کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اذان کی مشروعیت اور حضر کی نماز میں دو رکعت کے اضافے کا بیان
حدیث نمبر: 10674
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ لَا أَشْتَهِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جِئْتُهُ فَدَعَوْتُهُ لِجِلْوَتِهَا فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهَا فَأُتِيَ بِعُسِّ لَبَنٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَانْتَهَرْتُهَا وَقُلْتُ لَهَا خُذِي مِنْ يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطِي تِرْبَكِ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ خُذْهُ فَاشْرَبْ مِنْهُ ثُمَّ نَاوِلْنِيهِ مِنْ يَدِكَ فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ قَالَتْ فَجَلَسْتُ ثُمَّ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتَيَّ ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِيرُهُ وَأَتْبَعُهُ بِشَفَتَيَّ لِأُصِيبَ مِنْهُ مَشْرَبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَةٍ عِنْدِي نَاوِلِيهِنَّ فَقُلْنَ لَا نَشْتَهِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا فَهَلْ أَنْتِ مُنْتَهِيَةٌ أَنْ تَقُولِي لَا أَشْتَهِيهِ فَقُلْتُ أَيْ أُمَّهْ لَا أَعُودُ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ وہ ایک دن قبیلہ بنو عبد الاشھل کی ایک خاتون سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے اس کے سامنے کھانا پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے کھانے کی طلب نہیں،انہوں نے کہا: میں نے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ان کی شادی کی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ کرتے وقت تیار کیا تھا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملوانے کے لئے بلایا، آپ آکر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے نوش فرمایا اور پھر آپ نے باقی ماندہ سیّدہ عائشہc کو دیا، انہوں نے سر جھکا لیا اور شرما گئیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جھڑک دیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے پیالہ پکڑ لو، چنانچہ انہوں نے پیالہ لے کر اس سے کچھ پی لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’اپنی سہیلی کو دے دو۔‘‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ لیں اور نوش فرمائیں، اس کے بعد مجھے عنایت فرمائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ لے کر اس میں سے کچھ نوش کیا اور پھر وہ مجھے تھما دیا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے بیٹھ کر اسے اپنے گھٹنے پر رکھا اور اسے گھمانے لگی اور اپنے ہونٹ اس پر پھیرنے لگی تاکہ میرے ہونٹ اس مبارک مقام پر لگ جائیں، جہاں منہ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں میرے پاس موجود خواتین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں بھی دو، تو انہوں نے کہا ہمیں حاجت نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم جھوٹ اور بھوک کو جمع نہ کرو، پس کیا تو اس بات سے باز نہیں آئے گی کہ مجھے حاجت نہیں ہے؟‘‘ میں نے کہا: اماں جان! میں آئندہ ایسے نہ کہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر ہو چکی تھی اور اب مسلمان پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے کے لیے حاضر ہو رہے تھے، اس کے لیے وہ وقت کا اندازہ تو لگاتے تھے، لیکن پھر بھی کوئی پہلے پہنچ جاتا اور کوئی دیر سے، مذکورہ بالا حدیث کے مطابق مشورہ کیا گیا تو طے پایا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لیے اکٹھا کرنے کے لیے ان الفاظ کے ساتھ آواز دیں گے: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ۔
حدیث نمبر: 10675
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
امام نافع سے مروی ہے کہ سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت انتظار کیا کرتے تھے، اس وقت کوئی بھی اذان دینے والا نہیں ہوتا تھا، ایک دن صحابہ نے اس بارے میں گفتگو شروع کی، بعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس جیسا ناقوس بنا لو۔ بعض نے کہا کہ ناقوس تو نہیں ہونا چاہیے، البتہ یہودیوں کی طرح کا ایک سینگ مقرر کر لو۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس طرح کیوں نہیں کرتے کہ کسی کو بھیج دیا کرو جو نماز کا اعلان کر دیا کرے؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! اُٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔
حدیث نمبر: 10676
عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا قَالَ وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ میں نماز کی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر دو رکعت کے ساتھ مزید دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا تھا، ما سوائے مغرب کے، کیونکہ وہ دن کی طاق نماز ہے اور ما سوائے نمازِ فجر کے، کیونکہ ان میں قراء ت طویل ہوتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہوتے تو پہلے کی طرح نماز ادا فرماتے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات ثابت ہے کہ جب نماز فرض ہوئی تو فجر، ظہر، عصر اور عشا کی نمازوں کی فرض رکعات کی تعداد دو دو تھی اور نماز مغرب کی تین رکعات تھیں، پھر رکعتوں کی اس تعداد کو سفرکے ساتھ خاص کیا گیا اور حضر کے لیے ظہر، عصر اور عشا کی چار چار رکعات فرض کر دیگئیں، فجر اور مغرب کی تعداد وہی رہی، البتہ حضر میں نمازِ فجر میں طویل قراء ت مطلوب اور مستحب ہے۔