کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
حدیث نمبر: 10450
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَشْعَرُ بَيْتٍ وَفِي رِوَايَةٍ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: أَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے) اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9072»
حدیث نمبر: 10451
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْشَدَهُ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ فَأَنْشَدَهُ مِائَةَ قَافِيَةٍ قَالَ فَلَمْ أُنْشِدْهُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ إِيهْ إِيهْ حَتَّى إِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَةِ قَافِيَةٍ قَالَ كَادَ أَنْ يُسْلِمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے شعر پڑھے، پس میں نے سو قافیے پڑھ دیئے، میں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا کوئی کلام سناتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور سناؤ، اور سناؤ۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہو جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … امیہ بن ابی صلت نے اتنے عمدہ اشعار کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اشعار پسند کیے، لیکن اس شخص کو اسلام نصیب نہ ہو سکا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10451
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19693»