کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
حدیث نمبر: 10668
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا فِي الْجُحْفَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہ شدید قسم کی وبائی زمین تھی، پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: یا اللہ ! ہمارے لئے مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور اس کی فضا کو صحت والا کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے جُحفہ کے علاقے میں منتقل کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10668
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6372، ومسلم: 376 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24792»
حدیث نمبر: 10669
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تَجِدُكَ فَقَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ يَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَفِي مُدِّهَا وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر صدیق، ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا بلال سمیت کچھ صحابۂ کرام بیمار پڑ گئے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی عیادت کے لیے جانے کی خاطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ جب انھوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کیسے ہیں؟ تو انہوں نے یہ شعر پڑھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا: ہر شخص کو اس کے اہلِ خانہ میں صبح بخیر کہا جاتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے قریب ہے۔ پھر جب انھوں نے سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں موت کے آنے سے پہلے ہی موت سے دو چار ہو گیا ہوں، موت ہر وقت بزدل آدمی کے سر پرکھڑی ہوتی ہے۔ جب سیدہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی فج (جو کہ مکہ کی ایک وادی ہے) میں گزار سکوں گا، جہاں میرے گرد اذخر گھاس اور جلیل نامی گھاس ہو۔ جب عیادت کے بعد سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان حضرات کی باتوں کے متعلق بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ ! ہمارے لیے مدینہ منورہ کے صاع اور مد میں برکت فرما اور اس کی وباء کو مہیعہیعنی حجفہ کی طرف منتقل کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10669
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:1889، ومسلم: 376 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24864»
حدیث نمبر: 10670
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ ذُكِرَ أَنَّ الْحُمَّى صَرَعَتْهُمْ فَمَرِضَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ قَالَتْ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ الْعَنْ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَقُوا قَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ صَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ قَالَ فَكَانَ الْمَوْلُودُ يُولَدُ بِالْجُحْفَةِ فَمَا يَبْلُغُ الْحُلُمَ حَتَّى تَصْرَعَهُ الْحُمَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ وبا والا علاقہ اور لوگ بخار میں مبتلا تھے، سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ انہیں جب شدت کا بخار ہوتا تو وہ یوں کہنے لگتے: ہر شخص اپنے اہلِ خانہ میں صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو شدید بخار ہوتا تو وہ یوں کہتے: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا، جہاں میرے اردگرد اذخر اور جلیل نامی گھاس ہو، اور میں کبھی مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور کیا شامہ اور جلیل نامی پہاڑ میرے لیے ظاہر ہوں گے، اے اللہ !عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت فرما کہ انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکال دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان صحابہ کییہ پریشانی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ ! ہمارے لئے مدینہ منورہ کو مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی بڑھ کر محبوب بنا دے۔ اور اس کی فضا کو صحت والا بنا دے، اور ہمارے لئے یہاں کے صاع اور مد میں برکت فرما اور یہاں کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر دے عروہ کہتے ہیں آپ کی اس دعا کا نتیجہیہ ہوا کہ جحفہ کے علاقے میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا وہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچتا تھا حتی کہ اسے بخار چت گرا دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ کے علاقے میں پایا جانے والا بخار مشہور تھا، یہاں تک کہ عمرۂ قضا میں طواف کے دوران مکہ کے مشرکوں نے صحابہ کے بارے میں کہا تھا کہ یثرت (مدینہ) کے بخار نے ان کو کمزور کر دیا ہے، اس لیے پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایک طرف صحابۂ کرام کے ذہنوں میں اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ کو چھوڑنے کا طبعی غم موجود تھا، دوسری طرف وہ جس شہر میں آئے تھے، اس میں پائے جانے والے بخار کی لپیٹ میں آ گئے، اسی بنا پر سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما نے یہ اشعار کہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے مسلمان امراض سے راحت پا گئے اور انہیں مدینہ محبوب ہو گیا۔
اس وقت جحفہ دار الشرک تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے بخار کے جحفہ میں منتقل ہو جانے کی دعا کی، تاکہ وہ لوگ اس بخار میں مبتلا رہیں اور کافروں اور سرکشوں کی مدد نہ کر سکیں، اس دعا کے بعد سب سے زیادہ بخار اسی علاقے میں پایا جاتا تھا، بلکہ اگر کوئی آدمی جحفہ مقام سے پانی پیتا تو اسے بخار چڑھ جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10670
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1889 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26770»