کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیّدہ فاطمۃ الزاہرا رضی اللہ عنہ سے شادی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10722
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ فَقُلْتُ مَا لِي مِنْ شَيْءٍ فَكَيْفَ ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحَطْمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ هِيَ عِنْدِي قَالَ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ارادہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کے بارے میں پیغام بھیجوں، لیکن پھر میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے، سو میں کیا کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بار بار ہمارے گھر آتے جاتے رہتے ہیں، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پیغام بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حطمی زرہ کہاں ہے، جو میں نے تجھے فلاں دن دی تھی؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی فاطمہ کو دے دو۔
وضاحت:
فوائد: … امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: نِحْلَۃُ الْخَلْوَۃِ (شب ِ زفاف کے موقع پر تحفہ دینے کا بیان)۔ امام نسائی کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ زرہ کو مہر سے الگ سمجھ رہے ہیں اور اسے رخصتی اور خلوت کا خصوص تحفہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بہت سے اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ مہر ہی ہے، جو نکاح کی بجائے رخصتی کے موقع پر دیا گیا۔ واللہ اعلم۔
حطمی زرہ کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ حطم کی طرف منسوب ہے، جس کے معانی توڑنے کے ہیں، کیونکہیہ زرہ تلواروں کو توڑ دیتی تھی،یعنی جو تلوار اس پر لگتی، وہ ٹوٹ جاتی،یا (۲) یہ عبد القیس کے ایک قبیلے حطمہ بن محارب کی طرف منسوب ہے، کیونکہوہ لوگ یہ تلواریں بناتے تھے۔
حطمی زرہ کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ حطم کی طرف منسوب ہے، جس کے معانی توڑنے کے ہیں، کیونکہیہ زرہ تلواروں کو توڑ دیتی تھی،یعنی جو تلوار اس پر لگتی، وہ ٹوٹ جاتی،یا (۲) یہ عبد القیس کے ایک قبیلے حطمہ بن محارب کی طرف منسوب ہے، کیونکہوہ لوگ یہ تلواریں بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 10723
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَعَثَ مَعَهُ بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَفِي لَفْظٍ لِيفُ الْإِذْخِرِ وَرَحْيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ ذَاتَ يَوْمٍ وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى لَقَدِ اشْتَكَيْتُ صَدْرِي قَالَ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ فَقَالَتْ وَأَنَا وَاللَّهِ قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَيَّ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةَ قَالَتْ جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْكَ وَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ فَقَالَ مَا فَعَلْتِ قَالَتْ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَأَتَيْنَا جَمِيعًا فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي وَقَالَتْ فَاطِمَةُ قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسِعَةٍ فَأَخْدِمْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَى بُطُونُهُمْ لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ فَرَجَعَا فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا وَإِذَا غَطَّيَا أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا فَثَارَا فَقَالَ مَكَانَكُمَا ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي قَالَا بَلَى فَقَالَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا وَإِذَا آوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ فَقَالَ قَاتَلَكُمُ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ نَعَمْ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا علی رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو آپ نے ان کے ہمراہ ایک اونی چادر، چمڑے کا ایک تکیہ، جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، ایک مشک اور دو مٹکے بھیجے، ایک دن سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ باہر سے پانی لالا کر اب تو میرا سینہ دکھنے لگا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد کے پاس کچھ قیدی بھیج دئیے ہیں، تم جا کر ان سے ایک خادم طلب کر لو، انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میرا بھی اب تو یہ حال ہو چکا ہے کہ آٹا پیسنے کے لیے چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں پر گٹے پڑ گئے ہیں یعنی ہاتھ بہت سخت ہو گئے ہیں۔ چنانچہ سیّدہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: بیٹی! کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے کہا میں تو محض سلام کہنے کی غرض سے آئی ہوں، اور کوئی چیز طلب کرنے سے جھجک گئیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا بنا؟ انہوں نے بتلایا:میں تو شرم کے مارے آپ سے کچھ نہیں مانگ سکی، پھر ہم دونوں آپ کی خدمت میں گئے، اس بار سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! باہر سے پانی لالا کر میرا سینہ دکھنے لگا ہے، اور سیّدہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ چکی چلاچلا کر میرے ہاتھوں پر گٹے پڑ گئے ہیں، اب اللہ نے آپ کے پاس قیدی بھیجے ہیں اور آپ کو مالی طور پر خوش حال کر دیا ہے، پس آپ ہمیں ایک خادم عنایت کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں خادم نہیں دے سکتا، جب کہ اہلِ صفہ کا حال یہ ہے کہ بھوک کے مارے ان کے پیٹ بل کھاتے ہیں اور میرے پاس اس قدر گنجائش نہیں کہ ان پر کچھ خرچ کر سکوں، یہ جو قیدی آئے ہیں، میں انہیں فروخت کر کے ان سے حاصل ہونے والی رقم اصحاب صفہ پر خرچ کروں گا۔ یہ سن کر وہ دونوں لوٹ آئے، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں ایسے وقت تشریف لے گئے، جب وہ اپنی چادر میں داخل ہو چکے تھے، اور اس چادر کا بھی یہ حال تھا کہ وہ چادر ان کے سروں کو ڈھانپتی تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب وہ دونوں اپنے کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کے سر ننگے رہ جاتے، وہ اٹھ کر بیٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں، تم اپنی جگہ پرہی رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ لوگوں نے مجھ سے جو کچھ طلب کیا تھا، اب کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتلاؤں؟ دونوں نے کہا: ضرور، ضرور، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ چند کلمات ہیں جو جبریل علیہ السلام نے مجھے سکھائے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحانَ اللّٰہ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، اور دس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو اور جب تم سونے کے لیے بستر پر آؤ تو ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے ہیں، میں نے انہیں ترک نہیں کیا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کواء نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے جنگ صفین والی رات کو بھی انہیں ترک نہیں کیا تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اہل ِ عراق! اللہ تمہیں ہلاک کرے، ہاں صفین کی شب کو بھی میں نے اس عمل کو ترک نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جہیز میں حاجت و ضرورت کے مطابق کچھ چیزیں دی جا سکتی ہے، لیکن اس میں تکلّف اور وسعت اختیارکرنا ہر لحاظ سے انتہائی ناپسندیدہ ہے، جیسا کہ دورِ حاضر میں ہو رہا ہے، امیر لوگ اس سلسلے میں فخر و مباہات میں پڑے ہوئے ہیں،غریب لوگ انتہائی پریشانی میں بھیک مانگ کر بچی کی شادی کی تیاری کر رہے ہیں اور درمیانی قسم کے لوگ مقروض ہو کر اپنی زندگیوں کا سکون غارت کر رہے ہیں۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) … ایک بستر مرد کے لیے ہوتا ہے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۳۸۸۶)
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ ان احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔
قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ دورِ حاضر کے پر تکلف جہیز، پر اہتمام باراتیں اور رسمیں اور بڑے بڑے ولیمے ایسی ایسی صورتیں اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد نمود و نمائش اور فخر و مباہات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ان امور کی بنیاد سنت ِ رسول نہیں ہے، انتہائی کنجوس اور بخیل لوگوں کو ان موقعوں پر کھلے دل سے خرچ کرتے ہوئے پایا گیا ہے، بھلا کیوں؟ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ولیمہ پر پندرہ سو افراد کو دعوت دی اور مٹن اور چکن سمیت تین قسم کی ڈشیں تیار کروائیں اور تین چار دن شادی کا یہ سلسلہ جاری ہے، اس آدمی نے اپنے ایک انتہائی غریب اور معذور رشتہ دار سے پچیس ہزار روپے کا قرض لینا تھا، جونہی وہ شادی سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے اس رشتہ دار کے گھر پہنچ کر اپنے قرض کا مطالبہ شروع کر دیا، اس بیچارے نے ضرورت کی گندم بیچ کر اور کچھ رقم ادھار پر لے کر اس کا قرض اتارا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر باراتوں اور ولیموں پر لاکھوں روپے لٹانا سنت ہے تو کسی محتاج رشتہ دار کو چند ہزار روپے معاف کیوں نہیں کیے جا سکتے یا اس کو چند ماہ کی مزید رخصت کیوں نہیں دی جاتی؟ کون سمجھے روحِ اسلام کو اور پھر کہاں سے لائے جواب؟ یہی معاملہ جہیزکا ہے، ایسی بے غیرتی رقص کناں ہیں کہ لڑکے کی طرف سے باقاعدہ جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ شریعت کی نگاہ میں مذموم بھکاری بنتا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) … ایک بستر مرد کے لیے ہوتا ہے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۳۸۸۶)
