حدیث نمبر: 10448
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيُطْعِمُ الْمَسَاكِينَ فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ قَالَ لَا يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان دورِ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلاتا تھا، آیایہ نیکیاں اس کے لئے نفع مند ثابت ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عائشہ! اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! روزِ قیامت میرے گناہوں کو بخش دینا۔
وضاحت:
فوائد: … ابن جدعان کی صلہ رحمی اور سخاوت وغیرہ اس کوفائدہ نہیں دے گی، کیونکہ وہ کافر تھا، اس کے یہ دعا نہ کرنے سے مقصودیہ ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس کے عمل ضائع ہو گئے۔