کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
حدیث نمبر: 10677
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا {اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} قَالَ هَاتُوا قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ قَالَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذَكِّرُ قَالَ يَلْتَقِي الْمَاءَانِ فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ أَنَّثَتْ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي قَالَ بَعْضُهُمْ يَعْنِي الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَهَا قَالُوا صَدَقْتَ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوزن کا جوہر آب دونوں ملتے ہیں، جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا جوہر آب غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتاؤ کہیعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نسا کی بیماری تھی، انہیں صرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ گرج کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیں۔ اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ اس جگہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائییعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
وضاحت:
فوائد: … جب یوسف رضی اللہ عنہ کے بھائیوں نے اپنے باپ یعقوب رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو غلہ لینے کے لیے ان کے ساتھ بھیجیں، تو اس وقت انھوں نے ان سے پکا عہد لیا تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ واپس لائیں گے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قَالَ لَنْ اُرْسِلَہ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِہٖٓاِلَّآاَنْیُّحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔} … اس نے کہا میں اسے تمھارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا، یہاں تک کہ تم مجھے اللہ کا پختہ عہد دوگے کہ تم ہر صورت اسے میرے پاس لاؤ گے، مگر یہ کہ تمھیں گھیر لیا جائے۔ پھر جب انھوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں، ضامن ہے۔ (سورۂ یوسف: ۶۶)
اس حدیث کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہو رہی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِنَ الْیَہُودِ نَبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا فَقَالُوا: یَا أَبَا الْقَاسِمِ! حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُکَ عَنْہُنَّ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: ((سَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ، وَلٰکِنْ اجْعَلُوا لِی ذِمَّۃَ اللّٰہِ، وَمَا أَخَذَ یَعْقُوبُ عَلَیْہِ السَّلَام عَلٰی بَنِیہِ، لَئِنْ حَدَّثْتُکُمْ شَیْئًا فَعَرَفْتُمُوہُ لَتُتَابِعُنِّی عَلَی الْإِسْلَامِ۔)) قَالُوْا: فَذٰلِکَ لَکَ، قَالَ: ((فَسَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ۔)) قَالُوْا: أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُکَ عَنْہُنَّ، أَخْبِرْنَا أَیُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ مَائُ الْمَرْأَۃِ وَمَائُ الرَّجُلِ، کَیْفَیَکُونُ الذَّکَرُ مِنْہُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ ہٰذَا النَّبِیُّ الْأُمِّیُّ فِی النَّوْمِ؟ وَمَنْ وَلِیُّہُ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ؟ قَالَ: ((فَعَلَیْکُمْ عَہْدُ اللّٰہِ وَمِیثَاقُہُ، لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُکُمْ لَتُتَابِعُنِّی۔)) قَالَ: فَأَعْطَوْہُ مَا شَائَ مِنْ عَہْدٍ وَمِیثَاقٍ، قَالَ: ((فَأَنْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِیلَیَعْقُوبَ عَلَیْہِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِیدًا، وَطَالَ سَقَمُہُ، فَنَذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا، لَئِنْ شَفَاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ سَقَمِہِ لَیُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ، وَکَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ أَلْبَانُہَا؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَنْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَائَ الرَّجُلِ أَبْیَضُ غَلِیظٌ، وَأَنَّ مَائَ الْمَرْأَۃِ أَصْفَرُ رَقِیقٌ، فَأَیُّہُمَا عَلَا کَانَ لَہُ الْوَلَدُ وَالشَّبَہُ بِإِذْنِ اللّٰہِ، إِنْ عَلَا مَائُ الرَّجُلِ عَلٰی مَائِ الْمَرْأَۃِ کَانَ ذَکَرًا بِإِذْنِ اللّٰہِ، وَإِنْ عَلَا مَائُ الْمَرْأَۃِ عَلٰی مَائِ الرَّجُلِ کَانَ أُنْثَی بِإِذْنِ اللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَنْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ ہٰذَا النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) قَالُوْا: وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِیُّکَ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ فَعِنْدَہَا نُجَامِعُکَ أَوْ نُفَارِقُکَ، قَالَ: ((فَإِنَّ وَلِیِّیْ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام، وَلَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیًّا قَطُّ إِلَّا وَہُوَ وَلِیُّہُ۔)) قَالُوْا: فَعِنْدَہَا نُفَارِقُکَ، لَوْ کَانَ وَلِیُّکَ سِوَاہُ مِنِ الْمَلَائِکَۃِ لَتَابَعْنَاکَ وَصَدَّقْنَاکَ، قَالَ: ((فَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوہُ؟)) قَالُوْا: إِنَّہُ عَدُوُّنَا، قَالَ: فَعِنْدَ ذٰلِکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلٰی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللّٰہِ} إِلٰی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَنَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} فَعِنْدَ ذٰلِکَ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} الآیۃ۔ یہودیوں کی ایک جماعت ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے ابو القاسم! ہمیں چند باتیں بتائو، انہیں صرف نبی جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مرضی ہے پوچھو، لیکن اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو مدنظررکھنا اور اسے بھی مدنظر رکھنا جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے ذمہ داری لی تھی کہ اگر میں تمہیں تمہارے سوالوں کے درست جوابات دے دوں تو پھر اسلام کے مطابق میری پیروی کرنا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، یہ تمہارا حق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جو مرضی سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہمیں چار باتوں کے بارے میںبتاؤ،یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر کونسا کھانا حرام کیا تھا، آدمیکا آب جوہر عورت کے آب جوہر پر غالب آ جائے تو مذکرکیسے بنتا ہے اور یہ اُمّی نبی نیند میں کیسے ہوتا ہے اورفرشتوں میں سے اس کا دوست کون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق دیتا ہوںہے کہ اگر میں نے تمہیں جواب دیدیے تو تم میری اتباع کرو گے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر پختہ عہد دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ یعقوب علیہ السلام سخت بیمار پڑ گئے تھے اوران کی بیماری لمبی ہو گئی تھی، بالآخر انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیاد ہ پسندیدہ کھانا حرام قرار دیں گے، اورانہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹوں کا گوشت اور سب سے زیادہ پسندیدہ مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیںاور جس نے موسیٰ علیہ السلام پرتورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو آدمی کا آب جوہر سفید اور گاڑھا ہوتاہے اور عورت کا پانی زرد اور باریک ہوتا ہے، ان میں سے جو بھی غالب آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے مشابہت ہو جاتی ہے، اگر آدمی کا آب جوہر عورت کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مذکر بن جاتا ہے اوراگر عورت کا آب جوہر آدمی کے مادۂ منویہ پرغالب آ جائے تو مؤنث پیدا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے یہی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو اس اُمّی نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ یہی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! گواہ رہنا۔ انہوں نے کہا: آپ بھی اب اسی طرح ہیں، ہمیں بتائو فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون ہے؟ یہ بتانے کے بعد یا تو ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دوست جبریل علیہ السلام ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے، یہی جبریل علیہ السلام اس کے دوست رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: تب تو ہم آپ سے علیحدہ ہوتے ہیں، اگر اس کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی ا تباع کرتے اور تصدیق کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جبریل کی تصدیق میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ … … کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَنَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ … اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا کہ وہ نہیں جانتے۔ پس اس وقت یہ لوگ دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴، مسند طیالسی: ۲۷۳۱)