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ ان احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔
قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ دورِ حاضر کے پر تکلف جہیز، پر اہتمام باراتیں اور رسمیں اور بڑے بڑے ولیمے ایسی ایسی صورتیں اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد نمود و نمائش اور فخر و مباہات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ان امور کی بنیاد سنت ِ رسول نہیں ہے، انتہائی کنجوس اور بخیل لوگوں کو ان موقعوں پر کھلے دل سے خرچ کرتے ہوئے پایا گیا ہے، بھلا کیوں؟ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ولیمہ پر پندرہ سو افراد کو دعوت دی اور مٹن اور چکن سمیت تین قسم کی ڈشیں تیار کروائیں اور تین چار دن شادی کا یہ سلسلہ جاری ہے، اس آدمی نے اپنے ایک انتہائی غریب اور معذور رشتہ دار سے پچیس ہزار روپے کا قرض لینا تھا، جونہی وہ شادی سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے اس رشتہ دار کے گھر پہنچ کر اپنے قرض کا مطالبہ شروع کر دیا، اس بیچارے نے ضرورت کی گندم بیچ کر اور کچھ رقم ادھار پر لے کر اس کا قرض اتارا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر باراتوں اور ولیموں پر لاکھوں روپے لٹانا سنت ہے تو کسی محتاج رشتہ دار کو چند ہزار روپے معاف کیوں نہیں کیے جا سکتے یا اس کو چند ماہ کی مزید رخصت کیوں نہیں دی جاتی؟ کون سمجھے روحِ اسلام کو اور پھر کہاں سے لائے جواب؟ یہی معاملہ جہیزکا ہے، ایسی بے غیرتی رقص کناں ہیں کہ لڑکے کی طرف سے باقاعدہ جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ شریعت کی نگاہ میں مذموم بھکاری بنتا ہے۔
حدیث نمبر: 10724
أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنَ السَّنَامِ قَالَ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میںمجھے مالِ غنیمت میں سے ایک اونٹ ملا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک اور اونٹ عطا فرمایا تھا، میں نے ایک دن دونوں اونٹوں کو ایک انصاری کے دروازے کے پاس بٹھایا۔ میں اذخرگھاس کاٹ کر ان پر لاد کر لے جا کر بیچنا چاہتا تھا۔ میرے ہمراہ بنو قینقاع کا ایک صراف شخص بھی تھا، میں اس سے حاصل ہونے والی رقم کو سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ پرخرچ کرنا چاہتا تھا۔ انصاری کے اس گھر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بیٹھے شراب نوشی کر رہے تھے کہ اچانک وہ تلوار لے کر اُٹھے اور اونٹوں کی طرف لپک کر ان کے کوہاں کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں چاک کر دیں اور ان کے جگر نکال کر چلتے بنے۔ ابن جریج راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ زہری سے دریافت کیا کہ کوہاںوں کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: انہیں بھی وہ کاٹ کر ساتھ لے گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا اور گھبرا گیا، میں اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، اس وقت سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو کر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ناراضگی کا اظہار فرمایا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی نظروں کو گھمایا اور کہنے لگے: تم لوگ تو میرے باپ کے غلام ہو۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کییہ بات سن کر رسول اللہ رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں واپس ہو کر واپس لوٹ آئے۔ یہ واقعہ شراب کی حرمت سے پہلے کاہے۔
وضاحت:
فوائد: … الٹے پاؤں لوٹنے کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نشے میں تھے اور ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقصان پہنچا دینا ممکن تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر نظر رکھی اور پیچھے کو ہٹ گئے۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے باپ عبد المطلب تھے، جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دادے تھے اور دادا کو سید اور آقا بھی کہا جاتا ہے، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ رشتے اور نسب میں عبد المطلب کے زیادہ قریب ہیں۔