کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تاریخ کی ابتداء اور اس بارے میں امیر المؤمنین سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صحابہ کرام سے مشاورت کا بیان
حدیث نمبر: 10651
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ قَالَ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10651
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3851 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2110»
حدیث نمبر: 10652
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ فَمَكَثَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَقُبِضَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی حدیث میں چالیس سال کی عمر میں نزولِ وحی کا ذکر ہے اور دوسری میں تینتالیس برس کا؟ جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ دوسری حدیث میں فترہ وحی کا زمانہ شمار نہیں کیا گیا، وگرنہ وحی کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چالیس برس کی عمر میں ہی ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟ دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۰۶۵) کے فوائد۔ خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (۱۷یا۱۸) سن ہجری میں امت مسلمہ کے لیے امتیازی تاریخ کا سلسلہ شروع کیا اور اس کی ابتدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کے واقعہ سے کی۔
مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ اپنے کیلنڈروں میں ہفتہ کے دنوں، مہینے کی تاریخوں اور سن کا ذکر کرنے میں اسلامی روایات کا خیال رکھتے، ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کے دن کو پہلے ذکر کرتے، کیونکہیہ پہلا دن ہے، اسلامی مہینوں (محرم، صفر، ربیع الاول …)کے پابند ٹھہرتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان ہی مہینوں کو مرتب کیا ہے اور سن میںہجری سن کی پیروی کرتے، جس میں نبی کریم کے عروج کی طرف بھی اشارہ ہے اور عظیم خلیفہ کے عظیم کارنامے کی طرف بھی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ ان کی انتہائی دور رسی، دور اندیشی اور قانون دانی پر دلالت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الأولى للهجرة / حدیث: 10652
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2017»