کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
حدیث نمبر: 10715
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتَّةً وَسَبْعِينَ وَكَانَ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَيْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل بدر کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں سے چھہتر(۷۶) مہاجرین تھے، کفار سترہ رمضان کو جمعہ کے دن ہزیمت سے دو چار ہو ئے۔
حدیث نمبر: 10716
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ لَا يَصْلُحُ قَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَ قَالَ لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لیں، اب کوئی آپ کی مزاحمت نہیں کر سکے گا ، لیکن عباس جو کہ اس وقت اسیر تھے اور بندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اب ابو سفیان کا پیچھا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کو ایک گروہ پر غلبہ دے دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَإِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ إِحْدَی الطَّائِفَتِیْنِ أَنَّہَا لَکُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُونُ لَکُمْ وَیُرِیدُ اللّٰہُ أَن یُحِقَّ الحَقَّ بِکَلِمَاتِہِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ۔} … اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہوگا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھارے لیے ہو اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ (سورۂ انفال: ۷)
ایک گروہ سے مراد تجارتی قافلہ ہے کہ وہ لڑائی کے بغیر مسلمانوںکو مل جائے گا اور اس میں وافر مال و اسباب بھی ہوں گے۔
دوسرے گروہ سے مراد لشکرِ قریش ہے کہ اس کے ساتھ صحابہ کا مقابلہ ہو گا، جس میں مسلمان غالب آ جائیں گے اور ان کو مال غنیمت ملے گا۔
ایک گروہ سے مراد تجارتی قافلہ ہے کہ وہ لڑائی کے بغیر مسلمانوںکو مل جائے گا اور اس میں وافر مال و اسباب بھی ہوں گے۔
دوسرے گروہ سے مراد لشکرِ قریش ہے کہ اس کے ساتھ صحابہ کا مقابلہ ہو گا، جس میں مسلمان غالب آ جائیں گے اور ان کو مال غنیمت ملے گا۔
حدیث نمبر: 10717
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَنَا إِذَا أَكْثَبُوكُمْ يَعْنِي غَشُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَأُرَاهُ قَالَ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب ہماری اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے یعنی بالکل قریب آجائے تو تب تم ان پر تیر چلانا۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اندھا دھند تیر اندازی کرنے کی بجائے احتیاط سے تیر چلانا۔
وضاحت:
فوائد: … لشکر ِ اسلام میں اسلحہ کی قلت بھی تھی اور دور سے تیر فائر کر دینے سے تیر ضائع بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ دوری کی وجہ سے نشانے پر نہ لگے یا دشمن کو اس سے بچنے کا موقع مل جائے۔
حدیث نمبر: 10718
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَةٌ (وَفِي رِوَايَةٍ فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ) أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ مَعِي مَعِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم نے صف بندی کی تو ہم میں سے بعض جلد بازوں نے جلدی کی اور صف سے آگے نکل گئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ ساتھ رہو۔
وضاحت:
فوائد: … جنگ میں حسن نظام کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی قیادت بھی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 10719
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ فَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بدر کے دن ہم میدان جنگ میں تھے کہ ہمیں اونگھ نے آلیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اس دن انہی لوگوں میں شامل تھا ،جن کو اونگھ آگئی تھی، میری تلوار بار بار میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جاتی تھی اور میں اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر دلوں کا مطمئن ہونا اور اس کی ذات پر مکمل توکل اور بھروسہ کرنا، اس چیز کا نتیجہ تھا کہ دشمن سامنے ہونے کے باوجود لشکر ِ اسلام کییہ کیفیت تھی اور ان کو دشمن کا کوئی خوف و خطر نہیں تھا، حالانکہ ان کی تعداد بھی کم تھی اور جنگی ساز و سامان بھی کم تھا۔
حدیث نمبر: 10720
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَصْغَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَرُدِدْنَا يَوْمَ بَدْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کم عمر قرار دے کر ہمیں لڑائی سے واپس بھیج دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … جنگ میں جنگجو کی قوت و طاقت، عزم و عزیمت اور عقل و رشد کی اشد ضرورت ہوتی ہے، جبکہ کم سن افراد ان صفات سے متصف نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 10721
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ قَالَ حِينَ الْتَقَى الْقَوْمُ اللَّهُمَّ أَقْطَعَنَا الرَّحِمَ وَأَتَانَا بِمَا لَا نَعْرِفُهُ فَأَحِنْهُ الْغَدَاةَ فَكَانَ الْمُسْتَفْتِحُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب کفار اور مسلمان ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئے تو ابو جہل نے کہا: یا اللہ! ہم میں سے جس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا جسے ہم پہنچانتے نہیں تو اسے کل صبح رسوا کر، چنانچہ اس کییہی دعا مسلمانوں کی فتح کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔
وضاحت:
فوائد: … ابو جہل کی اس دعا کا مصداق وہ خود ٹھہرا، کیونکہ اسی نے قطع رحمی کی تھی اور وہ بتوںکی پوجا پاٹ کی صورت ایسا عمل کرتا تھا، جو انتہائی غیر معروف تھا، پس اس کے حق میں اس کی دعا قبول ہوئی اور وہ بری طرح رسوا ہوا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرنے والے تھے اور اس توحید کی تعلیم دینے والے تھے، جو جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرنے والے تھے اور اس توحید کی تعلیم دینے والے تھے، جو جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہے۔