى قَالَ هَاشِمٌ فَلَمَّا قُضِيَ الْوَحْيُ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَقُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالُوا قُلْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا اسْمِي إِذًا كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ قَالَ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذُرَانِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن رباح سے مروی ہے کہ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رمضان کے مہینہ میں کئی وفود آئے میں بھی ان میں شامل تھا ہم ایک دوسرے کو کھانے کے لیے بلاتے تھے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر وبیشتر ہمیں اپنے گھر بلا لیا کرتے تھے۔ تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی کھانا تیار کر وں اور ان حضرات کو اپنے پاس آنے کی دعوت دوں؟ چنانچہ میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا۔ عشاء کے وقت میری سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آج رات میرے ہاں دعوت ہے؟ وہ بولے تم تو مجھ پر سبقت لے گئے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں! میں نے ان کو بلایا۔ وہ لوگ میرے ہاں تشریف لے آئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اے انصاریو! کیا میں تمہیں تم سے متعلقہ ایک بات نہ سناؤں؟ پھر انہوں نے فتح مکہ کا ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو لشکر کے داہنے یا بائیں طرف والے ایکحصے پر اور خالد بن ولید کو دوسرے حصے پر اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں پر امیر مقرر کیا جو زرہ پوش نہ تھے۔ ان حضرات نے بطن الوادی والا راستہ اختیار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دستہ میں تھے۔ قریش نے بھی بہت سے قبائل کو جمع کر لیا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم ان کو آگے آگے جانے دیں۔ اگر انہیں کچھ ملا تو ہم بھی ساتھ ہی ہوں گے۔ اور اگر ان پر حملہ ہوا تو ہم سے جو مطالبہ کیا جائے گا۔ دے دیں گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھ کر آواز دی اور فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: انصار کو میری طرف بلاؤ، اور یاد رکھو صرف انصاری ہی میرے پاس آئیں۔ میں نے انصار کو پکارا تو وہ آگئے۔ اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قریش کے قبائل اور لوگوں کو دیکھ رہے ہو؟ آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھ کر یوں اشارہ کیا کہ ان کو نیست ونابود کر کے میرے پاس کوہِ صفا پر آجاؤ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم وہاں سے چل دئیے۔ اور ہم میں سے ہر ایک نے ان میں سے جتنے آدمیوں کو قتل کرنا چاہا قتل کیا۔ ان میں سے کسی نے بھی ہم سے تعرض نہ کیا۔ ابو سفیان نے کہا اے اللہ کے رسول! قریش کی جماعتوں کو تو قتل کر دیا گیا۔ یہی صورت رہی تو آج کے بعد کوئی قریشی باقی نہ رہے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امان ہے، اور جو ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے اسے بھی امان ہے، چنانچہ لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے۔ آپ نے اسے بوسہ دیا اور پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپ کے ہاتھ میں کمان تھی۔ آپ نے کمان کا ایک کنارہ پکڑا ہوا تھا طواف کے دوران آپ بیت اللہ کی ایک جانب میں پڑے ایک بت کے پاس پہنچے وہ لوگ اس کی پوچا کیا کرتے تھے۔ آپ اپنی کمان اس بت کی آنکھ میں مارنے لگے اور فرمایا {جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ} حق آگیا اور باطل دم دبا کر بھا گ گیا۔ (سورۂ بنی اسرائیل: ۸۱) اس کے بعد آپ کوہ صفا پر گئے اور اس کے اوپر چڑھ گئے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا آپ ہاتھ اُٹھا کر اللہ کا ذکر اور دعا کرتے رہے۔ اور انصار آپ کے سامنے نیچے کھڑے تھے۔ ان میں سے بعض ایک دوسرے سے کہنے لگے اس آدمی کو( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) اپنے شہر کی اور اپنے خاندان کی رغبت اور یاد آگئی ہے۔ وہیں پر آپ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ جب آپ پر وحی کا نزول شروع ہوتا تو ہمیں پتہ چل جاتا تھا۔ انقطاعِ وحی تک کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نظر اُٹھا کر نہ دیکھتا تھا جب وحی کا سلسلہ منقطع ہواتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اُٹھا کر فرمایا: اے انصار! تم نے کہا ہے کہ اسے اپنے شہر کی رغبت اور خاندان کی محبت نے آلیا ہے۔ وہ بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی ہم نے اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا ہو تو پھر میرا نام کیا ہو گا؟ خبردار! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ کی رضا کی خاطر تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔ تو انصار بلکتے ہوئے آپ کی طرف بڑھے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو باتیں کی ہیں وہ محض اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شدید محبت کی وجہ سے کی ہیں مبادا کہ آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ واپس آجائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری باتوں کی تصدیق کرتے اور تمہاری معذرت قبول کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10852
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1780 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10961»
حدیث نمبر: 10853
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدَى (وَفِي لَفْظٍ آخَرَ) دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن مکہ کے بالائی حصے کداء کی جانب سے اور عمرہ کے موقع پر کدیٰ کی جانب سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، دوسری روایت کے الفاظ ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں بالائی جانب سے داخل ہوئے اور نشیبی جانب سے باہر گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں: حدیث نمبر (۴۳۱۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10853
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4291، ومسلم: 1258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24815»
حدیث نمبر: 10854
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْأَذْخَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثنیۃ الاذخر کی جانب سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10854
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن ابي زياد القداح، أخرجه الطبراني في الاوسط : 4286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26768»
حدیث نمبر: 10855
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے تھے کہ آپ نے سیاہ پگڑی باندھی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10855
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14966»
حدیث نمبر: 10856
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس آدمی کا ارادہ حج یا عمرے کا نہ ہو، وہ احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہو سکتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس نے بار بار آنا ہو یا کبھی کبھار۔
حدیث نمبر (۱۰۸۸۰) میں ابن خطل کے قتل پر بحث ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10856
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1846، 3044، ومسلم: 1357 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12962»
حدیث نمبر: 10857
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے چاہا تو کل جب اللہ تعالیٰ ہمیں فتح سے نوازے گا تو ہمارا قیام خیف وادی میں ہو گا، جہاں کفار قریش نے (ہمارے خلاف) کفر کی مدد کی قسمیں اُٹھائی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۴۵۷۱) والا باب اور اس کے فوائد۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10857
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4284، ومسلم: 1314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8261»