حدیث نمبر: 10452
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا آكُلُ مَا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَحَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، زید بن عمرو بن نفیل کو بلدح کے زیریں مقام پر ملے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی سے پہلے کی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک تھیلا پیش کیا، اس میں گوشت تھا، لیکن اس نے اس سے کھانے سے انکارکر دیا اور کہا: بیشک میں وہ چیز نہیں کھاتا جوتم اپنے تھانوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہ چیز کھاتا ہوں، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماماما نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا۔
وضاحت:
فوائد: … زید بن عمرو بن نفیل، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے چچا زاد تھے، انھوں نے نے بتوں کی عبادت کو ترک کر دیا تھا اور مشرکوں کے دین سے الگ تھلگ ہو گئے تھے اور صرف اس جانور کا گوشت کھاتے تھے، جو اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا جاتا تھا۔
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں زید بن عمرو کو ملی، وہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے: اے قریشیو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں زید کی جان ہے! تم میں سے کوئی آدمی دین ِ ابراہیمی کا پیروکار نہیںہے، ما سوائے میرے، پھر وہ کہتے: اے اللہ! اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کون سا چہرہ تجھے سب سے پسند ہے تو میں اس کے ذریعے تیری عبادت کرتا۔ … یہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور کہتے: ابراہیم علیہ السلام کا معبود میرا معبود ہے اور ابراہیم علیہ السلام کا دین میرا دین ہے، یہ بچیوں کو زندہ درگور نہیں کرتے تھے، بلکہ جب کوئی آدمی اپنی بچی کو قتل کرنا چاہتا تو یہ اس کو کہتے: اس کو قتل نہ کر، بلکہ مجھے دے دے، میں اس کی کفالت کروں گا، پھر جب یہ بالغ ہو جائے گی تو مجھ سے لے لینایا میرے پاس چھوڑ دینا، جیسے تیری مرضی ہو گی۔
ایک بار یہ اہل کتاب میں دینِ ابراہیمی تلاش کرنے کے لیے شام کی طرف نکلے، مختلف لوگوں سے سوال کرنے کے لیے موصل اور جزیرہ کا گشت کیا، پھر شام کی طرف واپس پلٹے اور بلقاء کی سرزمین میں ایک گرجا گھر میں ایک پادری کے پاس آئے، لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پادری نصرانیت کا مکمل علم رکھتا تھا، انھوں نے اُس سے ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: تو ایسے دین کے بارے میں سوال کر رہا ہے کہ آج کوئی بھی اس پر پابند نہیں ہے، اس دین کا علم مٹ چکا ہے اور اس کی معرفت رکھنے والے فوت ہو چکے ہیں، ہاں اب ایک نبی کے ظہور کا وقت ہو چکا ہے، زیدبن عمرو یہودیت اور نصرانت کی طلب میںنکلے تھے، لیکن ان دو ادیان کی کوئی چیز ان کو پسند نہ آئی، پھر وہ وہاں سے نکلے اورمکہ مکرمہ پہنچنے کے لیے جلدی کی، لیکن جو لخم کے علاقے سے گزرے توان لوگوں نے ان پر حملہ کر کے ان کو قتل کر دیا، ورقہ بن نوفل نے ان کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا: رَشَدْتَّ وَ اَنْعَمْتَ ابْنَ عَمْرٍو وَاِنَّمَا تَجَنَّبْتَ تـَــنُّـــــورًا مِّــــنَ النَّارِ حَامِیَا
بِدِیْنِکَ رَبًّــا لَــیْــسَ رَبٌّ کَـــمِثْــــــلِہِ وَتَرْکِکَ اْوَثَانَ الطَّوَاغِیْ کَمَا ھِیَا
اے ابن عمرو! تو ہدایت پا گیا اور تو نے بہت اچھا کیا اور تو بچ گیا دہکتی ہوئی آگ کے تنور سے ایسے ربّ کو لائقِ عبادت سمجھ کر کہ جس کی طرح کا کوئی ربّ نہیں ہے اور بتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ کر۔
(ملخص از البدایۃ والنھایۃ لا بن کثیر)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں زید بن عمرو کو ملی، وہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے: اے قریشیو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں زید کی جان ہے! تم میں سے کوئی آدمی دین ِ ابراہیمی کا پیروکار نہیںہے، ما سوائے میرے، پھر وہ کہتے: اے اللہ! اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کون سا چہرہ تجھے سب سے پسند ہے تو میں اس کے ذریعے تیری عبادت کرتا۔ … یہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور کہتے: ابراہیم علیہ السلام کا معبود میرا معبود ہے اور ابراہیم علیہ السلام کا دین میرا دین ہے، یہ بچیوں کو زندہ درگور نہیں کرتے تھے، بلکہ جب کوئی آدمی اپنی بچی کو قتل کرنا چاہتا تو یہ اس کو کہتے: اس کو قتل نہ کر، بلکہ مجھے دے دے، میں اس کی کفالت کروں گا، پھر جب یہ بالغ ہو جائے گی تو مجھ سے لے لینایا میرے پاس چھوڑ دینا، جیسے تیری مرضی ہو گی۔
ایک بار یہ اہل کتاب میں دینِ ابراہیمی تلاش کرنے کے لیے شام کی طرف نکلے، مختلف لوگوں سے سوال کرنے کے لیے موصل اور جزیرہ کا گشت کیا، پھر شام کی طرف واپس پلٹے اور بلقاء کی سرزمین میں ایک گرجا گھر میں ایک پادری کے پاس آئے، لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پادری نصرانیت کا مکمل علم رکھتا تھا، انھوں نے اُس سے ابراہیم علیہ السلام کے دینِ حنیف کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: تو ایسے دین کے بارے میں سوال کر رہا ہے کہ آج کوئی بھی اس پر پابند نہیں ہے، اس دین کا علم مٹ چکا ہے اور اس کی معرفت رکھنے والے فوت ہو چکے ہیں، ہاں اب ایک نبی کے ظہور کا وقت ہو چکا ہے، زیدبن عمرو یہودیت اور نصرانت کی طلب میںنکلے تھے، لیکن ان دو ادیان کی کوئی چیز ان کو پسند نہ آئی، پھر وہ وہاں سے نکلے اورمکہ مکرمہ پہنچنے کے لیے جلدی کی، لیکن جو لخم کے علاقے سے گزرے توان لوگوں نے ان پر حملہ کر کے ان کو قتل کر دیا، ورقہ بن نوفل نے ان کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا: رَشَدْتَّ وَ اَنْعَمْتَ ابْنَ عَمْرٍو وَاِنَّمَا تَجَنَّبْتَ تـَــنُّـــــورًا مِّــــنَ النَّارِ حَامِیَا
بِدِیْنِکَ رَبًّــا لَــیْــسَ رَبٌّ کَـــمِثْــــــلِہِ وَتَرْکِکَ اْوَثَانَ الطَّوَاغِیْ کَمَا ھِیَا
اے ابن عمرو! تو ہدایت پا گیا اور تو نے بہت اچھا کیا اور تو بچ گیا دہکتی ہوئی آگ کے تنور سے ایسے ربّ کو لائقِ عبادت سمجھ کر کہ جس کی طرح کا کوئی ربّ نہیں ہے اور بتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ کر۔
(ملخص از البدایۃ والنھایۃ لا بن کثیر)