کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10655
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ وَلِي امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ فَانْطَلَقَ فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَهُ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَهْيَمْ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا أَصْدَقْتَهَا قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے مابین مواخات اور بھائی چارہ قائم کر دیا،سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا سارا مال نصف نصف کرتا ہوں، میری دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، اس کی عدت پوری ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں، سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل وعیال اور مال میں برکت فرمائے، لیکن مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، مجھے بازاراور منڈی کا راستہ بتلا دو۔ لوگوں نے ان کو منڈی کا راستہ بتلادیا، وہ اس میں چلے گئے اور جب واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور کچھ گھی تھا، جو وہ بطورِ منافع کما کر لائے تھے، اس کے بعد ایک موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ لگاہواتھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا؟ جواب دیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم نے اسے مہر کے طور پر کیا ادا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نواۃ کے برابر سونا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ وہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … مشہور قول اور اکثر اہل علم کی رائے کے مطابق نواۃ سے مراد سونے کا وہ سکہ ہے، جس کی قیمت پانچ درہم چاندی تھی، اس رائے کی تائید سنن بیہقی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قُوِّمَتْ خَمْسَۃَ دَرَاھِمَ۔ … نواۃ کے وزن کے برابر سونے کے عوض، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10655
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2049، 2293، ومسلم: 1427 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13006»
حدیث نمبر: 10656
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَحَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي الَّتِي بِالْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات اور بھائی چارہ میرے اس گھر میں کرایا تھا، جو مدینہ منورہ میں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10656
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7340، ومسلم: 2529 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12499»
حدیث نمبر: 10657
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ بَلَى بَلَى قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: کیا تم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں کوئی مؤاخات نہیں ہے۔ ؟یہ سن کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے، کیوں نہیں، کیوں نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے مابین میرے گھر میں مواخات کرائی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10657
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14031»
حدیث نمبر: 10657M
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ بَلَى بَلَى قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: کیا تم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں کوئی مؤاخات نہیں ہے۔ ؟یہ سن کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے، کیوں نہیں، کیوں نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے مابین میرے گھر میں مواخات کرائی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10657M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2529 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14031»
حدیث نمبر: 10658
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) عاصم احول سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر میں کرائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ انصار کا کرم اور ان کی خوبی تھی کہ وہ مہاجرین کو اپنے گھر ٹھہرانے اور ان کی میزبانی کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حقیقی نمونہ تھے کہ {وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖفَاُولٰیِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} … اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ سورۂ حشر: ۹)
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس محبت و ایثار کو انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ کرا کے مزید پختہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر انصاری اور اس کے نزیل (مہاجر مہمان) کو بھائی قرار دیا،یہ کل نوے آدمی تھے، آدھے مہاجرین سے اور آدھے انصار سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان غمگساری پر اور اس بات پر بھائی چارہ کرایا کہ قرابت داروں کے بجائے وہی موت کے بعد ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، بعد میں وراثت تو منسوخ کر دی گئی، لیکن بھائی چارگی باقی رہی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10658
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14032»
حدیث نمبر: 10659
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں آپس کا عہدوپیمان نہیں ہے، البتہ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں جو عہد وپیمان ہو چکا ہے، اسلام اسے مزید مضبوط اور پختہ کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عہد و پیمان کی دو قسمیں ہیں: (۱) عہدوپیمان کی وہ صورتیں جن سے اسلامی تعلیمات کی مخالفت ہوتی ہو، مثلا دو افراد کا آپس میں یہ معاہدہ کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، اس سے اللہ تعالیٰ کے میراث سے متعلقہ قوانین متاثر ہوں گے، اسی طرح خواتین کا آپس میں معاہدہ کرنا کہ وہ ایک دوسری کے اموات پر مل کر نوحہ کریں گی، وغیرہ وغیرہ۔ عہد و پیمان کییہ قسم ہر صورت میں ممنوع ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑھے گا کہ اسلام سے پہلے اس کا تعین کیا گیایا بعد میں۔
(۲) عہد وپیمان کی وہ قسم جس سے حق کی تائید ہوتی ہو، جیسے صلہ رحمی کو برقرار رکھنے، حق کی تائید کرنا اور مظلوم وغیرہ کی مدد کرنا، ایسے معاہدے شریعت کی نظر میں قابل تعریف ہیں اور اسلام ان میں مزید تاکید پیدا کرتا ہے۔
