کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کابیان
حدیث نمبر: 10654
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا فَقَالُوا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ قَالَ وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ فِيهِ حَرْثٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَلِكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہجرت کر کے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں بنو عمرو بن عوف کے قبیلہ میں چودہ راتیں قیام فرمایا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ماموں قبیلہ بنو نجار کے معززین کے ہاں پیغام بھجوایا، وہ ہتھیار سجا کر آگئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:وہ منظر گویا اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے ہیں اور بنو نجار کے معززین کی جماعت آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے اپنا سامان رکھا، اس وقت تک چونکہ مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی اس لئے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں نماز ادا فرما لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعمیر مسجد کا حکم دیا اور بنو نجار کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلب فرمایا، وہ آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو نجار! تم میرے ساتھ اپنے اس قطعہ ارضی کی قیمت طے کرو۔ لیکن انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہم اس کا معاوضہ صرف اللہ سے لیں گے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قطعہ میں مشرکین کی قبریں تھیں اور کچھ کھیتیاں(اور کھنڈرات) اور کھجوروں کے کچھ درخت تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق حکم دیا کہ ان کو اکھیڑدیا جائے، پس ان کو اکھاڑ دیا گیا اور کھیتوں ( یا کھنڈرات) کے متعلق حکم دیا اور ان کو مسمار کر کے برابر کر دیا گیا اور کھجوروں کے درختوں کو کاٹ دینے کا حکم دیا اور انہیں کاٹ دیا گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھجوروں کے تنوں کو مسجد کے قبلہ کے رُخ ایک قطار میں کھڑا کر کے دیوار بنا دی گئی، اور دونوں پہلوؤں کی دیواروں کی جگہ پتھر چُن دئیے گئے، صحابہ کرام ان پتھروں کو اُٹھا اُٹھا کر لاتے اور یہ شعر پڑھتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ساتھ یہ کلمات فرما رہے تھے: اَللَّہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُ الْآخِرَہ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ (یااللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرمایا۔)
وضاحت:
فوائد: … جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو چکے تو دعوت الی اللہ کے ساتھ ساتھ وہاں کے دینی اور دنیوی امور کو بھی منظم کرنا شروع کیا۔
اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا قدم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی تعمیر شروع کی اور اس کے لیے وہ زمین خریدی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی،یہ تقریبا (۱۰۰) ہاتھ لمبی اور (۶۰) ہاتھ چوڑی جگہ تھی۔ معلوم ہوا کہ مسلم حکومت وحکمرانی کا آغاز مسجد سے ہوتا ہے، کاش عصر حاضر کا سیاسی اور مذہبی طبقہ بھی اس راز کا شعور رکھتا ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10654
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2774، 3932، ومسلم: 524 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13240»