کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غزوۂ عشیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 10688
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقَامَ بِهَا رَأَيْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ فِي نَخْلٍ فَقَالَ لِي عَلِيٌّ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ فَجِئْنَاهُمْ فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ يَا أَبَا تُرَابٍ لِمَا يُرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي قَرْنَهُ حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۃ العشیرۃ میں میں اور علی رضی اللہ عنہ اکٹھے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں نزول فرما ہوئے تو ہم نے وہاں بنو مدلج کے لوگوں کو ایک نخلستان میں ایک چشمے پر کام کرتے دیکھا تو علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا ابو الیقظان!کیا خیال ہے ہم ان کے پاس جا کر دیکھیںیہ کس طرح کام کرتے ہیں؟ ہم ان کے پاس گئے اور ہم نے کچھ دیر ان کا کام دیکھا۔ پھر ہمیں نیند نے آلیا۔ تو میں اور علی چل کر کھجوروں کے ایک جھنڈ میں مٹی پر ہی لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی اپنے پاؤں سے حرکت دے کر ہمیں بیدار کیا۔ ہم دونوں مٹی کے ساتھ لتھڑے ہوئے تھے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمادی الاولیٰیا جمادی الاخری۲ ہجری میں (۱۵۰یا۲۵۰) مہاجرین کے ساتھ ذوالعشیرہ تک تشریف لے گئے، مقصود قریش کے ایک قافلے کو روکنا تھا، جو شام جا رہا تھا، لیکن وہ آپ کے پہنچنے سے چند دن پہلے ہی جا چکا تھا، اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مدلج کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا،یہ ایک نافرمان قوم تھی، انھوں نے اپنے پیغمبر سے مطالبہ کیا کہ وہ پتھر کی چٹان سے اس طرح ایک اونٹنی نکال کر دکھائے کہ وہ بھی دیکھ رہے ہوں۔ صالح نے ان سے عہد لیا کہ اس کے بعد بھی اگر ایمان نہ لائے تو وہ ہلاک کر دیے جائیںگے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس معجزے کا اظہار کر دیا، لیکن باغیوں کا ایمان لانا تو درکنار، انھوں نے تو سرے سے اونٹنی کا قصہ ہی تمام کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت میں مبتلا ہو گئے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰہَا اِِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰہَا فَکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْہَا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰہَا۔} (سورۂ شمس: ۱۲ تا ۱۴) … قوم ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلا دیا۔ جب ان کا بڑا بد بخت کھڑا ہوا۔ انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو)۔ ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو (نیست و نابود کر کے) برابر کر دیا۔
اکثر مفسرین کے نزدیک اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کا نام قدار بن سالف تھا، وہ اس بغا وت کی وجہ سے رئیس الاشقیاء (سب سے بڑا بدبخت) بن گیا۔ چونکہ اس شرارت میں پوری قوم شریک تھی، اس لیے اس آیت میں اس جرم کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا گیا، وگرنہ عملی طور پر ایک شخص نے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔
جنگ نہروان میں خوارج کے صرف نو آدمی بچ گئے تھے، یہ صدارت و امامت کی حیثیت رکھتے تھے، انھوں نے فارس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوتیں اور سازشیں کیں، لیکن ناکام رہے۔ بالآخر عبد الرحمن بن ملجم مراوی، برک بن عبد اللہ تمیمی اور عمرو بن بکر تمیمی مکہ مکرمہ میںجمع ہوئے اور تینوں اس رائے پر متفق ہو گئے کہ سیدناعلی، سیدنا امیر معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص کو قتل کر دیا جائے، انھوں نے اس ناپاک عزم کی تکمیل کے لیے۱۶ رمضان ۴۰؁ھجمعہکےدنفجرکی نماز کا تقرر کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی ذمہ داری عبد الرحمن بن ملجم نے سنبھالی اور کوفہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچ کر اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کیں، اس کے ہم خیالوں نے وردان نامی شخص کو ابن ملجم کی مدد کرنے کے لیے مقرر کیا، شبیب بن شجرہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہ تینوں پچھلی رات مسجد کوفہ میں پہنچ گئے اور دروازے کے قریبچھپ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حسب ِ عادت لوگوں کو نماز کے لیے آوازیں دیتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے وردان نے آگے بڑھ کر تلوار کا وار کیا، مگر اس کی تلوار دروازے کی چوکھٹ یا دیوار پر پڑی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے۔ ابن ملجم فوراً لپکا اور آپ کی پیشانی پر تلوار کا ہاتھ مارا، جو بہت کاری پڑا۔ اس زخم کے صدمہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ۱۷ رمضان ۴۰ھ کوشہید ہو گئے۔ بعد میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو قصاصاً ایک ہی وار سے قتل کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10688
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 3/ 140 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18511»