ان احادیث میں ان ہی دو قسمیں کو ذکر کیا گیا ہے، اول الذکر سے روکا گیا ہے اور ثانی الذکر کی رغبت دلائی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10659
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2530 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16883»
حدیث نمبر: 10660
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَلْفِ فَقَالَ مَا كَانَ مِنْ حَلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَمَسَّكُوا بِهِ وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قیس بن عاصم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عہدوپیمان کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عہد و پیمان دورِ جاہلیت میں کر چکے ہو، انہیں پورا کرو، البتہ اسلام میں از سرِ نو ایسے عہدو پیمان نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10660
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 18/ 864، والحميدي: 1206، والبزار: 1915 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20889»
حدیث نمبر: 10661
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهِدْتُ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصِبِ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَهُ شِدَّةً وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ابھی لڑکا ہی تھا کہ اپنے چچاؤں کے ساتھ مطیبین کے معاہدہ میں شامل ہوا تھا، اب بھی مجھے بیشِ قیمت سرخ اونٹ بھی مل جائیں تو تب بھی میں اس معاہدہ کو توڑنا پسند نہیں کروں گا۔ امام زہری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام نے لوگوں کے کئے ہوئے جس معاہدہ کو پایا، اس نے اسے مزید پختہ کیا اور اب اسلام میں اس قسم کے عہدوپیمان اور معاہدوں کی گنجائش نہیں ہے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات قائم کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … جنگ فجار کے بعد ہی ذیقعدہ کے مہینے میں پانچ قبائل کے درمیان ایک عہد نامہ طے پایا، جسے حلف الفضول کہتے ہیں، ان قبائل کے نام یہ ہیں: بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو اسد، بنوزہرہ اور بنو تیم۔
اس کی وجہ یہ ہوئی کہ زبید (یمن) کا ایک آدمی سامان تجارت لے کر مکہ آیا، عاص بن وائل نے اس سے سامان خرید لیا، لیکن قیمت ادا نہ کی، اس نے بنو عبد الدار، بنو مخزوم، بنو جمح، بنو سہم اور بنو عدی سے فریاد کی، لیکن انھوں نے کوئی توجہ نہ دی، چنانچہ اس نے جبل ابو قبیس پر چڑھ کر چند اشعار میں اپنی مظلومیت کا نقشہ بیان کیا اور آواز لگائی کہ کوئی اس کا حق دلانے کے لیے اس کی مدد کرے۔ اس پر زبیر بن عبد المطلب نے دوڑ دھوپ کی، چنانچہ مذکورہ قبائل کے افراد بنو تیم کے سردار عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں اکٹھے ہوئے اور آپس میں عہد و پیمان کیا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے، خواہ مکہ کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا، یہ سب اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور عاص بن وائل سے زبیدہ کا حق لے کر اس کے حوالے کیا۔
اس عہد و پیمان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچاؤں کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر بیس برس تھی اور شرف رسالت سے مشرف ہونے کے بعد اس کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔
ان افراد نے اس معاہدے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے خوشبو کا ایک ٹب بھرا، اس کو کعبہ کے پاس مسجد حرام میں رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ ڈبوئے اور پھر یہ خوشبوزدہ ہاتھ کعبہ کو لگائے، اسی بنا پر اس معاہدے میں شریک افراد کو مُطَیَّبِین (خوشبودار بنائے گئے افراد) کہا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے معاہدوں کی تعریف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ کسی دنیوی لالچ میں پڑ کر ایسے معاہدوں کو نہیں توڑنا چاہیے، بلکہ ان کو اسلام میں بھی برقرار رکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10661
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا مرسل، لكن ورد معناه في احاديث موصولة صحيحة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1655»
حدیث نمبر: 10662
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت میں جو معاہدے اور عہدوپیمان ہوئے، اسلام نے ان کو مزید پختہ اور مضبوط کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10662
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه بنحوه الدارمي: 2526، وابويعلي: 2336 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2909»
حدیث نمبر: 10663
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتِ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ قَدْ كَفَوْنَا الْمَؤُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ فَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلَّا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ بِهِ وَدَعَوْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا: ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان سے زیادہ خرچ کرنے والا اور قلت کے باوجود ان سے بڑھ کر ہمدردی کرنے والا کسی کو نہیں پایا، انہوں نے ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا اور ہمیں اپنی ہر خوشی میں شریک رکھا، ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا ثواب یہ لوگ ہی لے جائیں گے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی بات نہیں ہے، جب تک تم ان کے حسنِ سلوک پر ان کی جو تعریف کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرتے ہو، (اللہ تمہیں بھی اس کا اجروثواب دے گا)۔
وضاحت:
فوائد: … اگر احسان کرنے والے کو اسی کی طرح کا بدلہ دینا ناممکن ہے تو پھر اس انداز میں ان کی تعریف کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ ریاکاری کے اسباب پیدا نہ ہوں اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10663
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ابي شيبة: 9/ 18 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13153»
حدیث نمبر: 10664
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین یہ معاہدہ تحریر کیا تھا کہ یہ سب مل کر ایک دوسرے کے خون بہا ادا کریں گے،ایک دوسرے کے قیدیوں کو معروف طریقہ سے رہا کرائیں گے اور مسلمانوں کے مابین اصلاحِ احوال کریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10664
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لتدليس الحجاج ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2443»