کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
حدیث نمبر: 10755
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يَنْزِلَ فِي شَأْنِي وَحْيٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ وَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْيِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِي مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ بَرَّأَكِ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} [النور: 11] عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَاتِ بَرَاءَتِي قَالَتْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} إِلَى قَوْلِهِ {أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} [النور: 22] فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرِي وَمَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ أَوْ مَا بَلَغَكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَأَنَا مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ حدیث الافک (یعنی بہتان والی بات) بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: اللہ کی قسم! یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میرے بارے میں وحی نازل ہو گی، میں اپنے اس معاملہ کو اس سے کم تر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ خود اس کے بارے میں کلام کریں گے اور پھر اس کلام کی تلاوت کی جائے گی، ہاں یہ مجھے امید تھی کہ میرے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب دیکھیں گے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے بری کر دیں گے، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نشست گاہ سے حرکت نہ کی تھی اور نہ ہی گھروالوں میں سے ابھی کوئی باہر گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل کر دی اور وحی کے وقت سخت بوجھ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ آنا شروع ہو گیا، سردی کے سخت دن میں بھی وحی کے نازل ہوتے وقت آپ کی پیشانی سے پسینہ لؤلؤ موتیوں کی طرح گرتا تھا، اس وحی کے بوجھ کی وجہ سے، جو آپ پر نازل ہو رہی ہوتی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وحی کے نازل ہونے کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحیکے بعد جو بات کی، وہ یہ تھی: اے عائشہ! خوش ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں بری قرار دیا ہے۔ یہ سن کرمیری ماں نے کہا: عائشہ! کھڑی ہوجا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکریہ ادا کر۔ لیکن میں نے کہا:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہیں ہوں گی، میں اپنے اس اللہ کی تعریف کروں گی، جس نے میری براء ت نازل کی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دیں: {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} [النور: ۱۱] یہ کل دس آیات تھیں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مسطح پر خرچ کیا کرتے تھے کیونکہ وہ فقیر تھااور ان کا رشتہ دار بھی تھا، اس نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تہمت والی بات کر دی تھی، اس لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر آئندہ خرچ نہیں کروں گا، یہ اس حد تک چلا گیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھالیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ یہ آیت سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں پسند کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے، پس انہوں نے جو مسطح کا خرچہ لگا رکھا تھا وہ دوبارہ جاری کر دیااورکہا اب میں اسے کبھی نہیں روکوں گا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے میرے معاملہ کے بارے میں سوال کیا کہ تم اس بارے میں کیا جانتی ہو؟ یا کیا سمجھتی ہو؟ یا تم کو کون سی بات پہنچی ہے؟‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس بات سے اپنے کان اورآنکھ کو محفوظ رکھنا چاہتی ہوں! اللہ کی قسم، میری معلومات کے مطابق عائشہ میں خیر ہی خیر ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ سیدہ زینب ہی امہات المومنین میں سے میرا مقابلہ کرتی تھیں،لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں تقویٰ کی بدولت اس معاملے میں پڑنے سے بچا لیا اور ان کی بہن سیدہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا نے اپنی بہن کے ساتھ عصبیت اختیار کی اور ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس گرو ہ کے بارے میں ہمیں یہی کچھ معلوم ہو سکا۔
حدیث نمبر: 10756
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ أُمِّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ قَاعِدَتَيْنِ فَدَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ تَعْنِي ابْنَهَا قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا وَمَا ذَلِكَ قَالَتْ ابْنِي كَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا وَمَا الْحَدِيثُ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَسَمِعَ بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ أَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ فَوَقَعَتْ أَوْ سَقَطَتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا فَأَفَاقَتْ حُمَّى بِنَافِضٍ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهَا الثِّيَابَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِهَذِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَتْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ قَالَ لَعَلَّهُ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي تُحُدِّثُ بِهِ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَفَعَتْ عَائِشَةُ رَأْسَهَا وَقَالَتْ إِنْ قُلْتُ لَمْ تَعْذِرُونِي وَإِنْ حَلَفْتُ لَمْ تُصَدِّقُونِي وَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ حِينَ قَالَ {فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: 18] فَلَمَّا نَزَلَ عُذْرُهَا أَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ أَوْ قَالَتْ وَلَا بِحَمْدِ أَحَدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ماں سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئی اور وہ اپنے بیٹے کے متعلق کہنے لگی کہ اللہ اسے ہلاک کرے، تباہ کرے، میں نے اس سے کہا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: وہ بات کرنے والوں میں میرا بیٹا بھی شامل ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا: کونسی بات؟ اس نے کہا: فلاں بات، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ آیایہ بات ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی سنی ہے؟ اس عورت نے کہا: جی ہاں، انہوں نے پھر پوچھا: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اس کا علم ہو چکا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! یہ سنتے ہی وہ گر گئی اور وہ بے ہوش ہو گئی اسے شدت کا بخار ہو گیا، اور جسم کانپنے لگا، میں نے اس پر کپڑے ڈالے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور پوچھا: اسے کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے شدید بخاری ہو گیا ہے اور اس کا جسم کانپ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید اس کییہ کیفیت اس بات کی وجہ سے ہوئی ہے جو کہی جا رہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! یہ باتیں سن کر سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سر اُٹھایا اور کہا: اگر میں اپنے حق میں کچھ کہوں تو آپ میری معذرت قبول نہیں کریں گے اور اگر میں قسم اُٹھاؤں تب بھی آپ میری بات نہیں مانیں گے، میری اور آپ کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی سی ہے، جنہوں نے بیٹوں کی بات سن کر کہا تھا: {فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُونَ} … پس صبر کرنا ہی بہتر ہے، تم جو کچھ بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔ (سورۂ یوسف: ۱۸) پس جب اللہ کی طرف سے ان کی براء ت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں نزولِ براء ت کی اطلاع دی تو سیّدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ کی حمد کرتی ہوں، آپ کی نہیں،یایوں کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی حمد نہیں۔
حدیث نمبر: 10757
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُمِّ رُومَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَذَكَرَتْ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ قَالَتْ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ قَالَتْ بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ قَالَتْ قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ تَقُولِينَ هَذَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَكَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ رَجُلٌ كَانَ يَعُولُهُ أَبُو بَكْرٍ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَصِلَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [النور: 22] قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى فَوَصَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھی کہ ایک انصاری خاتون ہمارے ہاں آئی، اس سے آگے ساری حدیث گزشتہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی براء ت نازل کر دی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں واپس اندر آئے اور فرمایا: عائشہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری براء ت نازل کی ہے۔ انھوں نے کہا:اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کییہ بات سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم ایسی بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ام رومان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام وتہمت لگانے والوں میں سے ایک شخص کی کفالت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے تھے، اس واقعہ کے بعد انہوں نے قسم اُٹھا لی کہ اب اس کے ساتھ پہلے والا برتاؤ نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔{وَلَا یَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ … } تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور مال دار ہیں وہ اس بات کی قسم نہ اُٹھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مساکین اور اللہ کی راہ میں ہجرت کر کے آنے والوں کو کچھ نہ دیں گے۔ انہیں چاہیے کہ معاف کر دیںا ور درگزر کریں، کیا تمہیںیہ پسند نہیں کہ اللہ تمہاری خطائیں معاف کر دے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ حسن برتاؤ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔
حدیث نمبر: 10758
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَمْزَحُ مَعَهُ قَدْ فَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ أَصْحَابُهُ قَالَ الْبَرَاءُ إِنِّي لَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَرَّ يَوْمَئِذٍ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُفِرَ الْخَنْدَقُ وَهُوَ يَنْقُلُ مَعَ النَّاسِ التُّرَابَ وَهُوَ يَتَمَثَّلُ كَلِمَةَ ابْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا فَإِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو اسحاق سے مروی ہے کہ ایک شخص نے (ازراہِ مذاق) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی تھے اور تم ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز فرار نہیں ہوئے تھے۔ اور میں نے خندق والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ مل کر مٹی اُٹھا رہے تھے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیںیہاں تک کہ مٹی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ کی جلد کو چھپا دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن رواحہ کے یہ کلمات زبان سے ادا فرما رہے تھے: اَللّٰہُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا،وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا،فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا،وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا،فَإِنَّ الْأُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا،وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا (یا اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم راہِ ہدایت نہ پا سکتے اور ہم نہ صدقے کرتے اور نہ نمازیں پڑھتے، تو ہمارے اوپر سکون نازل فرما اور اگر ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا، ان کفار نے ہمارے اوپر سرکشی کی ہے اور دین کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے، اگر انہوں نے کسی فتنہ وفساد کا ارادہ کیا تو ہم اس سے انکار کر دیں گے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کر کے ادا کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 10759
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ قَرَّةٍ أَوْ بَارِدَةٍ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ فَأَجَابُوهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سرد صبح کو باہر نکلے اور دیکھا کہ مہاجرین اورانصار خندق کھود رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ صحابہ نے جواباً کہا: ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں ہے کہ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور بد بو والا سالن لایا گیا، لیکن ان سب نے کھا لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخرت والی بھلائی ہی بھلائی ہے۔
یہ دوجہانوں کے سردار کی حالت ہے، اگر دنیوی زینت و آرائش کوئی قابل فخر چیز ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے محروم نہ رکھا جاتا۔ یقینا خیر و بھلائی وہی ہے جو موت کے بعد نصیب ہو گی، کیونکہ دنیا کے ایام خوشحالی میں بیت جائیںیا بد حالی میں گزر جائیں، بالآخر یہاں سے روانہ ہونا پڑتا ہے اور ایسی روانگی کہ جس کے بعد واپسی کی کوئی صورت اور امید نہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو مال ودولت عطا کر رکھا ہے، وہ اسیرِ شریعت بن کر زندگی گزاریں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے تقاضے پورے کریں۔
سردی کا موسم ہو، ایک ہزار افراد نے ایک میل لمبی خندق کھودنی ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر کسے ہوئے ہوں، اشیائے خوردنی کی شدید کمی ہو، اوپر سے دشمن کی اتنی بڑی تعداد سر پر چڑھی آ رہی ہے کہ اس کی وجہ سے اہل مدینہ کے خوف کییہ صورتحال تھی: {اِذْ جَاء ُوْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا۔ ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا۔} … جب وہ تم پر تمھارے اوپر سے اور تمھارے نیچے سے آ گئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں گمان کرتے تھے، کئی طرح کے گمان۔ اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور ہلائے گئے، سخت ہلایا جانا۔ (سورۂ احزاب: ۱۰، ۱۱)
اگریہ صورتحال تھی تو ایسی ہستیوں نے دنیا کا کیا دیکھا، لیکن دنیا ان کی ترجیح بھی نہیں تھی، بس وہ آخرت کی خیر و بھلائی کے متمنی تھے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت اور سائے میں ان کو مل رہی تھی۔
یہ دوجہانوں کے سردار کی حالت ہے، اگر دنیوی زینت و آرائش کوئی قابل فخر چیز ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے محروم نہ رکھا جاتا۔ یقینا خیر و بھلائی وہی ہے جو موت کے بعد نصیب ہو گی، کیونکہ دنیا کے ایام خوشحالی میں بیت جائیںیا بد حالی میں گزر جائیں، بالآخر یہاں سے روانہ ہونا پڑتا ہے اور ایسی روانگی کہ جس کے بعد واپسی کی کوئی صورت اور امید نہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو مال ودولت عطا کر رکھا ہے، وہ اسیرِ شریعت بن کر زندگی گزاریں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے تقاضے پورے کریں۔
سردی کا موسم ہو، ایک ہزار افراد نے ایک میل لمبی خندق کھودنی ہو، بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر کسے ہوئے ہوں، اشیائے خوردنی کی شدید کمی ہو، اوپر سے دشمن کی اتنی بڑی تعداد سر پر چڑھی آ رہی ہے کہ اس کی وجہ سے اہل مدینہ کے خوف کییہ صورتحال تھی: {اِذْ جَاء ُوْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا۔ ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا۔} … جب وہ تم پر تمھارے اوپر سے اور تمھارے نیچے سے آ گئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں گمان کرتے تھے، کئی طرح کے گمان۔ اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور ہلائے گئے، سخت ہلایا جانا۔ (سورۂ احزاب: ۱۰، ۱۱)
اگریہ صورتحال تھی تو ایسی ہستیوں نے دنیا کا کیا دیکھا، لیکن دنیا ان کی ترجیح بھی نہیں تھی، بس وہ آخرت کی خیر و بھلائی کے متمنی تھے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت اور سائے میں ان کو مل رہی تھی۔
حدیث نمبر: 10760
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ قَالَ أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ قَالَ فَأَجَابُوهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔( دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے تو مہاجرین سخت سرد صبح کو خندق کھود رہے تھے، ان کے خادم نہیں تھے، (بلکہ وہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، اے اللہ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ صحابہ کرام نے جواباً کہا: ہم وہ لوگ ہیں، جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے، اور ہم میدان سے نہیں بھاگیں گے، اور ہم نہیں بھاگیں گے اور ہم نہیں بھاگیں گے۔
حدیث نمبر: 10761