فوائد: … یہ پوری آیاتیوں ہیں: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ۔ اَوَکُلَّمَا عٰھَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَمَّا جَاء َھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ کَاَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہو تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔اور بلاشبہ یقینا ہم نے تیری طرف واضح آیات نازل کی ہیں اور ان سے کفر نہیں کرتے مگر جو فاسق ہیں۔ اور کیا جب کبھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اسے ان میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷۔۱۰۱)
یہیہودیوں کی ہٹ دھرمی تھی، ان کے پاس پہلے والے چار سوالات کے جوابات کے انکار کی کوئی صورت نہیں تھی، سو انھوں نے جبریل علیہ السلام کے بارے میںیہ بات گھڑ لی۔
{بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} … دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد نے کہا: پہلا غضب تورات کو ضائع کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے۔ جبکہ قتادہ نے کہا: پہلا غضب عیسی علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا۔
مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ہی دشمن تھا، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں میں اضافہ ہو گیا، مدینہ میں منافقوں اور یہودیوں کی صورت میں اندرونی دشمن اور مکہ کے مشرکوں اور دوسرے قبائل اور مملکتوں کیصورت میں بیرونی دشمن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال کے مختصر عرصے میں بڑی خوبصورت منصوبہ بندی کے ساتھ ہر قریبی دشمن سے نجات حاصل کر لی اور دور والے دشمنوں سے نبٹنے کے لیے اپنے صحابہ کو منہج دے کر خود وفات پا گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10677
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3117 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
حدیث نمبر: 10678
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَهِيَ مِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ فَمَسَخَهُمْ فَكَانَ لَهُمْ نَسْلٌ حَتَّى يُهْلِكَهُمْ وَلَكِنْ هَذَا خَلْقٌ كَانَ فَلَمَّا غَضِبَ اللَّهُ عَلَى الْيَهُودِ مَسَخَهُمْ فَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بندروں اور خنزیروں کے متعلق دریافت کیا کہ کیایہ یہودیوں کی مسخ شدہ نسل سے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا کبھی نہیں ہو اکہ کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پرلعنت کرتے ہوئے انہیں مسخ کر دے اور انہیں ہلاک کر دے اور پھر ان کی نسل چلے، در حقیقت یہ مخلوق ان کے مسخ کئے جانے سے پہلے کی ہے، اللہ تعالیٰ جب یہود پر غضب ناک ہوا تو اس نے ان کو ان مخلوقات کی مانند بنا دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مُسِخَتْ اُمَّۃٌ قَطُّ، فَیَکُوْنُ لَھَا نَسْلٌ۔)) … جس امت کو بھی (کسی دوسری شکل میں) مسخ کیا گیا، اس کی نسل نہیں ہوئی۔
(معجم اوسط طبرانی:۴۲۹، صحیحۃ:۲۲۶۴)
معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنی امتوں کو مسخ کیا گیا اب ان کا کوئی نشان باقی نہیں ہے، بندر اور خنزیر وغیرہ مستقل جنسیں ہیں،یہ کسی انسان کی مسخ شدہ شکلیں نہیں ہیں، بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میںمسخ ہونے والے بنو اسرائیل ہلاک ہو گئے، اس حالت میں ان کی نسل آگے نہ چل سکی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10678
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 307، وابويعلي: 5314 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3747»
حدیث نمبر: 10679
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لَنَا جَارٌ مِنْ يَهُودَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا مِنْ بَيْتِهِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ فَوَقَفَ عَلَى مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ سَلَمَةُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِيهِ سِنًّا عَلَيَّ بُرْدَةٌ مُضْطَجِعًا فِيهَا بِفِنَاءِ أَهْلِي فَذَكَرَ الْبَعْثَ وَالْقِيَامَةَ وَالْحِسَابَ وَالْمِيزَانَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَقَالَ ذَلِكَ لِقَوْمٍ أَهْلِ شِرْكٍ أَصْحَابِ أَوْثَانٍ لَا يَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا كَائِنٌ بَعْدَ الْمَوْتِ فَقَالُوا لَهُ وَيْحَكَ يَا فُلَانُ تَرَى هَذَا كَائِنًا إِنَّ النَّاسَ يُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَى دَارٍ فِيهَا جَنَّةٌ وَنَارٌ يُجْزَوْنَ فِيهَا بِأَعْمَالِهِمْ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَوَدَّ أَنَّ لَهُ بِحَظِّهِ مِنْ تِلْكَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِي الدُّنْيَا يُحَمُّونَهُ ثُمَّ يُدْخِلُونَهُ إِيَّاهُ فَيُطْبَقُ بِهِ عَلَيْهِ وَأَنْ يَنْجُوَ مِنْ تِلْكَ النَّارِ غَدًا قَالُوا لَهُ وَيْحَكَ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ قَالَ نَبِيٌّ يُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ هَذِهِ الْبِلَادِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ مَكَّةَ وَالْيَمَنِ قَالُوا وَمَتَى تَرَاهُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا فَقَالَ إِنْ يَسْتَنْفِدْ هَذَا الْغُلَامُ عُمُرَهُ يُدْرِكْهُ قَالَ سَلَمَةُ فَوَاللَّهِ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَآمَنَّا بِهِ وَكَفَرَ بِهِ بَغْيًا وَحَسَدًا فَقُلْنَا وَيْلَكَ يَا فُلَانُ أَلَسْتَ بِالَّذِي قُلْتَ لَنَا فِيهِ مَا قُلْتَ قَالَ بَلَى وَلَيْسَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قبیلہ بنو عبدالاشہل کے سیدنا محمود بن لبید سلمہ بن سلامہ بن وقش سے روایت ہے، یہ اصحاب بدر میں سے تھے، کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عبدالا شھل کا ایک یہودی ہمارا ہمسایہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے کچھ دن پہلے ایک دن وہ اپنے گھر سے نکل کر قبیلہ عبدالاشھل کی ایک محفل میں آکھڑا ہوا، سلمہ کہتے ہیں کہ میں اس روز وہاں پر موجود سب سے کم سن تھا۔ میں ایک چادر اوڑھے اپنے گھر کے سامنے لیٹا ہوا تھا۔ اس یہودی نے مرنے کے بعد جی اُٹھنے قیامت، حساب وکتاب، میزان اور جنت وجہنم کا ذکر کیا۔ اس نے یہ باتیں ایسے لوگوں کے سامنے کی تھیں، جو مشرک اور بت پرست تھے، وہ مرنے کے بعد جی اُٹھنے پر ایمان واعتقاد نہ رکھتے تھے، انہوں نے اس سے کہا: ارے یہ کیا؟ تو بھی کہتا ہے کہ یہ کچھ ہو گا اور لوگ مرنے کے بعد ایک ایسے جہان میں اُٹھائے جائیں گے، جہاں جنت اور جہنم ہو گی اور لوگوں کو ان کے اعمال کی جزادی جائے گی؟ اس نے کہا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کی قسم اُٹھائی جاتی ہے! میں تو یہ بھی پسند کرتا ہوں کہ دنیا میں آگ کا ایک بہت بڑا تنور ہو اور لوگ اس میں داخل ہو جائیں اور پھر اسے اوپر سے بند کر دیا جائے اور میں کل کو جہنم کی آگ سے بچ جاؤں۔ لوگوں نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس، اس کی علامت کیا ہے؟ تو اس نے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں سے ایک نبی مبعوث ہو گا لوگوں نے اس سے پوچھا ہم اس کو کب دیکھ سکیں گے؟ اس نے میری طرف دیکھا، میں ان میں سب سے کم سن تھا اور اس نے کہا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اپنی عمر تمام ہونے سے پہلے پہلے اسے دیکھلے گا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! کچھ دن رات ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیج دیا اور وہ ہمارے درمیان زندہ موجود تھے۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے اور اس نے بغض وحسد کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کفر کیا، ہم نے اس سے کہا: اے فلاں! تجھ پر افسوس! کیا تو ہی وہ شخص نہیں، جس نے ہم سے اس نبی کے متعلق باتیں کی تھیں اور بتلایا تھا؟ اس نے کہا! ہاں، کیوں نہیں، لیکنیہ وہ نبی نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہودیت اور عیسائیت کے مذہبی ادب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاقے اور صحابۂ کرام کے تعین کے بارے میں واضح علامتیں موجود تھیں، لیکن کوئی چیز ہٹ دھرمی، سرکشی اور بغاوت کا حل نہیں کر سکتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10679
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 6327، والحاكم: 3/ 417 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15935»
حدیث نمبر: 10680
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَ فَقَالَ ارْفَعْ أَوِ اكْشِفْ ثَوْبَهُ عَنْ ظَهْرِهِ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ أَرْفَعُهُ قَالَ فَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مسور بن مخرمہ زہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، ایک یہودی میرے پاس سے گزرا اور اس نے کہا ان کی پشت پر سے کپڑا اوپر اُٹھاؤ، تو میں آپ کا کپڑا اوپر کو اٹھانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از راہ مذاق یا اس کو اس کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے اس کے منہ پر چھینٹے مارے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10680
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال ام بكر بنت المسور، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 20/ 32 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19115»
حدیث نمبر: 10681
