کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: غزوۂ بنی نضیر اور بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10746
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا اور بنو قریظہ کو وہیں رہنے کی اجازت دے دی اور ان پر احسان فرمایا، لیکن جب بنو قریظہ نے لڑائی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کرو ادیا اوران کی عورتوں ، بچوں اور مالوں کومسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا، البتہ ان میں سے بعض آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں امان دے دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے سارے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، بنو قینقاع کو بھی،یہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم تھی اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو اور باقی تمام یہودی جو جو مدینہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو جلا وطن کر دیا۔
حدیث نمبر: 10747
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ} [الحشر: 5]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نضیر کے بویرہ نخلستان کی کھجوروں کو جلایا اور کاٹ ڈالا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَائِمَۃً عَلٰی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ} … تم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جن کو تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا، یہ اس لیے ہوا کہ اللہ فاسقین کو رسوا کرنا چاہتا تھا۔ (سورۂ حشر: ۵)
وضاحت:
فوائد: … مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان یہودیوں سے صلح کر لی تھی کہ نہ آپ ان سے لڑیں نہ یہ آپ سے لڑیں، لیکن ان لوگوں نے اس عہد کو توڑ دیا تھا، جن کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان پر غالب کیا اور آپ نے انہیںیہاں سے نکال دیا، مسلمانوں کو کبھی اس کا خیال تک نہ تھا، خود یہیہود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان مضبوط قلعوں کے ہوتے ہوئے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، لیکن جب اللہ کی پکڑ آئییہ سب چیزیںیونہی رکھی کی رکھی رہ گئیں اور اچانک اس طرح گرفت میں آ گئے کہ حیران رہ گئے اور آپ نے انہیں مدینہ سے نکلوا دیا، بعض تو شام کی زراعتی زمینوں میں چلے گئے، جو حشر و نشر کی جگہ ہے اور بعض خیبر کی طرف جا نکلے، ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ اپنے اونٹوں پر لاد کر جو سامان لے جا سکو اپنے ساتھ لے جاؤ، اس لئے انہوں نے اپنے گھروں کو توڑ پھوڑ کر جو چیزیں لے جا سکتے تھے، اپنے ساتھ اٹھالیں، جو رہ گئیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔ اس آیت میںبنونضیر کا ذکر ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا تو ان کے کھجور کے درختوں کو آگ لگا دی اور کچھ کاٹ ڈالے اور کچھ چھوڑ دیئے، جس سے مقصود دشمن کی آڑ کو ختم کرنا تھا اور یہ واضح کرنا تھا کہ اب مسلمان تم پر غالب آ گئے ہیں۔
یہ ربیع الاول ۴ سن ہجری کا واقعہ ہے۔
یہ ربیع الاول ۴ سن ہجری کا واقعہ ہے۔