کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غزوۂ احزاب میں مجاہدین کی شجاعت اور اظہارِ قوت کا بیان بلکہ موت کے لیے تیار ہو کر ان کا لڑنا
حدیث نمبر: 10764
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَرَجُلٌ يَتَتَرَّسُ جَعَلَ يَقُولُ بِالتُّرْسِ هَكَذَا فَوَضَعَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا يُسَفِّلُهُ بَعْدُ قَالَ فَأَهْوَيْتُ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا سَهْمًا مُدَمًّا فَوَضَعْتُهُ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ فَلَمَّا قَالَ هَكَذَا يُسَفِّلُ التُّرْسَ رَمَيْتُ فَمَا نَسِيتُ وَقْعَ الْقِدْحِ عَلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ التُّرْسِ قَالَ وَسَقَطَ فَقَالَ بِرِجْلِهِ فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُهُ قَالَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ قُلْتُ لِمَ قَالَ لِفِعْلِ الرَّجُلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس روز خندق کی لڑائی کا موقع تھا اور کفار کے لوگ اپنی اپنی ڈھال کی اوٹ میں چھپ رہے تھے، ساتھ ہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال کو اپنی ناک کے سامنے کر کے دکھایا کہ آدمی اپنی ڈھال کو یوں اپنے سامنے کرتا اور پھر کبھی اسے یوں نیچے کو کرتا تھا تاکہ مخالفین کی طرف دیکھ لے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ترکش کا قصد کر کے اس سے خون آلود تیرنکالا اور اسے کمان کی قوس پر رکھا، جب اس کا فر نے ڈھال کو ذرا نیچے کی طرف کیا تو میں نے فوراً تیر چلا دیا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تیر اس ڈھال کے فلاںفلاں حصے پر جا کر لگا اور وہ نیچے گر گیا اور اُس کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں،یہ منظر دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر زور سے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں، میں نے دریافت کیا: آپ کے ہنسنے کا سبب کیا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی کی حالت دیکھ کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10764
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة محمد بن محمد بن الاسود، أخرجه الترمذي في الشمائل : 234، والبزار: 1131 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1620»
حدیث نمبر: 10765
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ되는آلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ الْيَوْمَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا: آج کے بعد ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ اب ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے ہی ہوا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، غزوۂ خندق کے بعد نہ تو مشرکینِ مکہ، مدینہ منورہ کا رخ کر سکے اور نہ کسی میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کا سامنا کر سکے۔ ۵ سن ہجری میں غزوۂ خندق پیش آیا تھا، ۶ سن ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے، لیکن عمرہ کی ادائیگی نہ ہو سکی اور حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ سے صلح کا واقعہ پیش آیا، جو مسلمانوں کے حق میں فتح مبین کا پیغام تھا، پھر مشرک یہ معاہدہ برقرار نہ رکھ سکے اور ۸؁ھمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کر کے مشرکین مکہ کا سلسلہ ہی ختم کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10765
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4109 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27748»
حدیث نمبر: 10766
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے دن فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، انہوں نے ہمیں نمازِ وسطی یعنی نمازِ عصر سے مشغول کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10766
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 1/ 236 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1151»
حدیث نمبر: 10767
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَوَاتِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا} [الأحزاب: 25] أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے دن ہمیں نماز سے روک دیا گیا،یہاں تک کہ مغرب کے بعد کا وقت ہو گیا، دوسری روایت میں ہے:یہاں تک کہ رات کا بھی کچھ حصہ بیت گیا،یہ اس وقت کی بات ہے جب قتال کے متعلق مفصل احکامات نازل نہیں ہوئے تھے، جب لڑائی میں اللہ کی طرف سے ہماری مدد کی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَکَفیٰ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا۔} … لڑائی میںمومنین کے لیے اللہ کافی رہا اور اللہ بہت ہی قوت والا سب پر غالب ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھائی، جس طرح اس کے اصل وقت میں پڑھاتے تھے۔ پھر انھوں نے عصر کے لیے اقامت کہی تو آپ نے اسی طرح نماز پڑھائی جیسے وقت پر پڑھاتے تھے۔ پھر انھوں نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی جس طرح اس کے وقت میں پڑھاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دشمن کے ساتھ مصروفیت کی وجہ سے یہ نمازیں وقت سے لیٹ ہو گئی تھیں، نماز کو اس طرح تاخیر سے ادا کرنے کی رخصت منسوخ ہو چکی ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۳۴)والا باب۔
اس رخصت کے منسوخ ہونے کی کوئی دلیل نظر نہیں گزری۔ خوف کی وجہ سے نماز با جماعت اور وقت پر پڑھنی ممکن ہو تو ٹھیک ہے اوراصل یہی ہے، ورنہ اگر شدت خوف کی وجہ سے ایک سے زائد نمازیں جمع ہو جائیں تو زیر مطالعہ حدیث کی روشنی میں اس کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10767
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 2/ 17 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11216»
حدیث نمبر: 10768
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى إِلَى مَسْجِدٍ يَعْنِي الْأَحْزَابَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَقَامَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَدْعُو عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ ثُمَّ جَاءَ وَدَعَا عَلَيْهِمْ وَصَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ احزاب کے دن مسجد کی طرف آئے، اپنی چادر رکھ دی اور کھڑے ہو کر کفار پر بددعا کے لیے ہاتھ پھیلادئیے اور نماز ادا نہ کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ آئے اور ان پر بددعا کی اور نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10768
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن جابر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15300»
حدیث نمبر: 10769
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ هَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کی جماعتو ں پر بددعا کی اور فرمایا: کتاب کو نازل کرنے والے، جلد حساب کرنے والے، لشکروں اور جماعتوں کو شکست دینے والے! تو انہیں شکست دے دے اور ان کے پاؤں اکھاڑ دے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول کی اور ایک مہینہ کے بعد دشمن اس دعا کا مصداق بن کر ناکام و نامراد بھاگ گئے اور پھر مدینہ منورہ کا رخ ہی نہ کر سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة / حدیث: 10769
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2933، 4115، ومسلم: 1742 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19627»