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ أَنَّهُ نَبِيٌّ أَوْ غَيْرُ نَبِيٍّ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ اقْرَأْ عَلَيَّ أَوْ قُصَّ عَلَيَّ فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ هَذَا الْحَدِيثُ مُنْكَرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عجمی قوم جرامقہ کا ایک فرد صحابہ کرام کے پاس آیا اور اس نے کہا: تمہارے وہ صاحب کہاں ہیں جو نبی ہونے کے دعوے دار ہیں؟ میں ان سے کچھ دریافت کر نا چاہتا ہوں ، تاکہ جان لوں کہ وہ نبی ہیںیا نہیں ؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس جرمقانی نے کہا: آپ میرے سامنے کچھ تلاوت کریں یا بیان کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سامنے کتاب اللہ کی چند آیات کی تلاوت کی، جرمقانی نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام بھی ایسی ہی تعلیم لے کر آئے تھے۔ عبداللہ بن احمد نے کہا کہ یہ حدیث منکر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10681
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ايوب بن جابر اليمامي، وعبدُ الرحمن المعلم لين الحديث، ولم يعرفه الحافظان: الحسيني وابن حجر، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 2054 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21176»
حدیث نمبر: 10682
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ قَالَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُونَهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَاكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے، اس پر کاٹھی اور اس کے نیچے فد کی کپڑا یعنی فدک مقام کا تیار شدہ کپڑا رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو گدھے پر اپنے پیچھے سوار کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ غزوۂ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے چلتے ایک ایسی محفل کے پاس سے گذرے جس میں مسلمان، مشرکین، بتوں کے پجاری اور یہودی ملے جلے بیٹھے تھے۔ ان میں عبداللہ ابن ابی اور عبداللہ بن رواحہ بھی تھے، گدھے کے چلنے کی وجہ سے اڑنے والا غبار محفل پر پہنچا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر سے اپنی ناک کو ڈھانپ لیا اور بولا ہم پر غبار نہ اڑاؤ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کہا اور رک کر نیچے اتر آئے اور ان لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، عبداللہ بن ابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ کی بات سے بہتر کوئی بات نہیں، اگر آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری محافل میں آکر ہمیں تنگ نہ کیا کریں، آپ اپنے گھر جائیں ہم میں سے جو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے سامنے یہ چیزیں بیان کیا کریں۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری محافل میں تشریف لایا کریں، ہم پسند کرتے ہیں۔ یا سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ابی سے مخاطب ہو کر کہا:تم اپنی محافل میں آنے سے ہمیں روک رہے ہو، تاہم ہم تمہیں اپنی محافل میں آنے کی دعوت دیتے ہیں، تم ہماری محافل میں آیا کر و ہم اسے پسند کرتے ہیں، ان باتوں سے مسلمانوں، مشرکین اور یہود میں تو تُکار شروع ہو گئی،یہاں تک کہ نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں خاموش کراتے رہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر تشریف لے گئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جا کر نزول فرما ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم نے ابو حباب یعنی عبداللہ بن ابی کی بات سنی ہے؟ اس نے یوںیوں کہا ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے جانے دیں اور درگزر کریں، اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو عزت دینی تھی، وہ دے رکھی ہے اس بستییعنی مدینہ منورہ کے لوگ اس کی تاج پوشی اور دستار بندی کر کے اسے سردار بنانے والے تھے، جب اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کئے ہوئے حق کے ذریعے اسے ناکام ونامراد کیا تو وہ آپ سے حسد کرنے لگا ہے۔ اس نے آپ کے ساتھ جو کچھ کیایہ اسی کا نتیجہ ہے،سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … عبد اللہ بن ابی منافق تھا، لیکن اس نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے ابتدائی دور میں ان منافقوں کو برداشت کیا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال حکمت کا نتیجہ تھا، جوں جوں اہل اسلام بڑھتے گئے، ایک ایک کر کے دشمنوں کو ختم کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10682
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6254، ومسلم: 1798 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22110»