کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
حدیث نمبر: 10698
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے قبہ کے اندر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! میں تجھے تیرا کیا ہوا وعدہ یا د دلاتا ہوں، یا اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے( تو ہمارے مخالفین کو ہم پر غلبہ دے اور ہمیں ان کے ہاتھوں قتل کرا دے۔) اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے رب سے خوب خوب دعائیں کر لی ہیں اور یہی کافی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قمیض میں خوشی سے اچھلتے ہوئے فرما رہے تھے {سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ} … عنقریب مسلمانوں کی دشمن جماعتیں ہزیمت سے دو چار ہوں گی، اور وہ پیٹھ دے کر بھاگ جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10698
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2915، 3953 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3042»
حدیث نمبر: 10699
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا إِلَّا نَائِمٌ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ يُصَلِّي وَيَبْكِي حَتَّى أَصْبَحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم مسلمانوں میں مقداد رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی گھڑ سوار نہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا ہم میں سے ہر ایک کو نیند آگئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے تھے اور صبح تک اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ زاری کرتے رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10699
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6778، ومسلم: 1707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1023»
حدیث نمبر: 10700
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا حَضَرَ الْبَأْسُ يَوْمَ بَدْرٍ الْتَقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ مَا كَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَقْرَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب لڑائی شروع ہوئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جاملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت بہادر تھے اور ہم میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر مشرکین کے قریب تر اور کوئی نہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10700
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 412، وابن ابي شيبة: 14/ 357 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1042»
حدیث نمبر: 10701
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔( دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بدر کے دن دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پناہ ڈھونڈتے تھے اور ہم سب کی بہ نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کے انتہائی قریب تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10701
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 654»
حدیث نمبر: 10702
عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ لِعَلِيٍّ وَلِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ أَوْ قَالَ يَشْهَدُ الصَّفَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو صالح حنفی سے مروی ہے کہ بدر کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ تم میں سے ایک کے ساتھ جبریل اور دوسرے کے ساتھ میکائل اور اسرافیل بھی،یہ بہت بڑا فرشتہ ہے، جو لڑائی میں یا لڑائی کے وقت صف میں حاضر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10702
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 729، وابويعلي: 340، والحاكم: 3/ 134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1257»
حدیث نمبر: 10703
عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ إِنِّي لَأَتْبَعُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِأَضْرِبَهُ إِذَا وَقَعَ رَأْسُهُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ سَيْفِي فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ غَيْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو داؤد مازنی رضی اللہ عنہ ،جو غزوۂ بدر میں شریک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک مشرک کو قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اچانک میری تلوار اس تک نہ پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر کٹ کر دور جا گرا، میں جان گیا کہ اسے میرے سوا کسی دوسرے نے قتل کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10703
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الواسطة بين اسحاق بن يسار وبين ابي داود اليماني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24186»