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْخَنْدَقِ وَهُمْ يَحْفِرُونَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، صحابہ کرام خندق کھود رہے تھے اور ہم اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا اٹھا کر منتقل کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! نہیں ہے کوئی زندگی، مگرآخرت کی زندگی، پس تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔
حدیث نمبر: 10762
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ وَقَدِ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ قَالَ فَرَأَى عَمَّارًا فَقَالَ وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ عَنْ أُمِّهِ قُلْتُ نَعَمْ أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا تَلِجُ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے خندق والے دن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات نہیں بھولی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو اینٹیں پکڑا رہے تھے اور آپ کے سینہ مبارک کے بال غبار آلود ہو چکے تھے اور آپ یوں فرما رہے تھے: اے اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: سمیہ کے بیٹے پر افسوس ہے کہ اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ حسن ابن سیرین کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو محمد بن سیرین کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام لے کر فرمایا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ وہ( سمیہ رضی اللہ عنہا ) سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آتی جاتی رہتی تھیں۔
حدیث نمبر: 10763
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ قَالَ وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنَ الْخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ قَالَ فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَوْفٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَضَعَ ثَوْبَهُ ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَضَرَبَ أُخْرَى فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَلَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا، کھدائی کے دوران ایک مقام پر چٹان آگئی، جہاں گینتیاں کام نہیں کرتی تھیں، صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر اپنا کپڑا ایک طرف رکھا اور چٹان کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گینتی کو پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اسے زور سے مارا ،چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے فرمایا: اللہ اکبر، مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں ہیں، اللہ کی قسم! میں اپنی اس جگہ سے اس وقت وہاں کے سرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ بسم اللہ پڑھ کر دوبارہ گنتی چلائی، چٹان کا دوسرا ایک تہائی ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے ایران کیچابیاں دے دی گئی ہیں، اللہ کی قسم میں مدائن کو اور وہاں کے سفید محل کو اپنی اس جگہ سے اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے بسم اللہ پڑھ کر تیسری مرتبہ گینتی چلائی تو باقی چٹان بھی ریزہ ریزہ ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے یمن کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں اس وقت اس جگہ سے صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن اس موضوع سے ملتی جلتی درج ذیل حدیث صحیح ہے: ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَہُمْ صَخْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَاء َہُ نَاحِیَۃَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ قَائِمٌ یَنْظُرُ فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَرْقَۃٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِیَۃَ وَقَالَ {تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔} فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَۃٌ فَرَآہَا سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَۃَ وَقَالَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِی وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَخَذَ رِدَاء َہُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ رَأَیْتُکَ حِینَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَۃً إِلَّا کَانَتْ مَعَہَا بَرْقَۃٌ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَا سَلْمَانُ رَأَیْتَ ذٰلِکَ فَقَالَ إِی وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ یَا رَسُولَ اللّٰہِ قَالَ فَإِنِّی حِینَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الْأُولٰی رُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ کِسْرٰی وَمَا حَوْلَہَا وَمَدَائِنُ کَثِیرَۃٌ حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ لَہُ مَنْ حَضَرَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بِلَادَہُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِذٰلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الثَّانِیَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ قَیْصَرَ وَمَا حَوْلَہَا حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہِ ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بِلَادَہُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِذٰلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَائِنُ الْحَبَشَۃِ وَمَا حَوْلَہَا مِنَ الْقُرَی حَتّٰی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ دَعُوا الْحَبَشَۃَ مَا وَدَعُوکُمْ وَاتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوکُمْ۔))
