کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات کی تعداد اور جنگ وقتال کے بعض آداب کا بیان
حدیث نمبر: 10683
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ غزوے کئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10683
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الجراح الرؤاسي مختلف فيه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18758»
حدیث نمبر: 10684
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ ثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَأَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِدَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔( دوسری سند) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پندرہ غزوات میں شرکت کی، میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہم عمر ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10684
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4472 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18787»
حدیث نمبر: 10685
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ وَسَبَقَنِي بِغَزَاتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انیس غزوے کیے اور میں نے آپ کے ساتھ سترہ غزوات میں شرکت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو غزووں میں مجھ سے سبقت لے گئے تھے، (سو میں ان میں شرکت نہ کر سکا تھا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10685
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4471، ومسلم: 1254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19531»
حدیث نمبر: 10686
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10686
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4473، ومسلم: 1814 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23341»
حدیث نمبر: 10686M
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ يُغْزَى أَوْ يُغْزَوْا فَإِذَا حَضَرَ ذَلِكَ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرمت والے مہینوں میں قتال نہیں کیا کرتے تھے، سوائے اس صورت کے کہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چڑھائی کر دیتا، اگر کوئی ایسی صورت پیش آ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرمت والے مہینے کے گزرنے تک رک جاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حرمت والے مہینے چار ہیں: محرم، رجب، ذو القعدہ، ذوالحجہ۔ جنگ و جدل کے معاملے میں ان چار مہینوں کا ادب یہ ہے کہ اہل اسلام کسی سے جنگ شروع نہ کریں، ہاں اگر دشمن یورش کر دے تو جوابی کاروائی کرتے ہوئے ان سے جہاد کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10686M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14637»
حدیث نمبر: 10687
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَأَنْتَ نَصِيرِي وَبِكَ أُقَاتِلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دشمن سے قتال کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ عَضُدِی وَاَنْتَ نصِیری وَبِکَ اُقَاتِلُ۔ (یا اللہ ! تو ہی میرا دست وبازو اور مدد گار ہے اور میں تیرے ہی سہارے دشمن سے قتال کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … غزوات کی تعداد کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے، درج بالا روایات میں ہر صحابی نے اپنے علم کی روشنی میںیا اپنے ذاتی غزووں کے بارے میں بات کی ہے، ابن سعد وغیرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات کو مفصل اور مرتب بیان کیا ہے اور انھوں نے کل ستائیس غزوے اور چھپن سریّےشمار کیے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثانية للهجرة / حدیث: 10687
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2632، والترمذي: 3584 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12909/2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12940»