کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ارضِ فلسطین میں موتہ کے مقام پر سریہ زید بن حارثہ کا بیان، اسی غزوہ کو غزوۂ موتہ بھی کہتے ہیں، نیز سیدنا زید، سیدنا جعفر بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 10842
عَنْ خَالِدِ بْنِ شُمَيْرٍ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُهُ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ وَقَالَ {عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ} فَوَثَبَ جَعْفَرٌ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَأُمِّي مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا قَالَ {امْضُوا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ} قَالَ فَانْطَلَقَ الْجَيْشُ فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {نَابَ خَيْرٌ أَوْ ثَابَ خَيْرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا الْعَدُوَّ فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ} فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ {ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى أُصِيبَ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ} وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ وَقَالَ {اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ فَانْصُرْهُ} وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّةً فَانْتَصِرْ بِهِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ} فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
خالد بن شمیر سے مروی ہے کہ عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ تو میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ لوگ ان کے اردگرد جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہسوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش الامراء بھیجا اور فرمایا تمہارے اوپر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ امیر ہیں۔ اگر وہ شہید ہو جائیں تو ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر رضی اللہ عنہ اچھل کر بولے اے اللہ کے نبی میرا والد آپ پر فدا ہو مجھے یہ توقع نہ تھی کہ آپ زید رضی اللہ عنہ کو مجھ پر امیر مقرر فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ۔ تم نہیں جانتے کہ کونسی بات زیادہ بہتر ہے۔ لشکر روانہ ہو گیا۔ جب تک اللہ کو منظور تھا وہ لوگ سفر میں رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ اور آپ نے حکم دیا کہ نماز ہونے کا اعلان کیا جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک خبر پھیلی ہے۔ کیا میں تمہیں غزوہ میں مصروف اس لشکر کے متعلق نہ بتلاؤں؟ یہ لوگ گئے ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔ اور زید رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ تم ان کی مغفرت کی دعاء کرو۔ تو لوگوں نے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ تم ان کی شہادت کی گواہی دو۔ لوگوں نے ان کے حق میں بھی مغفرت کی دعا کی۔ پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اُٹھا لیا۔ وہ بھی دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ وہ بھی شہادت سے سرفراز ہوئے۔ صحابہ نے ان کے حق میں بھی دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ امیروں میں سے نہ تھے۔ پیش آمدہ حالات کے پیش ِنظر وہ از خود امیر بن گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تو اس کی مدد فرما۔ عبدالرحمن راوی نے ایک دفعہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے وہ فتح یاب ہوئے۔ اس روز سے خالد رضی اللہ عنہ سیف اللہ کہلائے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ اور جا کر اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ اور تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے۔ لوگ شدید گرمی میں پیدل اور سوار روانہ ہو گئے۔
حدیث نمبر: 10843
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَقَالَ {فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ} فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَتَى خَبَرُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ {إِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ وَإِنَّ زَيْدًا أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ بَعْدَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ} فَأَمْهَلَ ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ {لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي} قَالَ فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ {ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ} فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا ثُمَّ قَالَ {أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي} ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَشَالَهَا فَقَالَ {اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللَّهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ} قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ لَهُ يُتْمَنَا وَجَعَلَتْ تُفْرِحُ لَهُ فَقَالَ {الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا۔ اور فرمایا اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں تو جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب تمہارے امیر ہوں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تمہارے امیر ہوں گے۔ مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ تو جھنڈا زید رضی اللہ عنہ نے اُٹھایا۔ وہ دشمن سے لڑتے رہے بالآخر شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ ان کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھال لیا۔ اور اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی۔ ان کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی۔ آپ لوگوں کی طرف باہر تشریف لائے۔ اور اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ تمہارے بھائیوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ سب سے پہلے زید نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے جھنڈا اُٹھایا وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا لیا۔ وہ بھی لڑتے لڑتے شہادت کے رتبہ پر فائز ہو گئے۔ ان کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور ان کے ہاتھوں اللہ نے فتح نصیب فرمائی۔ آل جعفر تین روز تک اس انتظار میں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جائیں تیسرے دن کے بعد آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا تم آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا، میرے بھتیجوں کوبلاؤ ہمیں لایا گیا تو ہم چوزوں کی طرح بالکل چھوٹے چھوٹے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نائی کو بلاؤ اسے بلایا گیا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دئیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایایہ محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے۔ اور عبداللہ شکل وصورت اور مزاج میں میرے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کو اُٹھا کر فرمایایا اللہ جعفر رضی اللہ عنہ کے اہل وعیال میں اس کا نائب بنا اور عبداللہ کی تجارت میں برکت فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا تین مرتبہ کی۔ ہماری والدہ آپ کے پاس آئی اور اس نے اس قسم کا اظہار کیاکہیہ بچے اب بے آسرا ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کیا تم ان کے بارے میں فقروفاقہ کا اندیشہ کرتی ہو؟ دنیا اور آخرت میں میں ان کا سرپرست ہوں۔
حدیث نمبر: 10844
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ وَقَالَ أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ {مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ} قَالَ فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا،یہ جمعہ کا دن تھا، انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھیج دیا اور اپنے بارے میں کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر لوں، پھر ان کو جا ملوں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: کس چیز نے تجھے صبح کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جانے سے روک لیا؟ انھوں نے کہا: جی میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر کے ان کو جا ملوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین میں جو کچھ ہے، اگر تو وہ سارا کچھ خرچ کر دے تو ان کے صبح کو روانہ ہو جانے کے اجر کو نہیں پا سکتا۔