حدیث نمبر: 10845
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَاسْتَعْمَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى الْأَعْرَابِ فَقَالَ لَهُمَا {تَطَاوَعَا} قَالَ وَكَانُوا يُؤْمَرُونَ أَنْ يُغِيرُوا عَلَى بَكْرٍ فَانْطَلَقَ عَمْرٌو فَأَغَارَ عَلَى قُضَاعَةَ لِأَنَّ بَكْرًا أَخْوَالُهُ فَانْطَلَقَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَكَ عَلَيْنَا وَإِنَّ ابْنَ فُلَانٍ قَدِ ارْتَبَعَ أَمْرَ الْقَوْمِ وَلَيْسَ لَكَ مَعَهُ أَمْرٌ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَتَطَاوَعَ فَأَنَا أُطِيعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ عَصَاهُ عَمْرٌو
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عامر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات السلاسل کے لیے لشکر روانہ کیا، مہاجرین پر سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اور دیہاتیوں پر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جا کر بنو قضاعہ پر چڑھای کر دی کیونکہ بنو بکر ان کے ماموں تھے۔ سیدنا مغیر ہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو ہم پر امیر مقرر فرمایا ہے، جب کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی رعایت کی ہے اور آپ کا تو ان سے کچھ بھی معاملہ نہیں ہے۔ تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جو حکم دیا ہم اس کی اطاعت کریں گے، پس میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی اطاعت کروں گا، خواہ عمر و رضی اللہ عنہ نے آپ کی بات نہ مانی ہو۔
حدیث نمبر: 10846
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ {عَائِشَةُ} قَالَ قُلْتُ فَمِنَ الرِّجَالِ قَالَ {أَبُوهَا} قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ {عُمَرُ} قَالَ فَعَدَّ رِجَالًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ذات السلاسل کی طرف بھیجے گئے لشکر پر امیر مقرر فرماکر روانہ کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ کے رسول!آپ کو لوگوں میں سے کونسا آدمی سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے عرض کیا: اور مردوں میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا باپ (یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ )۔ میں نے دریافت کیا: اور ان کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید مردوں کانام لیے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں صرف ذات السلاسل کا نام ذکر کیا گیا ہے۔
اس غزوے میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما جیسے عظیم لوگ بھی شریک تھے، لیکن سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا گیا، اس لیے جب وہ واپس آئے تو انھوں نے سمجھا کہ ان کی کسی خاص منزلت اور مرتبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا امیر بنایا ہے، اس لیے انھوں نے یہ سوال کیے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور مردوں کے نام لیے تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا تو خود اس ڈر سے خاموش ہو گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا نام آخر میں لیں۔
اس غزوے میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما جیسے عظیم لوگ بھی شریک تھے، لیکن سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا گیا، اس لیے جب وہ واپس آئے تو انھوں نے سمجھا کہ ان کی کسی خاص منزلت اور مرتبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا امیر بنایا ہے، اس لیے انھوں نے یہ سوال کیے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور مردوں کے نام لیے تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا تو خود اس ڈر سے خاموش ہو گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا نام آخر میں لیں۔
حدیث نمبر: 10847
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي} فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَهُ فَقَالَ {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً} قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظر میری طرف اُٹھا کر جھکالی اور پھر فرمایا: میں تمہیں ایک لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجنا چاہتا ہوں۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور تمہیں غنیمت سے نوازے گا۔ اور میں تمہارے حق میں مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں مال ودولت حاصل کرنے کے لیے تو مسلمان نہیں ہوا۔ میں تو محض اسلام کی رغبت کی وجہ سے مسلمان ہوا ہوں۔ اور میری خواہش ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا مال ، نیک آدمی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نیک آدمی کو مال و دولت کے حقوق کا علم ہوتا ہے، اس لیے وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
یہ ذات السلاسل والا ہی لشکر تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب فرمایا، کیونکہ وہ جنگی مہارتوں اور فنون سے متصف تھے۔
یہ ذات السلاسل والا ہی لشکر تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب فرمایا، کیونکہ وہ جنگی مہارتوں اور فنون سے متصف تھے۔