حدیث نمبر: 10439
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مِرَارٍ وَلَكِنْ قَدْ سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ كَانَ الْكِفْلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يَتَوَرَّعُ مِنْ ذَنْبٍ عَمِلَهُ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ يَطَأَهَا فَلَمَّا قَعَدَ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ أَرْعَدَتْ وَبَكَتْ فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ أَكْرَهْتُكِ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ هَذَا عَمَلٌ لَمْ أَعْمَلْهُ قَطُّ وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَيْهِ الْحَاجَةُ قَالَ فَتَفْعَلِينَ هَذَا وَلَمْ تَفْعَلِيهِ قَطُّ قَالَ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ اذْهَبِي فَالدَّنَانِيرُ لَكِ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا يَعْصِي اللَّهَ الْكِفْلُ أَبَدًا فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ مَكْتُوبًا عَلَى بَابِهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لِلْكِفْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سنی، اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بار، یا دو بار، یہاں تک کہ انھوں سات بار کا ذکرکیا، بلکہ میں نے اس سے بھی زیادہ دفعہ سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کفل کا تعلق بنو اسرائیل سے تھا، وہ کسیگناہ سے نہیں بچتا تھا، ایک دن ایک خاتون اس کے پاس آئی، اس نے اس کو اس شرط پر ساٹھ دینار دیئے کہ وہ اس سے زنا کرے گا، پس جب وہ اس خاتون سے خاوند کی طرح بیٹھ گیا تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی اور وہ رونے لگ گئی، اس نے کہا: تو کیوں رو رہی ہے، کیا میں نے تجھے مجبور کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ میں نے یہ جرم کبھی بھی نہیںکیاتھا، بس آج حاجت نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہے، اس نے کہا: تو اب یہ جرم کر رہی ہے، جبکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسے نہیں کیا، پھر وہ اس سے ہٹ گیا اور کہا: تو چلی جا اور یہدینار بھی تیرے ہیں، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! اب کفل کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرے گا، پھر وہ اسی رات کو مر گیا، صبح کے وقت اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کفل اور ذوالکفل دو الگ الگ نام ہیں، اللہ تعالیٰ نے سورۂ انبیاء اور سورہ ٔ ص میں انبیائے کرام کے ساتھ ذوالکفل کا ذکر کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی نبی تھا، بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ذوالکفل کوئی نیک اور انصاف پرست حکمران تھا، نبی نہیں تھا۔
کفل کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ یہ کوئی گنہگار آدمی تھا، پھر اس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرلی، مذکورہ بالا ضعیف حدیث میں اسی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
کفل کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ یہ کوئی گنہگار آدمی تھا، پھر اس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرلی، مذکورہ بالا ضعیف حدیث میں اسی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