کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غزوۂ بن قریظہ سے متعلقہ بعض مخصوص روایات کا بیان
حدیث نمبر: 10775
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَعَلَى رَأْسِهِ الْغُبَارُ قَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهَا اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ قَالَ هَاهُنَا فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقَتَّلَ الْمُقَاتِلَةُ وَتُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُهُمْ قَالَ هِشَامٌ قَالَ أَبِي فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوۂ خندق سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، ان کے سر پر غبار تھا، انہوں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اتار دئیے؟ اللہ کی قسم میں نے تو ہتھیار نہیں اتارے ہیں، آپ بنو قریظہکی طرف روانہ ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادھر روانہ ہو گئے۔ عروہ نے بیان کیا کہ بنو قریظہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلے کا اختیار سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ( اے سعد رضی اللہ عنہ ) تو نے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ والا فیصلہ کیا ہے، یعنی ایسا فیصلہ کیا ہے جو اللہ کو بھی پسند اور منظور ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10775
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2813، ومسلم: 1769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24799»
حدیث نمبر: 10776
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ مَوْكِبِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَاطِعًا فِي سِكَّةِ بَنِي غَنَمٍ حِينَ سَارَ إِلَى قُرَيْظَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں گویا کہ اس وقت بھی جبریل علیہ السلام کی سواری کا اُٹھنے والا غبار بنی غنم کی گلی میں آسمان کی طرف اُڑتا دیکھ رہا ہوں، جب وہ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10776
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3214 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13262»
حدیث نمبر: 10777
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَقْتُلْ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً قَالَتْ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَحَدَّثُ مَعِي تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ قَالَتْ أَنَا وَاللَّهِ قَالَتْ قُلْتُ وَيْلَكِ وَمَا لَكِ قَالَتْ أُقْتَلُ قَالَتْ قُلْتُ وَلِمَ قَالَتْ حَدَثًا أَحْدَثْتُهُ قَالَتْ فَانْطُلِقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَنْسَى عَجَبِي مِنْ طِيبِ نَفْسِهَا وَكَثْرَةِ ضِحْكِهَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کی عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو قتل کیا گیا، اللہ کی قسم وہ میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازار میں ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، اچانک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ تو میرے نام کی پکار ہے۔ میں نے کہا: تیرا بھلا ہو، تجھے کیا ہوا؟ وہ بولی: مجھے قتل کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: میں نے ایک جرم کیا تھا۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں: پس اسے لے جا کر اس کی گردن اُڑا دی گئی۔ سیّدہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ کی قسم! مجھے اس کی خوش طبعی اور کثرت سے ہنسنا نہیں بھولتا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اسے قتل کیا جانے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ وہ خاتون تھی جس نے سیدنا خلاد بن سوید رضی اللہ عنہ پر چکی پھینک کر ان کو قتل کر دیا تھا، ان کے قصاص میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کو قتل کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10777
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2671 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26896»