کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ماشطہ بنت فرعون اور گہوارے میں کلام کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 10432
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا أَتَتْ عَلَيَّ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ فَقَالَ هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا قَالَ قُلْتُ وَمَا شَأْنُهَا قَالَ بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَقَطَتِ الْمِدْرَى مِنْ يَدَيْهَا فَقَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ أَبِي قَالَتْ لَا وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ قَالَتْ أُخْبِرُهُ بِذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا فَقَالَ يَا فُلَانَةُ وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي قَالَتْ نَعَمْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ (وَفِي رِوَايَةٍ رَبِّي وَرَبُّكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ) فَأَمَرَ بِبَقَرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا قَالَتْ لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ وَمَا حَاجَتُكِ قَالَتْ أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ وَلَدِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَتَدْفِنَنَا قَالَ ذَلِكَ لَكِ عَلَيْنَا مِنَ الْحَقِّ قَالَ فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنِ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ وَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ فَقَالَ يَا أُمَّهْ اقْتَحِمِي فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَاقْتَحَمَتْ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَكَلَّمَ أَرْبَعَةُ صِغَارٍ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَشَاهِدُ يُوسُفَ وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کی بات ہے، مجھے بڑی پاکیزہ خوشبو محسوس ہوئی، میں نے کہا: اے جبریل! یہ پاکیزہ خوشبو کیسی ہے؟ اس نے کہا: یہ ماشطہ بنت فرعون اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے کہا: اس کا واقعہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ایک دن وہ فرعون کی کسی بیٹی کی کنگھی کر رہی تھی، اچانک ہی جب کنگھی اس کے ہاتھ سے گری تو نے کہا: بسم اللہ، فرعون کی بیٹی نے کہا: بسم اللہ میں اللہ سے مراد میرا باپ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے مراد میرا اور تیرا ربّ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: اس سے مراد میرا اور تیرا وہ ربّ ہے، جو آسمانوں میں ہے ۔ اس نے کہا: کیا میں اپنے باپ فرعون کو یہ بات بتا دوں؟ اس نے کہا: جی بالکل، پس اس نے اس کو بتا دی، اس نے اپنی اس مسلمان بیٹی کو بلایا اور کہا: اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، بلکہ میرا ربّ بھی ہے اور تیرا بھی اور وہ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: میرا اور تیرا ربّ وہ جو آسمانوںمیں ہے، پس فرعون نے تانبے کی گائے کی شبیہ تیار کروائی، اس کو گرم کیا گیا، پھر اس نے حکم دیا کہ اس کو اور اس کی اولاد کو اس گائے میں ڈال دیا جائے۔ ماشطہ نے کہا: تیرے ذمے میری ایک ضرورت ہے، اس نے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میں پسند کرتی ہوں کہ تو میری ہڈیاں اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کروا کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کی بات ہے، مجھے بڑی پاکیزہ خوشبو محسوس ہوئی، میں نے کہا: اے جبریل! یہ پاکیزہ خوشبو کیسی ہے؟ اس نے کہا: یہ ماشطہ بنت فرعون اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے کہا: اس کا واقعہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ایک دن وہ فرعون کی کسی بیٹی کی کنگھی کر رہی تھی، اچانک ہی جب کنگھی اس کے ہاتھ سے گری تو نے کہا: بسم اللہ، فرعون کی بیٹی نے کہا: بسم اللہ میں اللہ سے مراد میرا باپ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے مراد میرا اور تیرا ربّ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: اس سے مراد میرا اور تیرا وہ ربّ ہے، جو آسمانوں میں ہے ۔ اس نے کہا: کیا میں اپنے باپ فرعون کو یہ بات بتا دوں؟ اس نے کہا: جی بالکل، پس اس نے اس کو بتا دی، اس نے اپنی اس مسلمان بیٹی کو بلایا اور کہا: اے فلانہ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی ربّ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، بلکہ میرا ربّ بھی ہے اور تیرا بھی اور وہ اللہ ہے، ایک روایت میں ہے: میرا اور تیرا ربّ وہ جو آسمانوںمیں ہے، پس فرعون نے تانبے کی گائے کی شبیہ تیار کروائی، اس کو گرم کیا گیا، پھر اس نے حکم دیا کہ اس کو اور اس کی اولاد کو اس گائے میں ڈال دیا جائے۔ ماشطہ نے کہا: تیرے ذمے میری ایک ضرورت ہے، اس نے کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے کہا: میں پسند کرتی ہوں کہ تو میری ہڈیاں اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کروا کر
وضاحت:
فوائد: … عیسی بن مریم علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کے بعد جب لوگوں نے سیدہ مریم علیہا السلام کے بارے تہمت زدہ باتیں کیں، اس وقت عیسی علیہ السلام نے کلام کیا تھا، سورۂ مریم کے اوائل میں یہ واقعہ موجود ہے۔
صاحب ِ جریج کا ذکر حدیث نمبر (۱۰۴۳۴) میں آ رہا ہے۔
یوسف علیہ السلام کے گواہ کا واقعہ یہ ہے: یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے یوسف علیہ السلام کو برائی کی دعوت دی تھی،یوسف علیہ السلام پاکدامن رہنے کے لیے باہر دوڑے اور کیا دیکھا کہ دروازے پر عزیز مصر موجود ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاء ُ مَنْ اَرَادَ بِاَہْلِکَ سُوْء ًا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ہِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہْلِہَا اِنْ کَانَ قَمِیْصُہ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ۔} … اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی اور دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا، اس عورت نے کہا کیا جزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ اسے قید کیا جائے،یا دردناک سزا ہو۔ اس (یوسف) نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے اور اس عورت کے گھر والوں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کی قمیص آگے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے سچ کہا اور یہ جھوٹوں سے ہے۔ (سورۂ یوسف: ۲۵، ۲۶)
حافظ ابن کثیر نے کہا: یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی، پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا، اس نے زور سے اپنی طرف گھسیٹا، جس سے یوسف علیہ السلام پیچھے کی طرف گر جانے کے قریب ہوگئے، لیکن پھر آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی، اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بری طرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے، دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے، اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف علیہ السلام کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی، سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: فرمائیے حضور جو آپ کی بیوی سے بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہو سکتی۔ اب جب کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کر دینے کے لیے فرمایا کہ حقیقتیہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی،یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو، اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے، اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے، روکا منع کیا ہٹایا، اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بے گناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے، فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہو نے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی،یہ اس سے بھاگا، وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا، اس نے اپنی طرف گھسیٹا، اس نے اپنی جانب کھینچا، وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیںیہ گواہ بڑا آدمی تھا، جس کے منہ پر داڑھی تھی،یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا، زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی۔ لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے معلوم ہو رہا ہے کہہ یہ شیر خوار بچہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية / حدیث: 10432
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 12280، وابن حبان: 2903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2821»