کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: خزاعہ کا قصہ، بیت اللہ کی ولایت کا ان سے نکل کر قصی بن کلاب کو ملنا، عمرو بن لحیی کی خبر اور بتوںکی عبادت کا بیان
حدیث نمبر: 10445
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ أَبُو خُزَاعَةَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑنے والا اور بتوں کی عبادت کرنے والا عمرو بن عامر ہے، یہ خزاعہ قبیلے کا باپ ہے، میں نے اسے دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاںگھسیٹ رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10445
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4258»
حدیث نمبر: 10446
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّائِبَةَ وَبَحَرَ الْبَحِيرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہاتھا، وہ پہلا شخص ہے، جس نے اونٹنیوں کو غیر اللہ کی منت ماننے کی وجہ سے آزاد چھوڑا اور اونٹنیوں کے کان کاٹ کر ان کو چھوڑا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَائِبَۃٍ وَّلَا وَصِیْلَۃٍ وَّلَا حَامٍ وَّلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَاَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۔} … اللہ نے نہ کوئی کان پھٹی اونٹنی مقرر فرمائی ہے اور نہ کوئی سانڈ چُھٹی ہوئی اور نہ کوئی اوپر تلے بچے دینے والی مادہ اور نہ کوئی بچوں کا باپ اونٹ اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۳)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: صحیح بخاری میں ہے: سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کر دیتے تھے، اسے کوئی دو ہتا نہ تھا، سائبہ ان جانوروں کو کہتے تھے، جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے، سواری اور بوجھ سے آزاد کر دیتے تھے، وصیلہ وہ اونٹنی ہے، جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں، ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو، اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کر دیتے تھے۔ حام اس نر اونٹ کو کہتے تھے جس کی نسل سے کئی بچے ہو گئے ہوں، پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10446
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3521، 4623، ومسلم: 2856 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8773»