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق کی کھدائی کا حکم فرمایا تو اس وقت (یعنی خندق کھودنے کے وقت)ایک بڑا پتھر نکل آیا تو اس کی وجہ سے خندق کھودنے میں مشکل پیش آگئی اور لوگوں کو اس کا توڑنا مشکل ہوگیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ ہتھیار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جس سے پتھر توڑا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک خندق کے کنارہ پر رکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت کریمہ {تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔} … تیرے پروردگار کا کلام سچائی اور انصاف میں پورا ہوا اور کوئی اس کی باتوں کو تبدیل کرنے والا نہیں تلاوت فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اٹھا کر مارا اور پتھر ٹوٹ کر گر پڑا۔اس وقت سیدنا سلمان فارسی وہاں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضرب کے وقت ایک بجلی جیسی چمک ہوئی۔ پھر دوسری مرتبہ وہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ہتھیار سے مارا، پھر ایسی ہی بجلیجیسی چمک ظاہر ہوئی اور دوتہائی پتھر اور الگ ہو گیا، تیسری مرتبہ وہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر جب مارا تو تیسرا ٹکڑا بھی گر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے پھر اپنی چادر مبارک لے کر تشریف فرما ہو گئے۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں دیکھ رہا تھا کہ جس وقت آپ ضرب لگاتے، تو اس کے ساتھ ایک بجلی چمک رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ دیکھ رہے تھے؟ سلمان!؟ اس پر سیدنا سلمان نے عرض کیا: اس ذات کی قسم کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دین حق دے کر بھیجا ہے میں نے دیکھا ہے، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں نے پہلی چوٹ ماری تو میرے سامنے سے پردے ہٹا دئیے گئے، یہاں تک کہ میں نے اپنی آنکھوں سے شہر فارس کے اور جو اس کے نزدیک کی بستیاں ہیں اور بہت سے شہر دیکھے ہیں جو لوگ اس جگہ موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ان شہروں کو ہم لوگوں کے ہاتھوں فتح فرما دے اور ہم لوگوں کو وہاں کا مال و دولت عطا فرما دے اور فرمایا: جس وقت میں نے دوسری ضرب لگائی تو قیصر کے شہر روم اور اس کے نزدیک کے علاقے سب کے سب میرے سامنے کر دئیے گئے اور میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کے ہاتھوں سے ان شہروں کو تباہ و برباد کر دے ہم لوگ وہاں کا مال غنیمت لوٹ لیں اور ہم کو ان پر فتح حاصل ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی پھر ارشاد فرمایا: جس وقت میں نے تیسری چوٹ ماری تو میرے سامنے حبشہ کے شہر اور اس کی آس پاس کی بستیاں کر دی گئیں، جن کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم لوگ ترک اور حبشہ کے لوگوں کو اس وقت تک نہ چھیڑنا جس وقت تک وہ تم کو نہ چھڑیں (یعنی جب تک وہ لوگ تم پر حملہ نہ کریں تو تم بھی ان پر حملہ نہ کرنا)۔ (سنن نسائی: ۳۱۲۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق کی کھدائی کا حکم فرمایا تو اس وقت (یعنی خندق کھودنے کے وقت)ایک بڑا پتھر نکل آیا تو اس کی وجہ سے خندق کھودنے میں مشکل پیش آگئی اور لوگوں کو اس کا توڑنا مشکل ہوگیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ ہتھیار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جس سے پتھر توڑا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک خندق کے کنارہ پر رکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت کریمہ {تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔} … تیرے پروردگار کا کلام سچائی اور انصاف میں پورا ہوا اور کوئی اس کی باتوں کو تبدیل کرنے والا نہیں تلاوت فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہتھیار اٹھا کر مارا اور پتھر ٹوٹ کر گر پڑا۔اس وقت سیدنا سلمان فارسی وہاں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضرب کے وقت ایک بجلی جیسی چمک ہوئی۔ پھر دوسری مرتبہ وہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ہتھیار سے مارا، پھر ایسی ہی بجلیجیسی چمک ظاہر ہوئی اور دوتہائی پتھر اور الگ ہو گیا، تیسری مرتبہ وہی آیت کریمہ تلاوت فرما کر جب مارا تو تیسرا ٹکڑا بھی گر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے پھر اپنی چادر مبارک لے کر تشریف فرما ہو گئے۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں دیکھ رہا تھا کہ جس وقت آپ ضرب لگاتے، تو اس کے ساتھ ایک بجلی چمک رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ دیکھ رہے تھے؟ سلمان!؟ اس پر سیدنا سلمان نے عرض کیا: اس ذات کی قسم کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دین حق دے کر بھیجا ہے میں نے دیکھا ہے، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں نے پہلی چوٹ ماری تو میرے سامنے سے پردے ہٹا دئیے گئے، یہاں تک کہ میں نے اپنی آنکھوں سے شہر فارس کے اور جو اس کے نزدیک کی بستیاں ہیں اور بہت سے شہر دیکھے ہیں جو لوگ اس جگہ موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ان شہروں کو ہم لوگوں کے ہاتھوں فتح فرما دے اور ہم لوگوں کو وہاں کا مال و دولت عطا فرما دے اور فرمایا: جس وقت میں نے دوسری ضرب لگائی تو قیصر کے شہر روم اور اس کے نزدیک کے علاقے سب کے سب میرے سامنے کر دئیے گئے اور میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کے ہاتھوں سے ان شہروں کو تباہ و برباد کر دے ہم لوگ وہاں کا مال غنیمت لوٹ لیں اور ہم کو ان پر فتح حاصل ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی پھر ارشاد فرمایا: جس وقت میں نے تیسری چوٹ ماری تو میرے سامنے حبشہ کے شہر اور اس کی آس پاس کی بستیاں کر دی گئیں، جن کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم لوگ ترک اور حبشہ کے لوگوں کو اس وقت تک نہ چھیڑنا جس وقت تک وہ تم کو نہ چھڑیں (یعنی جب تک وہ لوگ تم پر حملہ نہ کریں تو تم بھی ان پر حملہ نہ کرنا)۔ (سنن نسائی: ۳۱۲۵)