کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ¤عاربہ: خالص عرب¤مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
حدیث نمبر: 10441
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَإٍ مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمِ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ فَقَالَ بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلُّهَا وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ وہ مرد تھا یا عورت یا زمین کانام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:وہ مرد تھا، اس کے دس بچے تھے، ان میں چھ یمن میں اور چار شام میں آباد ہوئے، پس یمنییہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعری، انمار اور حمیر،یہ سارے کے سارے عرب تھے اور شامییہ ہیں: لخم، جذام، عاملہ اور غسان۔
وضاحت:
فوائد: … دس بچے ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ دس آدمی سبا کی نسل میں سے ہیں،کوئی اس کا بیٹا ہے، کوئی پوتا اور پڑپوتا وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10441
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 423 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2898»
حدیث نمبر: 10442
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُ بِمُقْبِلِ قَوْمِي مُدْبِرَهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَاتِلْ بِمُقْبِلِ قَوْمِكَ مُدْبِرَهُمْ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ لَا تُقَاتِلْهُمْ حَتَّى تَدْعُوَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ سَبَأً أَوَادٍ هُوَ أَوْ جَبَلٌ مَا هُوَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ هُوَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ وُلِدَ لَهُ عَشَرَةٌ فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ تَيَامَنَ الْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَحِمْيَرٌ وَكِنْدَةُ وَمَذْحِجٌ وَأَنْمَارٌ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمْ بَجِيلَةُ وَخَثْعَمُ وَتَشَاءَمَ لَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے مسلمان ہونے والے افراد کو لے کر اس کے اسلام قبول نہ کرنے والے افراد سے جہاد کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، تو اپنی قوم کے مسلمانوں کو لے کر اپنی قوم کے کافروں سے لڑائی کر۔ پھر جب میں جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: تو نے اس وقت تک ان سے قتال نہیں کرنا، جب تک ان کو اسلام کی دعوت نہ دے دے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سبأ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، یہ وادی کا نام ہے یا کوئی پہاڑ ہے؟ یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تو ایک آدمی تھا، اس کے دس بچے پیدا ہوئے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں بسے، یمن میں آباد ہونے والے ازد، اشعری، حمیر، کندہ، مذحج اور انمار ہیں، مؤخر الذکرکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بجیلہ اور خثعم بھی ان میں سے ہیں، اور شام میں آباد ہونے والے لخم، جذام، عاملہ اور غسان ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10442
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 18/ 834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 000/88 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24306»
حدیث نمبر: 10443
عَنْ ذِي مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَسَيَعُودُ إِلَيْهِمْ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعٌ وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ عَلَى الْإِسْتَوَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریبیہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخریالفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث میں مذکورہ حروفِ مقطعات (وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ) سے مراد وَسَیَعُوْدُ اِلَیْھِمْ ہے۔ حمیریمن میں آباد ہونے والے عرب تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے پتہ چل رہا ہے، مشہور یہ ہے کہ یہ قحطان سے ہیں، ارطاۃ بن منذر تابعی نے کہا: قحطانی لوگ امام مہدی کے بعد نمودار ہوں گے اور امام مہدی کی سیرت اختیار کریں گے، درج ذیل حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) … قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ ایک قحطانی آدمی نکلے اور اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانکے (یعنی حکومت کرے گا)۔ (صحیح بخاری: ۳۲۵۶، صحیح مسلم: ۵۱۸۲)
قریشی تقریبا ابتدائی چھ صدیوں تک حکومت کر تے رہے، بالآخر دین سے انحراف کرنے کی وجہ سے تاتاریوں نے ان کی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10443
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد، أخرجه الطبراني في الكبير : 4227 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16952»